برطانوی اخبار دی ڈیلی ٹیلی گراف نے ’غلط بیانی‘ کرنے پر ملانیا ٹرمپ سے معافی مانگ لی

ملانیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹیلیگراف اخبار نے غلط بیانی کرنے پر ملانیا ٹرمپ سے معافی مانگ لی

برطانوی اخبار دی ڈیلی ٹیلی گراف نے گذشتہ ہفتے چھپنے والے ایک مضمون پر ملانیا ٹرمپ سے ’غیر مشروط‘ معافی مانگی ہے اور اُن کو حرجانہ ادا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ادارے نے تسلیم کیا ہے کہ اُن کے میگزین میں شائع ہونے والے کالم ’مسٹری آف ملانیا‘ میں متعدد دعوے غلط تھے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کی خاتون اول کون؟

ٹرمپ کے ساتھ تعلقات: ’پورن سٹار کو ایک لاکھ ڈالر دیے گئے‘

صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے بارے میں کیا مذاق کیا؟

اُس کالم میں لکھا گیا تھا کہ ’امریکی خاتونِ اول کا ماڈلنگ کرئیر اپنے شوہر سے ملنے سے پہلے بڑی مشکل میں تھا اور یہ بھی کہ وہ امریکی انتخابات کی رات کو روئی تھیں‘۔

اخبار نے تسلیم کیا کہ اُن کو یہ باتیں نہیں چھاپنی چاہیے تھیں اور مزید یہ بھی کہا کہ وہ ملانیا ٹرمپ کی جانب سے اخبار پر کیے گئے مقدمے کے اخراجات بھی ادا کریں گے۔

سنیچر کو چھپنے والی معافی میں ٹیلی گراف نے یہ اقرار کیا کہ ملانیا ’اپنے شوہر سے ملنے سے پہلے ایک کامیاب پیشہ ور ماڈل تھیں جنہیں اپنے بل بوتے پر اپنے شوہر کی مدد کے بغیر کام ملا۔‘

ٹیلی گراف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اُن کا ملانیا ٹرمپ کے والد، والدہ اور بہن کے بارے میں وہ بیان غلط تھا جس کے مطابق ’وہ 2005 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت والی عمارتوں میں رہائش کے لیے نیو یارک آئے تھے‘۔

اخبار میں شائع ہونے والی معافی نامے میں یہ بھی لکھا گیا کہ ملانیا کے والد ایک ’خوفناک شخصیت‘ کے مالک نہیں تھے اور وہ ’اپنے خاندان کو کنٹرول نہیں کرتے تھے‘۔

ٹیلی گراف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’ملانیا ٹرمپ نے کالج میں اپنا ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کا کورس امتحان مکمل نہ کرنے کی وجہ سے نہیں چھوڑا تھا جیسا کہ مضمون میں لکھا گیا تھا بلکہ اِس لیے چھوڑا تاکہ وہ ماڈلنگ میں اپنا کرئیر بنانا چاہتی تھیں‘۔

اسی بارے میں