کیا آپ نے بھی شہزاد غیاث عرف سمینتھا گیری کو اپنے گھر مدعو کیا تھا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سمینتھا کون ہیں اور کہاں سے آئیں؟

سنتھیا ڈی رچی کے بعد اب سمینتھا اے گیری بھی پاکستان آرہی ہیں!

اگر آپ کو نہیں معلوم کہ یہ خواتین کون ہیں تو شاید آپ سوشل میڈیا باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے۔ کر رہے ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ گذشتہ ہفتے پاکستانی ٹوئٹر صارفین ان ہی دو سفید فام خواتین کے پیچھے ہاتھ پیر دھو کر پڑ گئے تھے۔

لیکن ان میں سے صرف ایک خاتون حقیقی ہیں۔

سنتھیا ڈی رچی کے بارے میں مزید جانیے

پاکستانی ٹوئٹر پر ’سنتھیا‘ کا نام کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

پاکستان کے نئے ’سفید فام مداح‘

ٹوئٹر پر عوام نے جب یہ سنا کہ ایک اور غیر ملکی دوشیزہ سر زمینِ پاکستان پر قدم رکھنے لگی ہیں تو انھوں نے روایتی حُب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دل اور دروازے ان کے لیے وا کر دیے لیکن تعجب کی بات یہ تھی کہ سمینتھا اے گیری نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ گذشتہ ہفتے ہی بنایا گیا تھا اور اسے بہت ہی کم وقت میں کافی پذیرائی مل گئی۔

نہ صرف ان کے اکاؤنٹ پر دیا گیا نام غیر ملکی ہے بلکہ اکاؤنٹ پر موجود تصویر بھی ان کے سفید فام ہونے کا عندیہ دیتی ہے۔

پھر کیا تھا، سوشل میڈیا صارفین نے اکاؤنٹ کی مزید تصدیق کیے بغیر اصرار کیا کہ سمینتھا پاکستان آئیں اور انھیں یقین دلایا کہ وہ یہاں محفوظ رہیں گی۔ بلکہ کچھ لوگوں نے تو ان کی حفاظت کی ذاتی طور پر ضمانت بھی دے ڈالی۔

Image caption سمینتھا کی حفاظت کرنے کے ایک دعوےدار

پھر چند لوگوں نے اس اکاؤنٹ کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی۔ لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس بات پر کان نہ دھرے۔ بلکہ سمینتھا کو اپنے گھر مدعو کرنے اور اپنا ذاتی موبائل نمبر بھیجنے میں مصروف رہے۔ سمینتھا کے اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد برق رفتاری سے بڑھنے لگی۔

ایسا لگنے لگا کہ سمینتھا کے پاس ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے اور ان کے آتے ہی ملک میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو جائے گی، چڑیاں چہچہانے لگیں گی، بادل چھٹ جائیں گے اور نئے پاکستان کا سورج آخر کار طلوع ہو جائے گا۔

Image caption سمینتھا کی تصویر سٹاک ویبسائیٹ سے لی گئی

سمینتھا گیری نے ٹویٹ کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا عزم ظاہر کیا اور انڈیا کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین کے لیے انڈیا کی نسبت پاکستان ایک محفوظ جگہ ہے۔

ٹوئٹر پر سمینتھا کی بڑھتی شہرت کی وجہ نہ صرف انڈیا مخالف ٹویٹس تھیں مگر پاکستانی لوگوں کے خلوص اور مہمان نوازی سے متعلق ٹویٹس نے بھی بہت سے ٹوئٹر صارفین کو سمینتھا کا مداح بنا دیا۔ کچھ صارفین تو سمینتھا کے حوالے سے اتنا فکر مند ہوگئے کہ معاشرے سے مطابقت رکھنے والا لباس زیب تن کرنے کی تجویز بھی دے ڈالی۔

بیشتر ٹوئٹر صارفین کے پیروں کے نیچے سے اس وقت زمین نکل گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ سمینتھا گیری دراصل ایک فرضی کردار ہے۔ اس اکاؤنٹ کو درحقیقت پاکستانی مزاحیہ فنکار شہزاد غیاث نے بنایا۔ شہزاد غیاث نے یہ اکاؤنٹ بطور ایک سوشل ایکسپیریمنٹ بنایا۔

سمینتھا کے اکاؤنٹ کی حقیقت منظرِ عام پر آنے کے بعد چند لوگوں نے اس اکاؤنٹ کے جعلی ہونے کی پہلے نشاندہی کرنے پر اپنی ذہانت کے گُن گائے۔ جبکہ بیشتر دل شکستہ لوگوں نے شہزاد غیاث کو جعلی اکاؤنٹ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوئٹر کا جعلی فالوورز کے خلاف کریک ڈاؤن

اسرائیلی فوجی ’لڑکیوں‘ کے شکنجے میں

لڑکیاں نہیں روبوٹس ہیں

سمینتھا کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد بی بی سی نے شہزاد غیاث سے رابطہ کیا اور چند سوال ان کے سامنے رکھے۔

سمینتھا اے گیری کا اکاؤنٹ بنانے کے پیچھے کیا سوچ تھی؟

اس حوالے سے شہزاد غیاث نے بی بی سی اردو کو بتایا ’ پاکستان میں کچھ عرصہ سے غیر ملکی لوگ آرہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو پاکستانیوں سے زیادہ جانتے ہیں اسی سوچ نے مجھے مجبور کیا کہ میں طنز و مزاح پر مبنی ایک آکاؤنٹ بناؤں۔‘

’اس اکاؤنٹ کا مقصد پاکستانیوں کو یہ باور کروانا تھا کہ پاکستانیوں میں عمومی طور پر ایک ’وائٹ سیویئر کمپلیکس’ پایا جاتا ہے جس سے مراد گوری چمڑی کو مسیحا ماننے کی بیماری ہے۔ جبکہ ہم بھی اتنے خود مختار ہیں کہ اپنی مدد آپ کرسکتے ہیں۔‘

اس اکاؤنٹ کی مدد سے آپ نے پاکستانیوں میں کون کون سے دلچسپ رجحانات دیکھے؟

شہزاد غیاث کا کہنا تھا ’ایک طبقہ ہمارے معاشرے میں ایسا ہے جو گوری چمڑی کو دیکھ کر ان کی ہر کہی بات کو سچ مان لیتا ہے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ میں نے عقل سے خالی ٹویٹ کی اور لوگ اسے بغیر پڑھے ری ٹویٹ کردیتے تھے۔‘

’اس سوچ کا انکشاف کرنے میں بھی بہت لطف ملا کہ امیر اور معروف شخصیات جو مجھ سے عام طور پر بات بھی نہیں کرتے وہ بھی مجھے۔۔۔۔ میرا مطلب سمینتھا کو اپنے گھر پارٹی کے لیے دعوت دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی اور جھوٹی خبریں باآسانی پھیلنے کا بھی تشویشناک انکشاف ہوا۔ ‘

لیکن طنز اور مزاح میں بعض اوقات غلط فہمیاں جنم لے لیتی ہیں۔ کیا آپ کے پاس اپنے اس ’کھیل‘ کی کوئی وضاحت ہے؟

اس سوال کے جواب میں شہزاد غیاث نے کہا ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں ان بین الاقوامی سیاحوں کے پاکستان آنے کے حق میں ہوں پر عوام کا ان کو مسیحا مان لینا ان کی رنگت کی بنیاد پر غلط ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں تو ان تمام خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ اس بات کا احساس مجھے لگاتار چار دن غیر مہذب موصول ہونے والے ذاتی پیغامات سے ہوا جن میں کئی لوگوں نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی ہوئی تھی اور کئی لوگوں نے اپنے موبائل نمبر بھیجے ہوئے تھے۔‘

اسی بارے میں