مائیکل جیکسن: دستاویزی فلم ’لیونگ نیورلینڈ‘ میں گلوکار پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات

مائیکل جیکسن تصویر کے کاپی رائٹ BBC Sport

ایک نئی دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن نے کمسن لڑکے کو جنسی افعال سرانجام دینے کے عوض زیورات دیے تھے۔

'لیونگ نیورلینڈ' نامی یہ 'تباہ کن' دستاویزی فلم امریکی ریاست یوٹاہ میں منعقد ہونے والے سن ڈانس فلم فیسٹیول میں دکھائی جا رہی ہے۔

اس دستاویزی فلم میں مرکزی کردار ان دو مردوں کا ہے جن کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن نے انھیں بچپن میں جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

'میرے والد کو قتل کیا گیا تھا'، پیرس جیکسن کا دعویٰ

بل کوسبی جنسی زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار

’روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PatRyanWrites
Image caption پیٹرک رائین کی ٹویٹ

مائیکل جیکسن کے لواحقین نے یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے گلوکار کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔

مائیکل جیکسن جون 2009 میں فوت ہوئے تھے۔

دستاویز میں شامل حضرات، ویڈ رابسن اور جیمز سیفچک کہتے ہیں کہ ان کی عمریں دس سال تھیں جب مائیکل جیکسن نے انھیں اور ان کے خاندانوں کو اپنا دوست بنا لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویڈ رابنسن، جنھوں نے لیونگ نیورلینڈ میں انکشافات کیے ہیں

اب یہ دونوں 30 کے پیٹے میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن نے انھیں جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

مائیکل جیکسن کی زندگی میں بھی ان پر اسی قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم وہ ہمیشہ ان کا انکار کرتے رہے ہیں۔

پولیس نے 2003 میں اسی قسم کے ایک الزام کی تفتیش کے سلسلے میں ریاست کیلی فورنیا میں واقع ان کے بنگلے پر چھاپہ مارا تھا۔

جب عدالت میں یہ مقدمہ چلا تو ویڈ رابنسن گواہوں میں شامل تھے۔ انھوں نے حلف اٹھا کر کہا کہ مائیکل جیکسن نے ان سے بدسلوکی نہیں کی اور مقدمہ خارج ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کے بعد رابنسن ایک بچے کے باپ بن گئے اور ان کا دو بار نروس بریک ڈاؤن ہوا، جس کے بعد انھوں نے ایک ماہرِ نفسیات کے سامنے اپنا تاریک راز افشا کیا جسے وہ اب تک چھپائے ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں لگا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

سال 2013 میں انھوں نے مائیکل جیکسن کے سٹیٹ کے خلاف اسی الزام کے تحت مقدمہ دائر کر دیا کہ ان سے جنسی بدسلوکی ہوئی تھی لیکن جج نے فیصلہ دیا کہ انھوں نے قانونی چارہ جوئی کرنے میں بہت دیر لگا دی تھی۔

اس دستاویزی فلم کی ہدایات ڈین ریڈ نے دی ہیں۔ رپورٹر ایڈم بی ویری فلم کی نمائش کے موقعے پر موجود تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ویڈ رابنسن اور جیمز سیفچک کے لیے لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ اس پر بعد میں بہت کچھ کہا جائے گا لیکن میں یہ کہہ دوں کہ یہ فلم بندی کا بہت تباہ کن اور بہت قابلِ اعتبار نمونہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PatRyanWrites
Image caption نیویارک پوسٹ کی صحافی فرینسیسکا بریکاڈی کی ٹویٹ۔

فلمی ناقد مارا رائنسٹائن نے کہا: 'حیران کن! ہم سب غلط تھے جو مائیکل جیکسن کے لیے تالیاں بجاتے تھے۔'

تاہم چونکہ اس سے پہلے رابنسن اور سیفچک دونوں مائیکل جیکسن کی حمایت میں کہہ چکے ہیں کہ انھیں کبھی بدسلوکی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس لیے بعض لوگوں نے فلمی میلے سے کہا کہ وہ اس فلم کی نمائش روک دیں۔

مائیکل جیکسن کے سٹیٹ نے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ فلم 20 سال پرانے غیرمصدقہ الزامات اٹھا کر انھیں بطور حقائق پیش کر رہی ہے۔'

اسی بارے میں