انڈیا میں جنسی غلام بنائی جانے والی لڑکیوں پر فلم ’لو سونیا‘

فلم تصویر کے کاپی رائٹ LOVE SONIA
Image caption یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور ایسی لڑکی کہانی ہے جسے بچایا گیا تھا

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ سے شہرت پانے والی اداکارہ فریدہ پنٹو نے ایک نئی فلم میں کام کیا ہے جو سیکس کے لیے سمگل ہونے والے لڑکیوں کے بارے میں ہے۔

انھوں نے ’لو سونیا‘ نامی فلم میں رشمی کا کردار ادا کیا جو ممبئی میں ایک جنسی غلام کے طور پر کام کرتی ہے۔

یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور ایسی لڑکی کی کہانی ہے جسے بچایا گیا تھا۔

فلم میں کام کرنے والے اداکارہ فریدہ پنٹو کا کہنا تھا ’سلم ڈاگ ملینیئر کےبعد میں اس فلم میں اپنے کردار سے محبت میں مبتلا ہو گئی۔‘

یہ بھی پڑھیئے

نوجوان روہنگیا لڑکیوں کی سیکس کے لیے سمگلنگ

انڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک

’ہمارا معاشرہ روز بروز بیمار ہوتا جا رہا ہے‘

’اس فلم کو بننے میں 10 سال لگ گئے۔ میں نے اس کا سکرپٹ سنہ 2008 میں پڑھا تھا۔ میں اس وقت اس کہانی سے کافی متاثر ہوئی تھی اس وقت امریکہ میں بھی بچوں کے لاپتہ ہوجانے کا مسئلہ تھا۔‘

Image caption فریدہ نے نے اس فلم کا سکرپٹ سنہ 2008 میں پڑھا تھا

’جب کوئی گم ہو جاتا ہے تو آپ سوچتے ہیں کہ وہ آخر کہاں گیا ہوگا۔ انہیں کہاں بھیجا گیا ہوگا، انہیں کہاں بیچا گیا ہو گا۔‘

فریدہ پنٹو کا کہنا تھا کہ ’یہ فلم اس وقت تک حالات کے مطابق رہے گی جب تک اس جدید دور کی غلامی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘

’میرے لیے ایک فنکارہ کی حیثیت سے رشمی کا کردار ادا کرنا گویا کسی خواب کا سچ ہونا تھا۔ آپ ہر طرح کی عورت کا کردار پیش کر سکتے ہیں۔‘

فلم کے ہدایت کار تبریز نورانی کا کہنا تھا ’اگرچہ فلم نے انڈیا میں اچھا کاروبار نہیں کیا لیکن کم از کم اس نے وہاں اس موضوع پر بحث کا آعاز کر دیا ہے۔ لوگ اب اس پر بات کر رہے ہیں۔ اور اس سے آگہی پھیل رہی ہے۔ ‘

انڈیا میں روزانہ 270 عورتیں اور لڑکیاں لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ اس مسئلے نے ہدایت کار تبریز نورانی کو یہ خیال دیا کہ وہ اس مسئلے پر فلم بنائیں۔

فلم میں کام کرنے والی ایک دوسری اداکارہ رچا چڈھا کا کہنا ھا ’لڑکیوں کی سمگلنگ انڈیا میں ایک بحث بڑا مسئلہ ہے۔ آپ اغوا ہونے والی لڑکیوں کے پوسٹر ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘

’چاہے وہ بس ٹاپ ہوں، شاپنگ مال ہوں یا ریلوے سٹیشن ہوں اور اسے چیز نے ہدایت کار کو متاثر کیا اور انھوں نے تحقیق کر کے یہ فلم بنائی۔‘

خود ہدایت کار تبریز نورانی کا کہنا تھا ’میرے خیال میں دس سال پہلے ایسی فلم انڈیا میں ریلیز ہی نہ ہو پاتی۔‘

اسی بارے میں