ہادیہ ہاشمی :اسلام پورہ سے نیس کیفے بیسمنٹ تک کا سفر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ہادیہ ہاشمی کے دوست ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ نیس کیفے بیسمنٹ میں کیسے چلی گئیں

لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے مرکزی بازار میں داخل ہوں تو رنگ رنگ کی دکانوں اور دھول سے اٹی سڑکوں پر رینگتی ٹریفک کا شور استقبال کرتا ہے۔ اس شور کے بیچوں بیچ بھول بھلیوں جیسی گلیوں میں رستہ بناتے رہائشی علاقے میں نکل آئیں تو ایک پرانی کثیر منزلہ عمارت کا زینہ چڑھتے ہوئے، سانس پھولتی نہیں بلکہ بحال ہونے لگتی ہے۔

یہاں باہر کا شور سمٹ کر کہیں اور کی راہ لیتا ہے۔ ’سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا۔۔۔ کی ترتیب وار لے تکان کو کوسوں دور لے جاتی ہے۔ یہ موسیقی کی سرتال اکیڈمی ہے اور یہاں شور کا کچھ کام نہیں۔

دیواروں پر تازہ اشتہاری پینٹ بتاتا ہے کہ اس ایک ہال نما کمرے کو حال ہی میں سنوارا گیا ہے۔ طبلے کی جوڑی، ڈھولک اور ہارمونیم کے کلاسیکل سازوں کے ساتھ ہی دو چار گٹار بھی دیوار سے ٹکے ہیں۔

چھ سے دس برس کی عمر کے آٹھ کے قریب بچے نیم دائرے میں دنیا و مافیہا سے بے خبر سرگم ’پکی‘ کرنے میں یوں گم تھے کہ کیمرے سمیت وارد ہونے والی بی بی سی کی ٹیم ان کا دھیان نہ بٹا سکی۔

بچوں میں ایک آواز اور چہرہ نمایاں تھا۔ وہی موہنی صورت اور بلند آواز جو نیس کیفے کے بیسمنٹ سے نکل کر انٹرنیٹ کی وسیع دنیا پر کچھ دن سے چھائی دکھائی دی ہے۔

سیدہ ہادیہ ہاشمی گا رہی تھیں اور انھیں دیکھ کر لگا یہ اس کام کے سوا کوئی کام جانتی ہی نہیں۔

جب ان سے بات ہوئی تو ان کی خود اعتمادی نے اس تاثر کی نفی کی اورمعلوم ہوا کہ وہ جتنا جم کر گاتی ہیں اتنا ہی دبنگ انداز میں بات بھی کرتی ہیں اور مسکرائے بنا ان کی کوئی بات نہیں بنتی۔

انھیں اپنی آواز کی مقبولیت کا خوب اندازہ ہے۔ ’میرے دوست مجھ سے یہی کہتے ہیں کہ یہ آواز تم کہاں سے نکالتی ہو اور ہمیں بھی بتا دو کہ تم نیس کیفے بیسمنٹ چلی کیسے گئیں۔‘

اسلام پورہ کا یہی وہ مقام ہے جہاں ہادیہ کا نیس کیفے بیسمنٹ کے پانچویں سیزن کے لیے آڈیشن ہوا تھا اور گلوکار سجاد علی کا گانا پوری دلجمعی سے گاتی ہوئی ہادیہ نے اس وقت میوزک پروڈیوسر زلفی کو اتنا جذباتی کیا کہ وہ آنسو نہ روک پائے۔

یہاں موجود موسیقی کے استاد ضیاالحق کا کہنا ہے کہ ہادیہ کے والد انھیں اکیڈمی لے کر آئے اور وہ پہلی بار میں ہی ان کی پچ سے متاثر ہوئے اور انھیں لگا کہ ان کی تربیت کی جائے تو ان کی آواز یہاں سے نکل کر دور تلک جائے گی۔

اور پھر جو سوچا تھا، وہی ہوا۔ نیس کیفے بیسمنٹ نے پانچویں سیزن کے لیے ٹیلنٹ کنگھالا تو اسلام پورہ میں ان کی تلاش تمام ہوئی۔

یہاں موجود ہادیہ کے علاوہ چھ سالہ فضہ، شجاعت، ابو بکر اور ان سے قدرے عمر میں بڑی سمعیہ اپنی گلوکاری کے لیے منتخب ہوئے اور ثقلین نے پیانو پر ان کا ساتھ دیا جبکہ پہلی جماعت کے طالب علم علی عمران نے کچھ گا کر نہیں سنایا بلکہ بجا کر دکھایا۔۔۔۔ اپنے قد سے لمبا ڈھول۔ اور اسلام پورہ کے یہ بچے نیس کیفے بیسمنٹ سٹارز بنے۔

ننھے گلوکاروں کی مشق کے دوران پیچھے دیوار سے ٹکے سید ضیا الدین ہاشمی، ہادیہ کے والد ہیں۔ ضیا الدین خود پیشے سے درزی ہیں۔

ہادیہ کے موسیقی کے شوق کے متعلق بات ہوئی تو کہنے لگے کہ وہ مختلف تقریبات میں نعتیں پڑھتی تھیں۔

’خود مجھے تو اس کام کی الف بے بھی نہیں آتی۔ ہادیہ نے ایک دن مجھ سے کہا میں اسے جنید جمشید کی ایک نعت کی تیاری کروا دوں ، میں نے کہا بیٹا مجھے آتی تو نہیں ہے، کوشش کرتے ہیں۔‘

Image caption سیدہ ہادیہ ہاشمی گا رہی ہوں تو انھیں دیکھ کر لگتا ہے یہ اس کام کے سوا کوئی کام جانتی ہی نہیں

اور پھر ذرا سی کوشش پر ہادیہ نے پہلا انعام جیت لیا تو وہ اسے باقاعدہ سکھانے پر رضامند ہو گئے۔

ہادیہ مشق سے فارغ ہوئیں تو ایک پختہ گلوکارہ کی جگہ آٹھ سالہ بچی نے فوراً ہی لے لی۔ اپنے گانے ’بول ہو‘ کی ریکارڈنگ کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ انھیں اس بات کی بہت خوشی ہے کہ ’اس دن ڈانٹ نہیں پڑی۔‘

آڈیشن والے دن پروڈیوسر زلفی کے رو دینے کا منظر بھی خوب ہنستے ہنستے سناتی رہیں۔ ’جب میں نے زلفی بھائی کو سر سجاد علی کا گانا سنایا تو وہ رونے لگے، ان سے پھر بات ہی نہیں کی گئی۔‘

بچپنے کی ان باتوں پر استاد ضیا الحق بھی شامل ہوئے اور بتایا کہ ہادیہ کی خواہش ہے کہ ان کا گانا کبھی ان کا فیورٹ کارٹون کریکٹر ڈورے موں سن لے۔

اسلام پورہ کے یہ سات بچے اپنے استاد کی مدد سے سات سروں کے تال میل سے زندگی بُننے کی ابتدا کر چکے ہیں۔ ایسے ہی کئی باصلاحیت بچوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر کئی چھوٹی بڑی گلیوں سے وائرل ہوتی ہیں لیکن ان کی آواز اور ان کا ساز استاد کی کھوج میں رہتا ہے۔

استاد ضیا الحق اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی بچہ اسلام پورہ کی سر تال اکیڈمی چلا آئے تو دروازہ کھلا ملے گا۔

اسی بارے میں