’ایک طبلہ نہ بجے تو 14 بندے بھوکے رہ جاتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
حاجی اختر علی: ’ڈی جے کے آنے سے فرق پڑا ہے، مگر وہ موسیقی نہیں ہے‘

’قوالوں کے ساتھ 14 بندے ہوتے ہیں ،ایک طبلہ نہ بجے تو چودہ کے چودہ بندے بھوکے رہ جائیں گے۔‘

یہ کہنا ہے 67 سالہ حاجی اختر علی کا جو طبلہ بنانے کے فن میں مہارت رکھتے ہیں۔

ان کے لیے طبلہ ایک محبوب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حاجی اختر علی کا تعلق وزیر آباد کے نواحی گاوں دھونکل سے ہے جس کی وجہ شہرت وہاں بننے والے طبلے ہیں۔

یہاں تیار شدہ طبلے ملک کے طول و عرض میں ہی نہیں، بلکہ بیرون ممالک بھی بھیجے جاتے رہے ہیں۔

دہائیوں پہلے دھونکل میں طبلہ سازوں کا ایک بڑا خاندان آباد تھا مگر فکر معاش اور بہترین روزگار کی تلاش نے زیادہ تر لوگوں کو دوسرے شہروں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا اور اب حاجی اختر علی کا گھرانہ دھونکل کا آخری طلبہ ساز گھرانہ خیال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا آلہِ موسیقی ’رباب‘ پختونوں نے بنایا تھا؟

’سروز کے بغیر بلوچ قبائلی موسیقی نامکمل ہے‘

موسیقی کے ذریعے مجرموں کو سدھارنے کی کوشش

وزیر آباد کی طرف جاتے دھونکل موڑ پر بنی دکانوں میں حاجی اختر علی کی دکان سب سے نمایاں ہے۔ دکان کے باہر طبلو ں کے سانچے اور ڈھولکیاں لٹکتی دکھائی دیتی ہیں۔

طبلے پر وٹی سے لوہا چون کی رگڑائی اور رگڑائی کے بعد انگلیوں کی چوٹ سے سُر جانچنے کی آواز ماحول کو مسحور کن بھی بناتی ہے اور طبلے کے خریداوں کو ان فنکاروں کی موجودگی کا پتہ بھی دیتی ہے۔

دکان کی اندرونی دیواروں پر بنے چھوٹے چھوٹے پھٹوں پر چٹو( طبلے کے سانچے)، تیار شدہ طبلے، ڈگیاں، پوڑے اور دیگر سامان رکھا جاتا ہے۔ ایک طرف ماضی کی یادگار تصاویر سجائی گئی ہیں۔ فریم میں جڑی یہ تصاویر دھونکل کے اس گھرانے کے فن سے مستفید ہونے والے فنکاروں کا پتہ دیتی ہیں۔

ان سب کے درمیان بیٹھے حاجی اختر علی اپنے 37 سالہ بیٹے محمد عمران کے ساتھ دن بھر طبلے بناتے ہیں۔ اختر علی بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی اپنے بڑوں کے ساتھ طبلے بناتے رہے اور 16 برس کی عمر میں انہوں نے طبلہ سازی کو بطور پیشہ اختیار کر لیا۔

اختر علی کو طبلے کے سُروں، اس کی گتوں، اور قاعدوں پر مکمل عبور حاصل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ فن ان کے استاد بشیر حسین گوگا نے انہیں سکھایا تھا اور اب وہ اسے آگے اپنی نوجوان نسل میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

Image caption حاجی اختر علی اپنے 37 سالہ بیٹے محمد عمران کے ساتھ دن بھر طبلے بناتے ہیں

’طبلہ ایک بہت ڈھاڈا ساز ہے۔ جہاں آپ نے گانا ہے، کس سُر کو دبانا ہے۔ یہ اکیلا بارہ سُروں میں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جب تک یہ ساتھ نہیں ہو گا، گانا ادھورا ہے۔ طبلہ ایک رچاؤ ہے، یہ جانوروں کی بولیاں ہیں جنھیں ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔`

حاجی اختر علی نے بتایا کہ معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے ان کے رشتہ داروں اور شاگردوں نے دیگر شہروں کا رخ کیا اور ان شہروں میں جاتے ہی اپنا کاروبار نئے سرے سے شروع کر دیا۔

ان کے مطابق ان کے شاگرد اور رشتہ دار اندرونِ ملک کے علاوہ بیرون ممالک بھی اپنا فن بانٹ رہے ہیں اور اپنا روزگار زندگی چلا رہے ہیں۔

اختر علی بتاتے ہیں کہ دیگر تمام سازوں کے الیکٹرانک ساز آ گئے مگر طبلے کو الیکٹرک نہ بنایا جا سکا۔ یہ آج بھی ایک دستی کام ہے اور یہ بجلی سے نہیں چل سکتا۔ اور اسے ہاتھ سے ہی بجایا جاتا ہے۔

تاہم حاجی اختر علی کے مطابق طبلہ بنانے کا کام اب بہت کم ہو چکا ہے۔

’ہمارا کام اب بہت کم رہ گیا ہے۔ جب سے موسیقی میں ڈی جے سسٹم آیا ہے۔ اس ساز کی تخلیق کا کام بھی متاثر ہوا ہے حالانکہ ڈی جے سسٹم میں موسیقی نہیں ہے۔ یہ صرف شورہے۔ موسیقی تو روح کی غذا ہوتی ہے۔ موسیقی آپ کو سکون دیتی ہے۔ مگر اب ڈی جے میں گانے الگ ہیں اور ناچ الگ ہیں۔‘

ان کے مطابق ترقی پسند ممالک میں طبلے کو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں اس فن کو پڑھانے کی بجائے اس کی رہی سہی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پرانے لاہور کے ٹیکسالی دروازے میں واقع لنگے منڈی موسیقی کی قدیم منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔

برسوں پہلے دھونکل سے روزگار کی تلاش میں آنے والے طبلہ سازوں نے اس منڈی کو مسکن بنایا۔ آج یہاں دھونکل برادری کی پندرہ سے بیس دکانیں موجود ہیں۔ انھی دکانوں میں سے ایک دکان سجاد پپو کی بھی ہے۔

سجاد کے مطابق ’پہلے آٹھ آدمی کام کرتے تھے، کسی کے پاس پیانو، طبلہ، ہارمونیم، اور دیگر کے پاس الگ الگ ساز ہوتے تھے۔ اب ساز بجانے والا ایک ہی آدمی ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی استاد نہیں۔‘

سجاد کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں طبلے کے کام میں مندی ہوئی تو انھوں نے دبئی میں قسمت آزمائی مگر ’وہاں بھی ہمیں بتوں کی طرح بٹھا دیا جاتا تھا۔ ثقافتی محافل میں جب معززین شہر آتے تو طبلہ بجنے لگتا۔ اور جب وہ چلے جاتے تو ڈی جے شروع ہو جاتا تھا۔‘

اختر علی جیسے پرانے کاریگر کے مطابق آج بھی طبلے کا مقام تمام سازوں سے منفرد ہے۔ ان کے مطابق ایک سو ایک ساز بھی بج رہے ہوں جس موسیقی میں طبلہ نہیں ہوتا اس میں بجائے جانے والے تمام ساز ادھورے لگتے ہیں۔

اسی بارے میں