دہلی کرائم: ’اگر آپ کسی کی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اپنی بیٹی کی کیسے کریں گے‘

Shefali Shah in Delhi Crime تصویر کے کاپی رائٹ Netflix
Image caption شیفالی شاہ، ورتیکا چترویدی کا کردار نبھا رہی ہیں، وہ عورت جس نے تحقیقات کی سربراہی کی

انڈیا میں تقریباً ہر شخص کو دلی بس ریپ یاد ہے جسے نربھیا کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دسمبر 2012 کے خوفناک واقعات، جب ایک نوجوان طالبہ کو سینما سے گھر جاتے وقت اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بہت خوفناک تھا اور اس نے پورے ملک کی نفسیات پر ایک اجتماعی اثر چھوڑا۔

لیکن جب یہ پتہ چلا کہ اس ظالمانہ حملے میں پولیس کے طرز عمل پر نیٹ فلکس کے لیے ڈرامہ بنایا جانا ہے تو بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ کیوں؟

تاہم اداکارہ شیفالی شاہ کے لیے اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں تھی کہ یہ اہم کہانی بتائی جانی چاہیے۔

شیفالی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نربھیا کی کہانی ایک انسان، ایک عورت کی حثیت سے صرف درد، دکھ اور زندگی کے غموں سے منسلک تھی۔‘

’لیکن جب میں نے سکرپٹ پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ایک اور عورت بھی تھی، کوئی مرد نہیں ایک عورت، جس نے اس کیس کو لیا، لڑائی لڑی اور انصاف حاصل کیا۔ وہ اس ملک میں موجود ہر عورت کے لیے لڑی۔‘

یہ بھی پڑھیے

دلی ریپ:'لڑکی کو گہری دماغی چوٹ پہنچی ہے'

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

دلی ریپ کی تحقیق کے لیے کمیشن کا قیام

وہ دوسری عورت چھایا شرما تھیں۔ جنوبی دلی میں پولیس کی ڈپٹی کمشنر۔ ڈائریکٹر رچی مہتا کے سات اقساط پر منبی دلی کرائم میں ان کا نام تبدیل کر کے ورتیکا چترویدی رکھا گیا ہے۔

مہتا کہتے ہیں ’اس شو کا اصل ستارہ وہی ہیں، لیکن یہ بالکل ایسا ہی تھا۔‘ ان کا ماننا ہے کہ ڈی سی پی شرما کے بغیر یہ کہانی بالکل مختلف ہوتی۔

وہ کہتے ہیں ’میرے لیے سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اگر خاتون ڈی سی پی ہسپتال پہنچنے والی پہلی شخصیت نہ ہوتیں اور انھیں زیادتی کا شکار خاتون سے ملنے کا موقع نہ ملتا اور وہ ویسا ردِعمل نہ ظاہر کرتیں جو انھوں نے کیا، تو شاید وہ ان افراد کو نہ پکڑ پاتے۔‘

یہ ان کا ایک انسان اور عورت کہ طور پر ردِعمل ہی تھا جس نے یہ سب ممکن بنایا۔

وہ رات چھایا شرما کی یاداشت پر نقش ہو گئی ہے لیکن وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ اگر وہ ہسپتال پہنچنے والی پہلی خاتون افسر نہ ہوتیں تو نتائج پر کوئی فرق پڑتا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں نہیں جانتی کہ اگر ایک مرد ڈی سی پی اس کیس کی نگرانی کرتے تو یہ مختلف ہوتا۔ میں واقعی کچھ نہیں کہہ سکتی۔ یہ افسر کی حساسیت ہر منحصر ہے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔‘

’میرا خیال ہے کہ ایک عورت ہونے کے ناطے یہ کیس کو اہم بناتا ہے۔ جو زیادتی ہوتی ہے، میرے ساتھ اگر کچھ ہوا ہے، وہ لڑکی جس حالت میں تھی اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2012 میں اس زیادتی کے خلاف انڈیا بھر میں احتجاج شروع ہو گئے تھے

یقیناً ناظرین سے اس نوجوان خاتون کی حالت کے بارے میں کچھ پوشیدہ نہیں رکھا گیا، جس کے ساتھ انتہائی بے دردی سے زیادتی کی گئی اور ایک لوہے کے ڈنڈے سے اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔ ایک ڈاکٹر نے اس کے جسم پر مردوں کے کیے گئے ظلم کی جو تفصیل لکھی ہے وہ خوفناک داستان ہے۔

شرما کہتی ہیں کہ شاہ نے ڈی سی پی چترویدی کا کردار نبھاتے ہوئے خود کو دور رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز میں ان کے ردِعمل کو بالکل صحیح طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن اندرونی طور پر وہ بھی وہی کچھ محسوس کر رہی تھیں جو پوری قوم آنے والے چند ہفتوں میں محسوس کرنے والی تھی۔

’اگر آپ کسی دوسرے کی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اپنی بیٹی کی کیسے کریں گے؟ میں نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ میں نے ہمدردی کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا۔‘

’جو کچھ ہوا اس کی جب مجھے سمجھ آئی تو میرا پہلا ردِعمل بےیقینی تھی۔ میں نے سوچا کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا۔ یہاں ریپ کے بہت سے کیسز ہوتے ہیں لیکن اس کیس میں ہونے والے زخموں کی سطح حیرت انگیز تھی۔‘

اگلے تین دن شرما گھر نہیں گئیں۔ ہر کام کی توجہ ان آدمیوں کو ڈھونڈنے پر مرکوز تھی جن کے بارے میں شرما جانتی تھیں کہ وہ ان کی ہاتھوں سے نکل سکتے ہیں۔

سیریز کی ریلیز سے قبل بھی انڈین اخباروں میں کی جانے والی تنقید اس بات پر ہے کہ تشدد کا نشانے بننے والی لڑکی کے بجائے پولیس پر توجہ کیوں مرکوز رکھی جا رہی ہے۔

پیاسری داس گپتا نے ہفنگٹن پوسٹ انڈیا میں لکھا کہ شو جن لوگوں کو بہتر انداز سے دکھاتا ہے وہ صرف پولیسں والے ہیں۔ باقی تمام کردار چاہے وہ احتجاج کرنے والے ہوں، مجرموں کے خاندان والے، میڈیا والے، سیاستدن اور سول سوسائٹی ایسے مصنوعی جملے بولتے ہیں جو اس بیانیے میں مدد کرتے ہیں کہ دہلی پولیس نے اس مقدمے کے مجرمان کو پکڑنے کے لیے ایک جنگ لڑی اور اس کے بدلے میں اس کی بہت کم تعریف ہوئی۔`

ان کا کہنا ہے کہ ’دہلی پولیس نے وہی کام کیا جس کی انھیں تنخواہ دی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Netflix
Image caption سیریز کا ایک منظر

انڈیا میں پولیس کے بارے میں بے اعتمادی کا احساس پایا جاتا ہے ، خاص کر جب بات جنسی جرائم کی رپورٹس سے متعلق ہو۔ نومبر 2017 میں ہیومن رائٹس واچ کی شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق بہت سارے زیادتی کا شکار افراد جب اس کی رپورٹ درج کروانے جاتے ہیں تو انہیں پولیس کی جانب سے ذلت آمیز رویے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور وہ بار بار جانے پر بھی ان کی شکایت کا اندراج نہیں کرتے۔

سرکاری اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ سارے عمل سے گزر چکنے کے باوجود کسی مجرم کو سزا دلوانا کتنا مشکل ہے۔

بی بی سی کی ایک حالیہ ریئیلٹی چیک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے مقدمات میں اختتام تک پہنچنے والے صرف ایک تہائی مقدمات میں مجرموں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ لیکن بہت کم مقدمات وہاں تک پہنچتے ہیں۔

اس کیس کا پولیس کے لیے ایک کامیاب کیس بن جانا بھی ان بڑی وجوہات میں سے ایک تھی جن کے باعث مہتا کو احساس ہوا کہ یہ کہانی سنائے جانے کے قابل ہے۔

انھوں نے اس پروجیکٹ پر سالوں کام کیا ہے اور جتنے افسران سے بات ہو سکتی تھی، انھوں نے کی۔

وہ کہتے ہیں ’خاص کر اس کیس میں بہت زیادہ عوامی غصے کا اشارہ ان کی جانب ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ آپ ایک فرد اور ادارے کے طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔‘

’میں اس بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ جیسے، ایک منٹ رکیں، اس کیس میں انہوں نے ایک انسان کے طور پر وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔‘

ناظرین کو زیادہ وقت نہیں لگتا یہ جاننے میں کہ یہ سب کرنا بھی کتنا مشکل تھا: فورینزکس کی ٹیم کو جائے وقوعہ لے جانے کی جدوجہد سے لے کر درست گاڑیوں کا نہ ہونا، طویل کام کے اوقات اور مشکل ساتھی۔

شاہ نےاشارہ کیا ’صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی نوکری کرتے ہیں، اس شو میں آپ کو وہ حالات نظر آتے ہیں جن میں وہ کام کر رہے تھے۔‘

'یہ سب لوگ اپنی جیب سے خرچ کر رہے ہیں۔ اور انہیں ان کے کام پر سراہا بھی نہیں جاتا۔ کچھ پولیس والے اپنے خاندان سے دو ماہ میں صرف ایک بار مل پاتے ہیں۔ وہ 24 گھنٹے نامناسب حالات میں کام کرتے ہیں۔ جتنا وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں۔‘

یقینا، ہمیشہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو اس کیس کے بارے میں تھوڑی سی ناپسندیدگی محسوس کرتا ہے جیسے اس کو تفریح میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ مہتا کا ماننا ہے کہ یہ ڈرامہ سیرئز بنانے سے پہلے وہ کچھ ہچکچا رہے تھے۔

چھ سال پہلے، جب انہیں اس کا مشورہ دیا گیا، اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’پہلے مجھے یہ مناسب نہیں لگا۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ کسی کو اس پر فلم بنانی چاہیے، مجھے تو ہرگز نہیں۔‘

لیکن عدالت کا فیصلہ سننے اور اس سے جڑے لوگوں سے مل کر انھیں اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔

لیکن یہ سیریز بنانے کے پیچھے ایک اور وجہ ہے۔ شاہ بتاتے ہیں ’اس طرح کی چیز بنانے کا مقصد کوئی تخلیقی کام کرنا نہیں ہے۔ آپ اتنے حساس موضوع سے نمٹ رہے ہیں جس سے ہم سب متاثر ہوئے ہیں۔‘

’جو بحث و مباحثہ ہو چکا وہ بہت اہم تھا اور اس سے اور بحث و مباحثہ جنم لے گا۔‘

یقیناً زیادتی کا شکار لڑکی کے والدین کی بھی یہی امید ہے جن سے مہتا نے سیریز شروع کرنے سے قبل بات چیت کی۔ وہ کہتے ہیں ’ان کا ردِعمل یہ تھا کہ اگر اس سے کچھ اچھا سامنے آ سکتا ہے، تو ضرور کریں۔‘

اسی بارے میں