اسلام آباد میں پشتو: ’بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر پشتو کا پیٹ پالتے رہیں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اسلام آباد میں پشتو زبان کے شعرا نے وقت کے ساتھ اپنی جگہ بنائی ہے

’ہمارے بزرگ شعرا بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ اسلام آباد کے کسی سرکاری ادارے میں اردو کے علاوہ کوئی اور زبان بولنے کی سخت ممانعت تھی۔‘

اکادمی ادبیات پاکستان کے سرسبز باغیچے میں بیٹھے سردار یوسفزئی آج بھی اپنی پختون شناخت اور زبان کے لیے اسلام آباد میں جگہ تلاش کر رہے ہیں۔

’بالخصوص سنہ 2001 کے بعد جب حالات بگڑنے لگے تو چار پختون افراد ٹوپی اور چادر پہنے کہیں اکٹھے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ پولیس ہراساں کرتی تھی اور ان وجوہات کی بنا پر ہمارے لیے اس شہر میں اپنائیت کا احساس کم ہونے لگا تھا۔`

یہ بھی پڑھیے

افغان پناہ گزین طلبا ’نہ اِدھر کے رہیں گے نہ اُدھر کے‘

کیا آلہِ موسیقی ’رباب‘ پختونوں نے بنایا تھا؟

افغانستان میں جدید مزاحمتی شاعری

مضبوط قد کاٹھ رکھنے والے صوابی کے 45 سالہ سردار یوسفزئی اپنے لڑکپن میں تھے جب سنہ 1996 میں وہ اپنا گاؤں چھوڑ کر اسلام آباد آ بسے۔

اس نئے شہر میں روزی روٹی ڈھونڈتے وہ جلد ہی ایک ادارے میں ٹیلی فون آپریٹر بھرتی ہو گئے ۔ پشتو زبان اور شاعری سے لگاؤ کے باعث سردار یوسفزئی سنہ 2006 میں پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے رکن بنے اور اسی سال ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی مقرر ہوئے۔

’گھر سے دور ہونے کی تکلیف میں اگر کچھ سامانِ راحت تھا تو وہ صرف شاعری اور اس زبان (پشتو) کی وجہ سے تھا جس نے مجھے اپنی جڑوں سے جوڑ کر رکھا۔‘

شعرا کی جدوجہد

سنہ 1986 میں معرضِ وجود میں آنے والی پشتو ادبی سوسائٹی آج پاکستان کے دارالحکومت میں اس زبان کے حوالے سے نمایاں تنظیم ہے۔

اس کے ارکان ہر ماہ کے پہلے پیر کے روز اکادمی ادبیات میں مشاعرہ اور مجلس منعقد کرتے ہیں جس میں لگ بھگ 40 سے 50 شعرا حصہ لیتے ہیں۔ یہاں موجود ہر ادیب نے کم از کم ایک کتاب تو شائع ضرور کی ہے، لیکن اپنے خرچ پر۔

سردار یوسفزئی نے بھی اپنی دو کتابیں ایسے ہی شائع کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا کے محکمہِ ثقافت نے ہمارے چند ساتھیوں کی کتابیں چھاپی ہیں، لیکن عام طور پر ادیب اس کام پر اٹھنے والے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں ۔ حکومت کو پشتو کے فروغ کی ذمہ داری صرف اس زبان کے شعرا پر نہیں چھوڑ دینی چاہیے۔‘

سردار یوسفزئی کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے تمام پشتو ادیب کہیں نہ کہیں نوکری کرنے پر مجبور ہیں تاہم اس کے باوجود ان کا ماننا ہے کہ کسی فن کی تخلیق کر کے اس کو دنیا کے ساتھ بانٹنا انسانی فطرت ہے۔

’میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں مالی امداد نہیں چاہیے۔ ایک شاعر کی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ وہ ایسے الفاظ لکھے جو اس کی قوم تک پہنچ سکیں۔ یہ ایسا عشق ہے جو نہ سمجھنے والے کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔‘

اسلام آباد میں پختون

سنہ 1960 کی دہائی میں اسلام آباد کے قیام سے ہی یہاں پختون موجود ہیں۔

نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لیے مزدور طبقے سے لے کر سرکاری نظم و نسق چلانے کے لیے افسران، سب نے اسلام آباد کا رخ کیا۔

اور جس طرح ہجرت میں آنے والے اپنے ساتھ اپنی ثقافت بھی لاتے ہیں، خیبر پختونخوا سے آنے والے پشتو شاعری اور رباب لیے یہاں آن پہنچے۔

وقت گزرتا رہا اور کئی آبادکار یہیں کے ہو کر رہ گئے اور اس ماحول میں اس طرح رچ بس گئے کہ اب وہ اپنے ہی گاؤں مہمان بن کر جاتے ہیں۔ تاہم ابتدا میں ایسا نہیں تھا۔

سردار یوسفزئی کے پہلو میں بیٹھے ان کے رفیق اور سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل اقبال حسین افکار خود کو ادیب سے زیادہ پشتو زبان کا خادم سمجھتے ہیں۔

اپنی بھاری آواز میں اقبال افکار کا کہنا تھا کہ نچلے طبقے کے پختونوں کو اسلام آباد میں کمتری کا احساس ہوتا تھا۔

’ہمارے سینیئر شعرا جیسے کہ میم ر شفق، عنایت اللہ ضیا، غنی خٹک، عبرالرحمان بیتاب اور سید محمود احمد کی زیرِ نگرانی یہاں پشتو ادب نے اپنا گھر بنایا۔ آج میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ پشاور، کابل اور کوئٹہ سمیت اسلام آباد بھی اب اس زبان کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔‘

جنگ کے اثرات

دہائیوں پر محیط جنگ کا پختون ادیبوں اور ان کے کام پر اثر کو جانچنا بھی بہت ضروری ہے۔

سوویت افغان جنگ سے لے کر امریکہ کی ’وار آن ٹیرر‘ اور ضرب عضب تک پختون خطہ برباد ہوتا چلا گیا اور اس تباہی کے اثرات پشتو ادب پر بھی مرتب ہوئے۔

افکار کہتے ہیں کہ روزمرہ زندگی میں اتنا تشدد دیکھنے کے بعد ایسا ممکن نہیں کہ شاعری اس کے سیاسی اور سماجی اثرات سے محفوظ رہ پائے۔

’ہمارا آج کا ادب معاشرے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں شدت پسندی کی سخت مذمت اور امن کی شدید حمایت اور چاہت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ اس دہشت گردی کے ہاتھوں ہماری اپنی پختون شناخت پر کتنے سوال اٹھے ہیں۔ یہ ہمارا گھر ہے اور جب گھر میں آگ لگتی ہے تو تمام مکین متاثر ہوتے ہیں ۔‘

پشتو شاعری آج بھی زلفِ جاناں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی لیکن چاربیتہ، غزل اور نظم جیسے روائتی طرز کو اب قوم کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین آج بھی ادیبوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ پاک افغان پیپلز فورم جیسی تنظیموں کے تحت دونوں ممالک کے ادیب اور شعرا کے وفود آتے جاتے رہتے ہیں۔

سیاست بالائے طاق رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے ادیب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ امن میں ہی پختون قوم کا فائدہ ہے۔

پشتو کی مانگ

اسلام آبار کے پشتو ادیبوں کی طرف سے ایک تنبیہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر آپ اپنا وقت، فن، محنت، خیالات اور نظریات استعمال کر کے پشتو ادب لکھ کر اپنے خرچے پر کتاب شائع کر بھی لیں تو اس کے بعد کی صورتحال کے لیے بھی تیار رہیے، یعنی اپنی کتابیں لوگوں میں خود بانٹتے پھریں۔

اقبال افکار کہتے ہیں ’اگرچہ خیبر پختونخوا کا محکمہِ ثقافت اس حوالے سے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے تاہم ادیب ان کی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر واقعی پشتو زبان کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے تو خیرات سمجھ کر شعرا میں پینشن بانٹنے کے بجائے اشاعت پر توجہ دے۔

’مجھے اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ذریعے اکادمی ادبیات اور لوک ورثہ سے امداد مل جاتی ہے، لیکن اپنے صوبے میں ہم دربدر پھرتے ہیں۔ پشاور کا نشتر ہال استعمال کرنے پر مجھے پیسے دینے پڑتے ہیں، لیکن خانہ فرہنگ میں پشتو ادب پر بات کرنے کی کوئی فیس نہیں۔‘

پشتو کی پسماندگی کی بنیادی وجہ پر روشنی ایک اور شاعر عبدالحمید زاہد نے یہ کہہ کر ڈالی کہ 'پشتو ادب کی معاشی حیثیت اس لیے نہیں کیونکہ یہ تعلیم کی زبان نہیں ہے۔ اگر پختون اپنی ہی زبان میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں تو ہمارے قلم کو بھی سہارا ملے گا ۔'

مگر جب تک یہ وقت نہیں آتا زاہد کے بقول شعرا پورے جنون سے وہی کرتے رہیں گے جو کرتے آ رہے ہیں یعنی ’اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر پشتو کا پیٹ پالتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں