گیم آف تھرونز: سپوائلرز سے گھبرانا نہیں

گیم آف تھرونز تصویر کے کاپی رائٹ HBO/Game of Thrones

آخر کار دو سال کے تکلیف دہ انتظار کے بعد میرے جیسے کروڑوں ’گیم آف تھرونز‘ کے مداحوں کے لیے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں جب پیر کو سیریز کا آٹھواں اور آخری سیزن شروع ہوا۔

لیکن اس کے ساتھ سپوائلرز سے بچنے کے مشکل مرحلے کا بھی آغاز ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’سردی آ نہیں رہی۔۔۔۔ سردی آ گئی ہے!‘

آئیں 'گیم آف تھرونز' کی دنیا میں کھو جائیں۔۔۔

’اداکار بھی گیم آف تھرونز کے انجام سے بےخبر ہوں گے‘

سیزن کے شائقین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن اس کی پہلی قسط امریکی وقت کے مطابق رات کے دس بجے نشر کی گئی۔

لہٰذا جن افراد نے اسے پہلی فرصت میں دیکھا ان کی ایک بہت بڑی تعداد نے بحیثیت بدذوق انسان اپنا فرض سمجھتے ہوئے گیم آف تھرونز کے ٹوئٹر کے ٹرینڈ #GameofThrones پر جا کر کہانی کی تمام ضروری تفصیلات اپنے غیر ضروری تجزیوں کے ساتھ لکھ دیں۔

تحریر میں آگے بڑھنے سے پہلے میں پڑھنے والوں سے اس غریب اور بدقسمت لکھنے والے سیزن کے مداح کا غم ضرور بیان کروں گا جسے صبح آفس آتے ساتھ بی بی سی نے اپنے قارئین کے لیے گیم آف تھرونز کے ٹرینڈ پر لکھنے کا کہا (یعنی حکم دیا) اس حکم کی تعمیل کرتے کرتے میں قسط دیکھنے سے پہلے ہی وہ سب کچھ جان گیا جو میں نہیں جاننا چاہتا تھا۔

خدا میرے ایڈیٹر کو پوچھے گا۔

Image caption ’1080p ہے، فل ایچ ڈی!‘

میری مشکل یہاں ہی ختم نہ ہوئی۔ میرے ساتھ کام کرنے والے ساتھی صحافی اپنے موبائل پر سیزن کی پہلی قسط سے محظوظ ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ مجھے زبردستی جھلکیاں دکھاتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ’1080 p ہے، فل ایچ ڈی!‘۔

اس کے ساتھ پورے نیوز روم سے آوازیں آ رہیں تھی ’تم نے دیکھا ہے؟ نہیں! میں بتاتا ہوں‘۔ بھلا ہو ساتھی فاران رفیع کا جنھوں نے اس ظلم عظیم کے خلاف۔۔۔۔۔ ٹویٹ کردی۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں اعلان کر رہا ہوں میرا آفس محفوظ جگہ ہے۔ یہاں سارا دن کسی کو بھی گیم آف تھرونز پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سب چپ کر کے بیٹھیں!‘

بدقسمتی سے اس ٹویٹ سے حالات پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا۔

سپوائلرز سے بچنے کے طریقے

تو پھر دنیا کی مقبول ترین سیریز کے سپوائلرز سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

پاکستانی مداح اس صورتحال سے بچنے کے لیے کیسی قربانی دے رہے ہیں، سن کر آپ کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کا دل کرے گا۔

عمیر جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے افراد نے پہلے ہی صبح کے پانچ بجے اٹھ کر قسط دیکھ لی ہے۔ ساتھ ہی وہ ان افراد سے سوال کرتے ہیں ’نوکریاں نہیں ہیں تم لوگوں کی؟‘

ایک صارف یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کا آج امتحان تھا لیکن صبح اٹھ کر پڑھنے کی جگہ وہ گیم آف تھرونز کی قسط دیکھ رہی تھیں ساتھ ہی انھوں نے کہا ’میرے جیسے نہ بنیں۔‘

صبح سویرے اٹھنے کے علاوہ بھی لوگوں نے ٹوئٹر پر کچھ مشورے دیے۔

کامران خان لکھتے ہیں کہ انھوں نے گیم آف تھرونز سے منسلک تمام مواد کو بند کر دیا ہے تا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی خبر نہ ملے ’میں تمام اقساط سیزن کے آخر میں اکٹھے دیکھوں گا۔‘

فاطمہ کہتی ہیں کہ وہ ایک ٹویٹ بھی نہیں پڑھیں گی جب تک وہ پہلی قسط نہیں دیکھ لیتیں۔

لیکن میرے خیال سے یہ کہنا آسان ہے اور کرنا بہت ہی مشکل۔

کیلی اس مشکل کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ٹوئٹر پر پیر کو گیم آف تھروز کے سپائیلرز سے بچنا اولمپکس سے بچنے کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں