پراجیکٹ غازی: سائنس فکشن اور ایکشن فلم میں سائنس اور ایکشن دونوں کا فقدان

پراجیکٹ غازی تصویر کے کاپی رائٹ Project Ghazi

کبھی کبھی مجھے کسی فلم کا تجزیہ لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ مجھے پتہ نہیں کہ میرا اس فلم کے بارے کیا خیال ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف لحاظ ہے، جو کبھی کبھار سچ بولنے کے آڑے آجاتا ہے۔

اس میں تھوڑا بہت لحاظ فلمسازوں یا اداکاروں کا ہوتا ہے، کیونکہ اکثر سے دوستی نہیں تو واقفیت ضرور ہوتی ہے اور ان میں سے بیشتر نہایت ہی اچھے اور خود خیال رکھنے والے لوگ ہیں لیکن مجھے اصل فکر اُن لوگوں کی رہتی ہے جو فلمسازی میں نئے نئے قدم رکھ رہے ہوتے ہیں اور جو اپنے کام کے بارے میں مغرور نہیں ہیں۔ کہیں میری صاف گوئی سے اُن کے حوصلے پست نہ ہو جائیں۔ یہ دشواری اُس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب مجھے یہ معلوم ہو کہ پسِ پردہ فلم سازوں نے کِن کِن مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’لال کبوتر‘ چھوٹے بجٹ کی معیاری فلم

انڈین ڈراموں، فلموں پر پابندی: نقصان پاکستان کا؟

مسئلہ یہ ہے کہ میرے تجزیے میں فلم بنانے یا اسے پردے پر لانے تک کے سفر کی داستان شامل نہیں ہوتی۔ یقیناً ہر فلمساز بیسیوں مشکلات سے گزر کر ہی فلم بنا پاتا ہے اور کوئی بھی فلم آسانی سے نہیں بنتی لیکن فلمی نقاد کو آخر میں یہ جانچنا ہوتا ہے کہ، اِتنی تگ و دو کے بعد، جو چیز وہ سکرین پر دیکھتا ہے وہ کِس حد تک، بطور فلم، کامیاب رہی ہے۔ اور اسے اپنے پڑھنے والوں یا سامعین کے بھروسے کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے۔

یہ باتیں میں اس لیے یہاں پر تمہید کے طور پر کر رہا ہوں کہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’پروجیکٹ غازی‘ نے مجھے اِن چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔

شاید آپ کو یاد ہو گا کہ دو سال پہلے ’پروجیکٹ غازی‘ کا پریمیئر منعقد کیا گیا تھا۔ میں وہاں موجود نہیں تھا، لیکن خبروں کے مطابق اِس فلم کے ساؤنڈ میں اتنے تکنیکی مسئلے تھے کہ اس کے اپنے سٹار ہمایوں سعید نے پریمیئر ہونے کے باوجود فلم کی ریلیز کو رُکوا دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Project Ghazi
Image caption شاید بجٹ ہی وجہ تھی کہ اِتنی پُرعزم فلم ہونے کے باوجود، یہ فلم کچھ خالی خالی لگتی ہے

اب دو سال کے طویل عرصے کے بعد یہ فلم بغیر کسی دھوم دھام کے ریلیز ہوئی اور تھوڑے ہی دنوں میں چُپکے سے سینماؤں سے غائب بھی ہو گئی۔ حالانکہ ہمایوں سعید کے علاوہ شہریار منوّر جیسے سٹار اس فلم کا حصہ ہیں اور پاکستان کی پہلی ’سائنس فِکشن‘ اور ’سپر ہیرو‘ فلم کہلانے کے ناطے، اِس کا چرچا بڑا ہونا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے: فلم بینوں کو یہ فلم اپنی طرف راغب کرنے میں ناکام رہی۔

جِس دن میں فلم دیکھنے گیا اُس رات میرے علاوہ مشکل سے سات یا آٹھ لوگ سینما میں موجود تھے۔ اب اتِنے کم لوگوں کا سنیما میں آنا — اس کو آپ سنیما گھروں کی حالیہ صورت حال سے بھی منسلک کرسکتے ہیں، جہاں بالی وُڈ کی فلموں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ویسے ہی لوگوں کا جانا (ایک اندازے کے مطابق) 50 سے 70 فیصد کم ہو گیا ہے لیکن میرے خیال میں فلم بینوں کے سنیما گھروں سے غائب ہونے کی صرف یہی وجہ نہیں تھی۔

اِس میں بڑا ہاتھ اس ’ورڈ آف ماؤتھ‘ کا بھی ہوگا جو فلم کے پہلے ایک دو دنوں میں پھیلا ہو گا۔ یعنی یہ کہ شروع میں فلم دیکھنے والوں نے واپس آکر اپنے دوست احباب کو اپنی اس رائے سے آگاہ کیا ہوگا کہ فلم پیسے خرچ کرنے کے لائق نہیں ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Project Ghazi
Image caption ہمایوں سعید جیسے سٹار اس فلم کا حصہ ہیں

میری نظر میں ’پراجیکٹ غازی‘ کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ایک سائنس فِکشن اور سپر ہیرو فلم ہونے کے باوجود، اِس میں سائنس اور ایکشن دونوں کا فقدان ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک سپر فوجیوں کا ٹولہ (جن میں عام آدمیوں سے زیادہ لڑنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں) ایک ریسرچ لیب میں تیار کیے جاتے ہیں لیکن سوائے ایک کے، باقی سب ایک مِشن میں مارے جاتے ہیں۔ مارے جانے والے فوجیوں میں سے ایک کا بیٹا بڑا ہو کر خود بھی فوج میں بھرتی ہوتا ہے اور جلد ہی لیب کے سائنسدانوں کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اُس میں بھی اپنے باپ جیسی غیر معمولی قوتیں ہیں، جن کی ضرورت اُس وقت پڑتی ہے جب دنیا کو ایک خوفناک دشمن کا سامنا ہوتا ہے۔

جہاں ایسی فلم کو بہت گہرا ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اِس کو کم از کم سکرین پر ایسے کرتب دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے جن سے فلم بین محظوظ ہو سکیں لیکن نہ تو ہمیں کبھی یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ کیا سائنس تھی جس کے نتیجے میں ایسے کمال فوجی تیار کیے جاتے ہیں، نہ ہی ہمیں اُن کی صلاحیتیں دیکھنے کا کوئی خاص موقع ملتا ہے۔

یہ نہیں کہ ’پروجیکٹ غازی‘ کے فلم سازوں نے کوشش نہیں کی ہے اور یقیناً اس کے کچھ وِیژوئل ایفیکٹس عمدہ ہیں لیکن مسئلہ آخر سکرین پلے پر آ کر ٹوُٹتا ہے۔ نئے فلمساز ہوتے ہوئے ’پراجیکٹ غازی’ کے فلمسازوں کو اپنا سکرین پلے کسی منجھے ہوئے لکھاری یا ہدایتکار کو ضرور دکھانا چاہیے تھا، جو ان کو بتا سکتا (یا بتا سکتی) کہ ایسی فلم میں کہاں کہاں چھوٹا موٹا ایکشن سیکویئنس ڈالنے سے فلم کی روانی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر ایکشن فلم دیکھنے والا پہلے 30 مِنٹ کے بعد ہی اپنی گھڑی دیکھنا شروع کر دے (جیسے کہ میں نے کیا تھا)، تو یہ بات واضح ہے کہ کہانی بہت سُست روی کا شکار ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Project Ghazi
Image caption سائنس فِکشن اور سپر ہیرو فلم ہونے کے باوجود، اِس فلم میں سائنس اور ایکشن دونوں کا فقدان ہے

’پروجیکٹ غازی‘ کا دوسرا بڑا نقص بھی سکرین پلے سے متعلق ہے۔ اکثر و بیشتر فلم کہاں سے کہاں جا رہی تھی میری سمجھ سے باہر تھا۔ جو باتیں فلم میں دکھائی جانی چاہیے تھیں وہ عموماً کوئی کردار صرف لفظوں میں بتا دیتا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ فلم کے اسکرپٹ کا تقریباً 30 فیصد حِصّہ تو شُوٹ ہی نہیں ہو پایا تھا۔ اب اس کی وجہ جو کچھ بھی ہو (بجٹ میں پیسوں کی کمی اس کی وجہ بتائی گئی ہے) اِس کا نتیجہ جو ہونا تھا وہ صاف ظاہر ہے۔ ایسی فلم جِس میں ہیرو کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ معمّے حل کرنے ہوں، اگر اس میں دیکھنے والوں کو یہی نہ پتہ چلے کہ وہ معمّے کیسے حل ہوئے، تو اُن کا مزہ کِرکِرا ہو جاتا ہے۔

کاش میں ’پروجیکٹ غازی‘ کی اداکاری ہی کی تعریف کر سکتا لیکن سوائے عامر قریشی کے، جو ایک چھوٹے سے کردار میں جان ڈال دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ باقی سارے اداکار، بشمول طلعت حسین، سکرپٹ سے اُتنے ہی پریشان تھے جِتنے دیکھنے والے۔ ہمایوں سعید اور شہریار منوّر، جو سپر فوجی کرنل سالار اور میجر زین کے کردار نبھاتے ہیں، دونوں ایک یکطرفہ سی پرفارمنس دیتے ہیں، جس سے دیکھنے والوں کا ان کے کرداروں سے کوئی تعلق قائم نہیں ہو پاتا۔ سائرہ شہروز، جو فلم میں ایک سائنسدان کا رول کررہی ہیں، خوش شکل ضرور ہیں لیکن اِس کردار میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ہاں، عدنان جعفر، جو فلم کے وِلن قطعن کا کردار کرتے ہیں، فلم میں زبردستی جان ڈالنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ لیکن ایک تو اُن کی اداکاری باقی اداکاروں کے کام سے اِتنی مختلف ہے کہ ایسا لگتا ہے وہ کسی اور فلم کا حِصّہ ہیں۔ اِس کے علاوہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کے کردار کا پسِ پشت وِلن کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے اور کیوں وہ اتنی طاقت کے مالک ہوتے ہوئے (وہ لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے) ایک چائے کے ڈھابے اور اس کے بیچارے ویٹرز پر اپنی طاقت آزمانا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Project Ghazi
Image caption عامر قریشی نے اس فلم میں اپنے مختصر کردار کو خوب نبھایا ہے

شاید بجٹ ہی وجہ تھی کہ اِتنی پُرعزم فلم ہونے کے باوجود، یہ فلم کچھ خالی خالی لگتی ہے۔ ایک بڑے سائنس لیب میں، جہاں ملک کی ایک ٹاپ سیکرٹ فوجی فورس تیار کی جاتی ہے، وہاں بمشکل تین سائنسدان کام کرتے ہیں، جن میں سے دو کو بھی لڑنے کے لیے ہتھیار اٹھانے پڑ جاتے ہیں۔

جب قطعن اور اس کے کارندے ٹاپ سیکرٹ لیب پر دھاوا بولتے ہیں (اور کیوں بولتے ہیں یہ ہمیں پتہ نہیں چلتا) اس کے دفاع کے لیے بھی ایک آدھ درجن سے زیادہ فوجی کبھی نظر نہیں آتے۔ شہر یا باہر کی دنیا کی گہما گہمی بھی صرف ٹی وی سکرینوں پر ہی نظر آتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بیشتر سین میں کرداروں کے پاس بولنے کے لیے ڈائیلاگ کم پڑ جاتے ہیں۔

مجھے معلوم ہے کہ یہ ہدایت کار نادر شاہ اور پروڈیوسر اور لکھاری سید محمد علی رضا کی پہلی کاوش ہے اور میں ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا لیکن انھیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ صرف وِیژوئل ایفیکٹس سے کوئی فلم، فلم نہیں بن جاتی۔

باقی نئے فلم سازوں کو بھی اس فلم سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اُس وقت تک کسی فلم کی شوٹنگ پر نہ اُتریں جب تک آپ اپنے سکرپٹ سے مطمئن نہ ہوں اور اس کے بعد بھی دو چار لوگوں سے مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کم ازکم غازی بنانے کی امید میں شہید تو نہیں ہوں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں