انڈیا کی سیاست اور بالی وڈ : انتخابات میں حصہ لینے والے دس فنکار

انڈیا کی سیاست میں فلم سٹار ابتدا سے ہی مخصوص اہمیت کے حامل رہے ہیں اسی لیے سیاسی جماعتیں انھیں اپنی حمایت میں استعمال کرتی رہی ہیں۔

سلمان خان اور نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ابتدا میں ان کی مقبولیت کا استعمال عموماً انتخابی مہم میں لوگوں کو یکجا کرنے کے لیے کیا گیا لیکن بعد میں سیاست میں ان کی شمولیت بڑھتی گئی۔ کبھی انھیں براہ راست راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں نامزد کیا گیا، تو کبھی وہ انتخابات جیت کر اس میں شامل ہوئے۔

یوں تو دنیا بھر میں جہاں بھی انتخابات ہوتے ہیں وہاں فنکاروں کی سٹار اپیل کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ بعض ممالک میں تو وہ اہم ترین عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے نمایاں مثال ہالی وڈ اداکار رونالڈ ریگن کی ہے جو سنہ 1980 میں ڈیموکریٹ کے امیدوار جمی کارٹر کو شکست دے کر امریکہ کے صدر بنے تھے۔

انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بذات خود ملک کے 'سب سے بڑے کراؤڈ پلر' تصور کیے جاتے تھے لیکن انڈین فلم انڈسٹری کے ساتھ ان کی نزدیکیاں بھی جگ ظاہر ہیں۔

دلیپ کمار، جواہر لعل نہرو، دیو آنند اور راج کپور تصویر کے کاپی رائٹ Filmfare
Image caption دلیپ کمار، جواہر لعل نہرو، دیو آنند اور راج کپور کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے یہ تصویر جون 1964 کے فلم فیئر کے شمارے میں شائع ہوئی تھی

انڈین سینیما کے 'ٹریجڈی کنگ' دلیپ کمار، 'مغل اعظم کے اکبر' پرتھوی راج کپور اور اداکارہ نرگس سے ان کے دوستانہ مراسم سے لوگ واقف ہیں اور انھوں نے ان کی سٹار اپیل کا بخوبی استعمال بھی کیا ہے۔

پرتھوی راج کپور پہلے بالی وڈ اداکار ہیں جنھیں سنہ 1960 کی دہائی میں نہرو نے ایوان بالا میں جگہ دی۔ وہ انھیں انڈیا کے منبدوبین کی نمائندگی کے لیے دوسرے ممالک روانہ کیا کرتے تھے۔

اسی طرح کانگریس کے رہنما وی کے کرشنا مینن کی کامیابی کے لیے نہرو نے دلیپ کمار سے ان کی انتخابی مہم میں شرکت کی درخواست کی تھی۔ دلیپ کمار نے کئی جلسوں سے خطاب کیا اور شمالی ممبئی انتخابی حلقے سے مینن کی جیت یقینی بنائی۔ وہ ایوان بالا میں رکن پارلیمان بھی رہے۔

مزید پڑھیے

انڈین سیاست میں بالی وڈ کا بڑھتا ہوا کردار

رجنی کانت کے پرستار۔۔۔ بے شمار۔۔۔!

رواں سال جاری پارلیمانی انتخابات میں پہلے سے کہیں زیادہ فنکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے اس کی ایک وجہ جہاں ان کی سٹار اپیل ہے وہیں مختلف پارٹیوں کے لیے انتخابات میں کسی بھی صورت جیتنے کی خواہش بھی ہے۔

انڈیا کے معروف سیاسی مبصر مدھوکر اپادھیائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'انڈیا میں دو واضح رجحانات نظر آتے ہیں۔ ایک جنوبی ہند کا اور دوسرا شمالی ہند کا۔ جنوبی ہند میں اداکاروں کو دیوی دیوتا کے مقام پر رکھا جاتا ہے، ان میں الوہیت کا تاثر پیدا کیا گیا اور ان کی ایسی شبیہ بنائی گئی جو کہ مظلوموں کا داد رس ہو، بے نواؤں کی آواز ہو، ناانصافی کے خلاف لڑنے والا ہو اور حق و انصاف کا پیکر ہو۔‘

'ان کو آئیڈیل کے طور پر پیش کیا گیا ان میں خدائی صفات ڈالی گئيں کہ جو کچھ اچھائی ہے اسی آدمی کے دم سے ہے۔ اس میں برائی نہیں ہے اور وہ ہمیشہ برائی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ آپ این ٹی راما راؤ کا سینیما دیکھیے جس میں وہ کرشن اور دوسرے دیوتاؤں کے کردار کرتے نظر آتے ہیں، لوگ سینیما جا کر سکرین پر پیسے پھینکتے ہیں۔ ایم جی رام چندرن، جے للتا اور خود کروناندھی جو بہت بڑے سکرپٹ رائٹر تھے وہ اس شبیہ سازی میں شامل تھے۔ آج جو کمل ہاسن یا پرکاش راج ہیں وہ انھی کرداروں سے نکل کر آنے والے افراد ہیں۔'

جہاں تک شمالی ہند کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں انھوں نے کہا 'یہاں ابھی کوئی کردار سازی نہیں ہوئی ہے اداکار کی شہرت کا استعمال ہوا ہے۔ سوائے سنیل دت کے کوئی بھی اداکار چاہے وہ امیتابھ بچن ہوں، شترو گن سنہا ہوں، ہیما مالنی ہوں، جیا بچن ہوں، ریکھا ہوں یا ونود کھنہ ہوں کسی نے بھی اداکاری کی دنیا کو چھوڑ کر سیاست میں رچنے بسنے کی کوشش نہیں کی ہے۔'

رواں پارلیمانی انتخابات میں کئی نئے چہرے سامنے آئے ہیں جن میں اداکارہ ارمیلا ماتونڈکر، کمل ہاسن، پرکاش راج اور روی کشن وغیرہ شامل ہیں۔ آئیے بالی وڈ کے دس اداکاروں پر نظر ڈالتے ہیں جو روان انتخابات میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کی بالی وُڈ سیلفی، سوشل میڈیا پر ہلچل

انڈین فلمیں انتہا پسندوں کے نرغے میں؟

ارملا ماتونڈکر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ارملا ماتونڈکر ممبئی (شمالی) پارلیمانی حلقے سے کانگریس کی امیدوار ہیں

1۔ ارملا ماتونڈکر

سیاست میں قدم رکھنے کے معاملے میں ارملا ماتونڈکر سب سے نئی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ماہ 27 مارچ سنہ 2019 کو کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وہ رواں انتخابات میں ممبئی (شمالی) انتخابی حلقے سے کانگریس کی امیدوار ہیں۔

ان کی سٹار اپیل ابھی قائم ہے۔ ارملا نامزدگی کا پرچہ داخل کرنے کے لیے موٹر سائیکل پر اپنے شوہر کے پیچھے بیٹھ کر پہنچیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ عام آدمی کی نمائندگی کرنے کے لیے آپ کو عام آدمی کی طرح ہی چلنا ہو گا۔ ارملا کی فلم 'رنگیلا' بہت مشہور ہوئی تھی۔

ہیما مالنی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/dreamgirlhema
Image caption یہاں ہیما مالنی کو ایک کسان خاتون کے ساتھ گیہوں کے گٹھر کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جا رہا ہے

2۔ ہیما مالنی

ہیما مالنی نے ادکار ونود کھنہ کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ پہلے بی جے پی کی جانب سے ایوان بالا میں رکن پارلیمان نامزد ہوئیں اور پھر سنہ 2014 میں دارالحکومت دہلی کے پاس اترپردیش کے انتخابی حلقے متھُرا سے رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔

وہ دوبارہ وہیں سے انتخابی میدان میں ہیں جہاں دوسرے مرحلے میں 18 اپریل کو ووٹ ڈالے جائيں گے۔ ان کی انتخابی مہم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جس میں وہ کہیں کھیت میں گندم کاٹ رہی ہیں تو کبھی ٹریکٹر پر سوار ہیں۔ ان کے شوہر اداکار دھرمیندر نے بھی ان کی مہم میں شرکت کی۔ ان کی تصاویر پر سوشل میڈیا میں میم بن رہے ہیں جہاں کسان اس بات کے منتظر ہیں کہ ہیما مالنی آئیں تو ان کے کھیت کٹیں۔ بہت سے لوگ ان کے اس فوٹو شوٹ سے ناراض بھی ہیں۔

راج ببر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/RajBabbarMP
Image caption راج ببر کو یہاں ان کے مداحوں کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران دیکھا جا سکتا ہے

3۔ راج ببر

راج ببر کا ایک عرصے سے فلم سے زیادہ سیاست سے رشتہ رہا ہے۔ دلیپ کمار کے ساتھ فلم 'مزدور' میں ادکاری کے بعد ہی بہت سے لوگوں نے انھیں سیاست کے لیے بہتر قرار دیا تھا۔ انھوں نے سنہ 1989 میں جنتادل میں شمولیت کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا۔

وہ تین بار ایوان زیریں اور دو بار ایوان بالا کے رکن رہ چکے ہیں۔ جنتا دل کے بعد انھوں نے ملایم سنگھ کی سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی لیکن ساتھ زیادہ نہیں رہا اور پھر انھوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

وہ اترپردیش میں کانگریس کے صدر ہیں اور فتح پور سیکری کے انتخابی حلقے سے میدان میں ہیں۔

کمل ہاسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمل ہاسن جنوبی ہند میں بہت زیادہ مقبول ہیں اور حال ہی میں انھوں نے اپنی پارٹی لانچ کی ہے

4۔ کمل ہاسن

کمل ہاسن بنیادی طور پر جنوبی ہند کے فلم سٹار ہیں لیکن انھوں نے بالی وڈ میں بھی یادگار اور انمٹ نقوش قائم کیے ہیں۔ ان کی فلم 'ایک دوجے کے لیے'، 'صدمہ'، 'ساگر'، 'چاچی 420'، اور 'ہے رام' بہت کامیاب رہیں۔

انھوں نے گذشتہ سال مکّل نیدھی مائیم نامی اپنی پارٹی لانچ کی اور رواں انتخابات میں ان کی پارٹی 40 سیٹوں پر انتخابات لڑ رہی ہے۔ اس میں جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو کی 39 سیٹوں کے ساتھ پوڈوچيری (پانڈی چیری) کی ایک نشست شامل ہے۔

وہ بذات خود انتخابی میدان میں نہیں ہیں لیکن پارٹی کے صدر کی حیثیت سے وہ اپنے امیدواروں کے ساتھ انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں۔

جیا پردا تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption جیا پردا کو یہاں ترنامول کانگریس کی رہنما ممتا بینرجی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

5۔ جیا پردا

جیا پردا کا تعلق جنوبی ہند سے ہے لیکن وہ ہندی فلموں میں بہت معروف ہوئی اور جیتندر کے ساتھ ان کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔

انھوں نے جنوبی ہند کی ریاست آندھر پردیش کی تیلگو دیسم پارٹی سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا لیکن پارٹی کے سربراہ چندر بابو نائیڈو کے ساتھ اختلافات کے بعد انھوں نے پارٹی چھوڑ دیا پھر وہ سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئیں۔ وہ اترپردیش کی رامپور پارلیمانی سیٹ سے سماج وادی پارٹی کی امیدوار رہیں اور دو بار انتخابات جیت کر رکن پارلیمان بنیں۔

جیا پرادا نے رواں سال سب کو اس وقت چونکا دیا جب انھوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ 26 مارچ کو بی جے پی میں شامل ہوئیں اور رامپور سے ہی نئی پارٹی کی امیدوار ہیں۔

شترو گھن سنہا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شترو گھن سنہا ایک عرصے تک بی جے پی کا اہم چہرہ رہے لیکن اب وہ کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں

6۔ شتروگھن سنہا

شتروگھن سنہا ایک عرصے سے بی جے پی کے سٹار پرچار کرنے والے رہے ہیں لیکن سنہ 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ اعلی قیادت سے نالاں نظر آئے۔ بعض لوگوں نے ان کی ناراضگی کو انھیں کوئی وزارت نہ ملنا قرار دیا تو بعض نے ایک پورے گروپ کو نظر انداز کیے جانے کی بات کہی۔

شتروگھن سنہا نے سنہ 1992 میں ضمنی انتخابات سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ وہ نئی دہلی انتخابی حلقے سے کانگریس کے امیدوار اداکار راجیش کھنہ کے خلاف بی جے پی کے امیدوار تھے۔ شترو گھن سنہا کو اس انتخاب میں ناکامی ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد راجیش کھنہ کی ان سے تا عمر دشمنی رہی ہرچند کہ شتروگھن سنہا نے میل کی بہت کوشش کی۔

واجپئی حکومت میں وہ وزیر بنے اور پھر انھیں بی جے پی کا ثقافتی صدر بنایا گیا۔ سنہ 2009 میں وہ پٹنہ صاحب سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ انھوں نے ایک دوسرے اداکار شیکھر سمن کو شکست دی۔ اس کے بعد پھر سنہ 2014 میں وہاں سے دوبارہ منتخب ہوئے۔

بی جے پی کے خلاف مسلسل آواز بلند کرنے پر یہ ظاہر ہو گیا کہ اب وہ اس پارٹی میں نہیں رہیں گے بالآخر انھوں نے چھ اپریل سنہ 2019 کو کانگریس میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ اب وہ پٹنہ صاحب سے کانگریس کے امیدوار ہیں۔

پرکاش راج تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption پرکاش راج آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اترے ہیں

7۔ پرکاش راج

پرکاش راج نے حال ہی میں کہا ہے کہ سیاست سودے بازی ہے۔ وہ ایک عرصے سے سیاسی حلقوں میں سرگرم ہیں۔ سرگرم کارکن گوری لنکیش کے قتل کے بعد وہ حکمراں جماعت اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے خلاف کھل کر بولتے نظر آئے۔

پرکاش راج کئی زبانوں کی فلموں میں اداکاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ہندی کے علاوہ تیلگو، کنّڑ اور تمل فلموں میں ان کی خاص پہچان ہے۔ وہ فلموں میں زیادہ تر ولن کا کردار ادا کرتے ہیں۔

کرن کھیر تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption کرن کھیر شروع سے ہی بی جے پی رہنما نریندر مودی کی مداح رہی ہیں

8- کرن کھیر

کرن کھیر اداکار انوپم کھیر کی اہلیہ ہیں اور فلم انڈسٹری میں اپنے مخصوص کردار کے لیے معروف ہیں۔ انھوں نے 'سرداری بیگم' سے لے کر 'خوبصورت' تک درجنوں فلم میں ادکاری کے جوہر دکھائے۔

کرن کھیر نے سنہ 2009 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور ملک بھر میں ان کی انتخابی مہم میں شریک رہیں۔ سنہ 2014 میں وہ چنڈی گڑھ سے رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ انھوں نے کانگریس کے پون بنسل کو شکست دی تھی لیکن ان کے خلاف ایک دوسری اداکارہ گل پناگ عام آدمی پارٹی کی جانب سے امیدوار تھیں۔ گل پناگ تیسرے نمبر پر رہیں تھیں۔

رواں انتخابات میں ابھی ان کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن گمان غالب ہے کہ وہ چنڈی گڑھ سے ایک بار پھر بی جے پی کی امیدوار ہوں گی۔

روی کشن اور منوج تیواری تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption روی کشن (بائیں) اور منوج تیواری کو دیکھا جا سکتا ہے یہ دونوں بی جے پی میں شامل بھوجپوری فلم کے معروف اداکار ہیں

9۔ روی کشن

روی کشن ہندی فلموں سے زیادہ مقامی بھوجپوری فلموں میں مقبول ہیں۔ انھیں بھوجپوری فلم کا ’امیتابھ‘ اور ’متھن‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے شیام بینیگل اور منی رتنم جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔

روی کشن نے سنہ 2014 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں شرکت کی تھی لیکن انھیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سنہ 2017 میں روی کشن نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ انھیں رواں انتخابات میں گورکھپور کی اہم سیٹ سے بی جے پی کا امیدوار بنایا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں۔ بی جے پی میں ان کے شامل ہونے کی وجہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ ہیں۔

سمرتی ایرانی تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption سمرتی ایرانی اترپردیش میں کانگریس کے گڑھ کہے جانے والے انتخابی حلقے امیٹھی سے بی جے پی کی امیدوار ہیں

10۔ سمرتی ایرانی

سمرتی ایرانی فلموں سے زیادہ ٹی وی سٹار کے طور پر مقبول رہیں۔ لیکن گذشتہ کئی برسوں سے وہ بی جے پی کا نمائندہ چہرہ ہیں۔

سمرتی ایرانی نے کانگریس پارٹی کے نائب صدر (اب صدر) راہل گاندھی کو ان کے گڑھ امیٹھی میں چیلنج کیا تھا۔ اگرچہ وہ انتخابات میں جیت نہ سکیں لیکن انھیں نریندر مودی کی حکومت میں اہم وزارتیں ملیں جن میں یونین ٹیکسٹائل کی وزارت، انسانی وسائل کے فروغ (ایچ آر ڈی) کی اہم وزارت کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات کی بھی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

ماڈلنگ سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی سمرتی نے سنہ 2003 سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور اس کے دوسرے ہی سال وہ مہاراشٹر یوتھ ونگ کی نائب صدر مقرر ہوئیں۔

انھیں بی جے پی نے دہلی کے چاندنی چوک پارلیمانی حلقے سے کانگریس کے قد آور رہنما کپل سبل کے خلاف میدان میں اتارا لیکن انھیں شکست کا سامنا رہا۔ اس کے بعد انھیں گجرات سے راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا گیا۔

ایک زمانے میں نریندر مودی کی سخت مخالفت کرنے والی سمرتی ایرانی ایک عرصے سے ان کے قریبی رہنماؤں میں سے ایک تسلیم کی جاتی ہیں اور رواں انتخابات میں ایک بار پھر وہ امیٹھی سے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے خلاف میدان میں ہیں۔

۔

اسی بارے میں