ہزاروں برس پرانے مٹی کے بنے بوریندو اور جدید الیکٹرانک میوزک کا سُریلا سنگم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولش ڈی جے اور سندھ کے لوک فنکار کی مشترکہ کاوش کو سامعین نے بہت پسند کیا

'میں نے پہلی بار بوریندو کا نام سنا تو گمان ہوا کہ شاید کسی گٹار کا نام ہے، مگر پھر جب میں نے یہ پانچ ہزار سال پرانا ساز دیکھا جو بہت شاندار تھا۔‘

حیرت اور مسرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ یہ الفاظ تھے پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ڈی جے پریکٹکل لیڈی کے۔

الیکٹرانک میوزک بجانے والی پولینڈ کی ڈی جے پریکٹکل لیڈی پہلی دفعہ سندھ کی قدیم تہذیب سے جڑے ساز بوریندو کو دیکھ کر حیرت زدہ ہیں کیونکہ انھوں نے بظاہر مٹی کے بنے اس سادہ سے ساز کو بجتا ہوا دیکھا تو اس کی خوبصورت دھنوں سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ایک طبلہ نہ بجے تو 14 بندے بھوکے رہ جاتے ہیں‘

’سروز کے بغیر بلوچ قبائلی موسیقی نامکمل ہے‘

کیا آلہِ موسیقی ’رباب‘ پختونوں نے بنایا تھا؟

یقینا دو بالکل مختلف موسیقی کے سازوں کو یکجا کرنا ایک دلچسپ اور منفرد تجربہ تھا۔ جس کے دوران پاکستانی لوک فنکار ذوالفقار فقیر پولش ڈی جے پریکٹکل لیڈی کے ساتھ دھن بجانے کی تیاری میں مصروف تھے۔

سندھ کی قدیم تہذیب موہنجودڑو کا عکاس بوریندو مٹی سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں کیے گے تین سوراخوں سے بانسری کی طرح سر نکلتے ہیں۔

Image caption سندھ کی قدیم تہذیب موہنجودڑو کا عکاس بوریندو مٹی سے تیار کیا جاتا ہے

سندھ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار فقیر بوریندو بجانے والے آخری چند فنکاروں میں سے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبصورت ساز اپنی قدر و منزلت کھو رہا ہے اور اب ذوالفقار فقیر اس صدیوں پرانی ثقافت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ہہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے میوزک میلے کے دوران نوجوان نسل کے سامنے یہ ساز بجانا ان کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔

ذوالفقار فقیر کا کہنا تھا ’ایک دنیا قدیم ترین سازوں میں سے ایک ہے، یہ مٹی کا بنا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ساز کہیں کا بھی ہو، انڈیا، پاکستان، یورپ دنیا یا میں کہیں کا بھی، موسسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ ان لوگوں میں اور مجھے میں اتنا فرق ہے کہ میں ایک قدیم ساز اپنے ہاتھوں اور پھونک کی مدد سے بجا ہوں اور یہ اس کے ساتھ الیکٹرانک ساز بجا رہے ہیں۔`

Image caption سندھ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار فقیر بوریندو بجانے والے آخری چند فنکاروں میں سے ہیں

ذوالفقار فقیر کا کہنا تھا ’یہ لوگ بھی موسیقی کے بادشاہ ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔‘

ان کے بقول ایک چھوٹے سے گاؤں کا ایک غریب انسان ہونے کے ناطے ان موسیقاروں کے ساتھ فن کا مظاہرہ کرکے ان بہت خوشی ہوئی ہے۔

Image caption پولینڈ کی ڈی جے پریکٹیکل لیڈی کا پورا نام پراکتچنا پانی ہے جو 2006 سے مختلف ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی آرہی ہیں

بوریندو کے ساتھ الیکٹرانک ساز بجانے والی پولینڈ کی ڈی جے پریکٹیکل لیڈی کا پورا نام پراکتچنا پانی ہے جو 2006 سے مختلف ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی آرہی ہیں۔ اس پرفارمنس کو لے کر وہ بھی ذوالفقار فقیر کے جتنی ہی پرجوش نظر آئیں۔

انھوں نے موسیقی کے ملاپ کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مشرقی موسیقی بہت خالص ہے اور روح کو چھو جانے والی ہے‘۔

Image caption الیکٹرانک میوزک بجانے والی پولینڈ کی ڈی جے پریکٹکل لیڈی پہلی دفعہ سندھ کی قدیم تہذیب سے جڑے ساز بوریندو کو دیکھ کر حیرت زدہ ہیں

مشرقی اور مغربی موسیقی کا یہ منفرد ملاپ سامعین اور خصوصا نوجوانوں کو خوب بھایا اور وہ دیر تک الیکٹرانک میوزک اور بوریندہ کی دھنوں سے لطف اندوز ہوتے اور ناچتے رہے۔

12 اور 13 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے میوزک میلہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی بہت سے مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یہ میلہ ہرسال فیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے جس کا مقصد ملک میں موسیقی کی ذریعے ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ میلے کے دوران مختلف فنکاروں کی پرفارمنس نے لوگوں کا دل لبھایا مگر سندھی اور یورپین موسیقی کے ملاپ کو سب نے دل کھول کر داد دی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں