انڈیا کے پارلیمانی انتخابات: شاہ رخ خان کی مداحوں سے میوزک ویڈیو کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اپیل

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 13 مارچ کو ٹوئٹس کے ذریعے معروف انڈین شخصیات سے کہا تھا کہ وہ ووٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے انوکھے انداز اپنائیں۔

مودی کی اپیل کے پانچ ہفتوں بعد شاہ رخ خان نے پیر کو ٹوئٹر پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’دیر کے لیے معذرت چاہتا ہوں لیکن نریندری مودی نے کریٹیویٹی کے لیے کہا تھا۔‘

واضح رہے کہ انڈیا میں 11 اپریل سے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا ہے جو 19 مئی تک جاری رہے گا۔

پانچ ہفتے تک جاری رہنے والے اس انتخابی مہم میں پانچ مرحلوں میں ووٹ ڈالیں جائیں گے۔

انڈین الیکشنز کے بارے میں مزید پڑھیے

صفائی مہم میں شمولیت پر مودی پرینکا کے معترف

بالی وڈ نریندر مودی سے متفق نہیں

شاہ رخ نے ٹویٹ میں کہا ’وزیر اعظم صاحب نے انوکھا انداز اپنانے کے لیے کہا تھا۔ مجھے تھوڑی دیر ہوگئی ویڈیو بنانے میں۔ لیکن ووٹ کرنے میں آپ دیر نہ کرنا۔ ووٹنگ نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ ہماری طاقت بھی۔ مہربانی کر کے اس طاقت کا استعمال کریں۔ ‘

یہ اہم کیوں ہے؟

شاہ رخ کا شمار انڈیا کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ ان چند افراد میں سے ہیں جنھوں نے مارچ میں نریندر مودی کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس کا فوری جواب نہیں دیا تھا۔

شاہ رخ کی جانب سے پیر کو کی جانے والی ٹویٹ نے فوری طور پر خبر بنا دی۔ اگرچہ یہ ٹویٹ آنے میں تھوڑی دیر ہوئی تاہم اس ٹویٹ نے یقینی طور پر مودی کو مثاثر کیا ہو گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرِاعظم نے بالی وڈ کی شخصیات سے متعلق ٹویٹس کر کے اپنے اندر کے بالی وڈ کو جگا دیا ہے۔

ہماری پسندیدہ ٹویٹ وہ ہے جس میں انھوں نے بالی وڈ فلم کبھی خوشی کبھی غم کی ٹیگ لائن لکھی کہ ’یہ سب خاندان سے محبت سے متعلق ہے‘۔

مودی نے اس ٹویٹ میں اس فلم کے دو مرد اداکاروں شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن اور اس فلم کے ڈائریکٹر کرن جوہر کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ’یہ سب ہماری جمہوریت سے محبت سے متعلق ہے۔‘

خیال رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نے رواں برس 11 جنوری کو بالی وڈ کی شخصیات سے ملاقات کی تھی۔

ان سے ملنے والوں میں رنبیر کپور، عالیہ بھٹ، وکی کوشل، سدھارتھ ملہوترہ کے علاوہ فلمساز روہت شیٹی، ایکتا کپور اور بالی وڈ کی دیگر شخصیات شامل تھیں۔

اس ملاقات کا اہتمام فلمساز کرن جوہر نے کیا تھا جو حال ہی میں دیگر اداکاروں اور فلمسازوں کے ساتھ انڈسٹری کے کچھ مسائل کے حوالے سے وزیراعظم سے ملے تھے۔ اب چونکہ پچھلے وفد میں ایک بھی خاتون شامل نہیں کی گئی تھی اور اس بات پر کافی ہنگامہ ہوا تھا تو اس بار تین خواتین کو بھی شامل کر لیا گیا جن میں عالیہ بھٹ اور ایکتا کپور کے ساتھ بھومی پدنیکر بھی تھیں۔

اسی بارے میں