انڈیا کے انتخابات: اندرا گاندھی کا قتل اور سیاست میں فلمی ستارے

  • وندنا
  • بی بی سی ہندی
ارمِلا

،تصویر کا ذریعہSTRDEL/AFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ارمِلا نے حالہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے

ارمِلا ماتونگڑ سیاست میں آنے والی نہ تو پہلی فلمی ہستی ہیں اور نہ ہی آخری۔ فلم اور سیاست کا یہ ساتھ کافی پرانا ہے۔

چالیس سال پہلے 1979 میں 14 ستمبر کا دن تھا جب ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ وہ انڈیا میں ایمرجنسی کے بعد کا دور تھا اور جنتا پارٹی کا دور بھی ناکام ہو چکا تھا، مختلف سیاسی پارٹیوں کے ناراض لوگوں نے مل کر ایک نیشنل پارٹی بنائی تھی جس کے صدر دیو آنند تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امیتابھ بچن اور گاندھی خاندان کے نڑدیکی تعلقات تھے

اس پارٹی سے وی شانتا رام، وجے آنند، آئی ایس جوہر، جے پی سپپی سمیت کئی فلمی ہستیاں وابستہ ہوئیں۔لیکن آہستہ آہستہ یہ بات پھیلنے لگی کہ فلم انڈسٹری کے لوگوں کو بعد میں اس کا نقصان ہوگا جس کے بعد ایک ایک کر کے لوگ اس پارٹی کو چھوڑتے چلے گئے۔ سیاست سے فلم انڈسٹری کا یہ پہلا یا آخری رشتہ نہیں تھا۔

اندرا گاندھی کا قتل اور سیاست میں فلمی ستارے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنیل دت ہمیشہ سے ہی کاگنریس سے وابستہ رہے

اسی کی دہائی میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے فلم انڈسٹری کو بھی متاثر کیا۔ دسمبر 1998 میں عام انتخابات ہونے والے تھے اور اکتوبر میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔ ان کے بیٹے راجیو گاندھی نے اپنے دوست امیتابھ بچن اور سنیل دت سے الیکشن لڑنے کے لیے کہا۔ سنیل دت نے جب الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو ایک طرف الیکشن کی تیاریاں تھیں تو دوسری جانب ان کی بیٹی نمرتا دت اور راجند کمار کے بیٹے کمار گورو کی شادی کی تیاریاں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

راجیش کھنہ کانگریس ساتھ وابستہ رہے

سنیل دت ان چند فلمی ستاروں میں سے ایک تھے جو مرکزی وزیر بھی بنے اور بطور سیاسی رہنما ان کی بہت عزت تھی۔ 1984 میں امیتابھ بچن کا اس وقت کے قدآور رہنما ہیم وتی نندن بہو گنا کے خلاف الیکشن لڑنا اور پھر جیتنا اس وقت کی سب سے بڑی خبر تھی۔ ممتاز صحافی رشید قدوائی نے اپنی کتاب 'نیتا ابھینیتا' میں لکھا ہے کہ بہو گنا اپنی انتخابی ریلیوں میں امیتابھ کو 'نچنیا' کہہ کر پکارتے تھے لیکن جیا بچن نے اپنے شوہر کی انتخابی ریلیوں میں نئی جان پھونکی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCongress/Twitter

،تصویر کا کیپشن

بم دھماکے میں ہلاک ہونے سے پہلے راجیو گاندھی کی آخری تصویر جو منظرِ عام پر آئی تھی

لیکن سیاست نے ایسی کروٹ لی کہ بوفورز گنز کے گھپلے میں نام آنے پر امیتابھ دل برداشتہ ہوئے اور انہوں نے سیاست سے منھ موڑ لیا اور ساتھ ہی گاندھی خاندان سے انکی دوریاں بھی بڑھنے لگیں۔

اس کے بعد سے امیتابھ بچن کبھی عملی سیاست میں نہیں آئے۔

امیتابھ واحد سپر سٹار نہیں تھے جنہوں نے سیاست میں قسمت آزمائی۔ 1991 میں راجیش کھنہ کانگریس کی جانب سے نئی دلی سے بی جے پی کے قدآور لیڈر ایل کے اڈوانی کے خلاف کھڑے ہوئے اور محض ڈیڑھ ہزار ووٹوں سے ہارے۔

،تصویر کا ذریعہSAIRA BANO

،تصویر کا کیپشن

دلیپ کمار جواہر لال ہنرو سے بہت متاثر تھے

1991 کی وہ تصویر کافی مشہور رہی جس میں راجیو اور سونیا گاندھی راجیش کھنہ کو ووٹ ڈالنے کے لیے دلی کے ایک پولِنگ بوتھ میں پہنچے اور راجیش کھنہ ان کے پیچھے کھڑے تھے۔ رشید قدوائی لکھتے ہیں کہ راجیو گاندھی کی یہ آخری تصویر تھی کیونکہ اس کے کچھ گھنٹے بعد ہی ایک خودکش حملے میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

1992 میں ضمنی انتخاب میں راجیش کھنہ نے اپنے دوست شتروگھن سنھا کو شکست دی جو اس وقت بی جے پی میں شامل ہو چکے تھے اور واجپائی اور اڈوانی کے کافی قریب تھے۔

،تصویر کا ذریعہRaj K Raj/Hindustan Times via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

شترو گھن سنہا نے بھی ہیما کی طرح بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی

مودی حکومت سے ناراض شتروگھن سنہا نے حال ہی میں بی جے پی چھوڑ کر گانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ امیتابھ بچن اور شتروگھن سنہا کے بعد ونود کھنہ نے بھی سیاست میں قدم رکھا۔ اسی کی دہائی میں انہوں نے فلموں سے سنیاس لے لیا تھا لیکن 1998 میں انہوں نے گرداس پور سے الیکشن لڑا۔ 2009 کے علاوہ اپنی آخری سانس تک وہ رکن پارلیمان رہے اور ان کے دور میں علاقے میں کئی پل بنے انہیں 'سردار آف برِج ' کہا جانے لگا۔

،تصویر کا ذریعہArijit Sen/The India Today Group/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ہیما مالنی ونود کھنہ کی انتخابی مہم چلانے سیاتس میں آئی تھیں

1999 میں ہیما مالنی بی جے پی سے الیکشن لڑنے والے ونود کھنہ کے لیے انتخابی مہم چلانے آئی تھیں اور خود سیاست کے میدان میں کود گئیں اور ایوانِ بالا کی رکن بن گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہیما مالنی ان انتخابات میں بی جے پی سے الیکشن لڑ رہی ہیں

2014 میں عام انتخابات میں انہوں نے اپنے حریف کو تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا۔ لیکن وہ ہمیشہ تنازعوں سے گھری رہیں، کبھی ورنداون کی بوڑھی بیواؤں پر تو کبھی اپنی کار سے ہلاک ہونے والی بچی پر بیان کے حوالے سے۔

،تصویر کا ذریعہ by Milind Shelte/India Today Group/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

امیتبھ بچن نے سیاست چھوڑی اور دھرمیندر ناکام رہے

ہیروئنز کی بات کی جائے تو جیا پردہ بھی سیاست میں کافی ہٹ رہیں۔ جیا 1994 میں تیلگو دیشم پارٹی میں شامل ہوئیں اور جلد ہی پارٹی بدل کر چندرا بابو نائڈو سے جاملیں اور پھر ایوانِ بالا جا پہنچیں۔ ان کے کریئر میں بڑا موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے سماجوادی پارٹی جوائن کی۔

،تصویر کا ذریعہMohd Zakir/Hindustan Times via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

جیا پردہ سماجوادی پارٹی سے بی جے پی میں پہنچیں

اپنی انتخابی ریلی میں انہوں نے کہا 'مجھے معلوم ہے کہ رامپور والے اپنی بیٹیوں کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ ہجوم میں بولنے سے ڈرنے والی جیا پردہ کی تیور اب بدل چکے تھے۔ جنوبی بھارت سے آنے والی جیا پردہ نے رامپور سے لگا تار دو بار الیکشن جیت کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گوندا سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکے

سماجوادی پارٹی میں اعظم خان سے ان کا ہمیشہ سے چھتیس کا آنکڑا ہے۔ اب 2019 میں جیا نے رامپور سے بی جے پی کا دامن تھاما ہے۔

سماجوادی کی بات چلی تو اداکار راج ببر کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اسی کی دہائی میں جب سمیتا پاٹل سے ان کا رشتہ پروان چڑھ رہا تھا تو سمیتا کے والد شو راج پاٹل کانگریس سے وابستہ تھے۔ وہ بھی مختلف سیاسی جماعتوں سے ہو کر کاگریس میں شامل ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

راج ببر کانگریس سے وابستہ ہیں

پارلیمان کی بات کی جائے تو ہندی فلموں سے سب سے پارلیمان کا پہلا سفر ایک طرح سے اداکار پرتھوی راج کپور نے طے کیا تھا۔ 1952 میں انہیں راجیہ سبھا یعنی ایوانِ بالا کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ وہ جواہر لال نہرو کے کافی قریب تھے۔

اداکار دلیپ کمار کسی سیاسی جماعت کا حصہ تو نہیں بنے لیکن وہ بھی جواہر لال نہرو سے بہت متاثر تھے۔ 1962 میں نہرو کے کہنے پر ہی انہوں نے کانگریس کے امیدوار وی کے کرشنا مینن کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPRITHVI THEATRE

،تصویر کا کیپشن

پرتھوی راج کپور

اداکاراؤں میں ہندی فلموں کی ہیروئن نرگس دت 1980 میں گانگریس کی جانب سے پارلیمان کا حصہ بنیں۔

سیاست میں ناکامی کی عبارت لکھنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ مثلاً دھرمیندر جو بیکانیر سے رکن پارلیمان بنے لیکن بعد میں ناراض لوگوں نے ان کے لیے 'ہمارا رکن پارلیمان گمشدہ ہے' کے پوسٹر لگائے۔

گوندا کی سیاسی کوشش بھی فلاپ رہی۔ جنوبی بھارت میں بھی کئی ستارے سیاسی افق پر چمکے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے جنوبی بھارت کے ستاروں کی چمک کچھ زیادہ ہی رہی اور وہ کامیاب سیاست داں ثابت ہوئے۔

سیاست کا تجربہ نہ ہونے کے باجود بھی فلمی ستاروں کو عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن کام نہ کرنے پر اسی عوام نے انہیں ٹھینگا بھی دکھایا۔ راجیش کھنہ کے انداز میں کہا جائے تو 'یہ پبلِک ہے سب جانتی ہے'۔