صرف گوری رنگت والی لڑکیوں کے انتخاب پر انڈیا کا مقابلہ حسن تنقید کی زد میں

مقابلہ خوبصورتی کلکتہ انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سال مس انڈیا کے مقابلے میں شریک تمام ماڈلز ایک جیسی رنگت والی ہیں

یہ وہ مقابلہ ہے جس سے مشہور انڈین اداکارہ پریانکا چوپڑا کے کریئر کا آغاز ہوا تھا۔ اس وجہ سے یہ بات باعث تعجب نہیں کہ اگر فوٹو سیشن کے دوران مس انڈیا کے لیے منتخب ہونے والی ان ماڈلز کے چہروں پر ایک خاص طرح کی مسکراہٹ بکھری ہوئی ہے۔ آخر کار خوبصورتی کا یہ وہ اہم ترین مقابلہ ہے جو کئی زندگیاں بدل کر رکھ دے گا۔

لیکن بجائے یہ کہ مس انڈیا کے مقابلے میں پہنچنے کی خوشی منائی جائے یہ ماڈلز سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کی زد میں ہیں۔

مقابلے کی شرکا کی فوٹو پر تنقید کرتے ہوئے صارفین نے آرگنائزرز کو گوری رنگت سے متاثر ہونے کا طعنہ بھی دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فیئرنیس کریم: شاہ رخ اور دیپیکا پر تنقید

حسینۂ عالم کے انتخاب کے لیے حسن کا میلہ

تھائی لینڈ میں پرائیویٹ پارٹس کو گورا کرنے کا رجحان

‘کوئی نمائندگی نہیں‘

سوموار کو ٹائمز آف انڈیا اخبار، جو خوبصورتی کے اس سالانہ مقابلے کے آرگنائزرز سے تعلق رکھتا ہے، نے اس سال مقابلے میں شریک ہونے والی خواتین کی تصویر شائع کی ہے۔ ان گوری رنگت کی خواتین کی تصویر پر سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ مقابلہ یگانگت کا شکار ہے

انڈیا کی مختلف ریاستوں سے اس مقابلے کے لیے جیت کر آنے والی یہ خواتین ہی اس سال 15 جون کو مس انڈیا کا تاج پہننے کی دوڑ میں شریک ہوں گی۔ مقابلے کی فاتح دنیا بھر میں پورے انڈیا کی خوبصورتی کی نمائندگی کرے گی۔

‘اس سال مس انڈیا کا تاج کون پہنے گا؟‘ کے عنوان سے اخبار میں ایک پورا صفحہ شائع ہوا جس میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ اس مقابلے کے لیے آرگنائزرز پورے انڈیا کے چاروں زونز میں گئے اور ہر ریاست سے ایک جیتنے والی کا انتخاب کیا گیا۔

حسیناؤں کا یہ امتزاج خبروں میں تو آیا لیکن اس کی وجہ کچھ اچھی نہیں تھی۔

مقابلے سے پہلے سامنے آنے والی 30 خواتین کی تصویر نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’اس تصویر میں غلط کیا ہے؟‘

کئ صارفین نے جواب میں نشاندہی کی کہ اس مقابلے میں لمبے بالوں اور ہلکی رنگت والی یہ تمام 30 خواتین ایک جیسی لگ رہی ہیں۔ کچھ نے تو مذاق کیا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تصویر کسی ایک خاتون کی ہی ہو۔

سوشل میڈیا پر بحث چھڑی تو بی بی سی نے اس مقابلے کے آرگنائزرز سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

1990 کی دہائی کے وسط سے مقابلہ حسن انڈیا میں ایک خاص مقام اختیار کر چکا ہے۔

اس دوران انڈیا نے کئی مشہور مس انڈیا پیدا کی ہیں جن میں ایشوریا رائے بچن، سشمیتا سین اور پریانکا چوپڑا شامل ہیں جنھوں نے کئی عالمی مقابلے بھی جیتے۔

ان خوبصورتی کے مقابلوں میں جیتنے والوں کی معقول تعداد نے بعد میں انڈیا کی مشہور فلم انڈسٹری کا انتخاب کر لیا۔

خوبصورتی کے یہ مقابلے اب ملک بھر میں پھیل چکے ہیں۔ ان مقابلوں کی بڑی وجہ شہرت نسبتاً صاف رنگت کی خواتین کا انتخاب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایشوریا رائے 1994 میں مس ورلڈ کا تاج پہننے میں کامیاب ہوئیں

یہ قابل تعجب نہیں ہے۔ انڈیا خاص طور پر خواتین کے معاملے میں گوری رنگت سے متاثر ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو گوری رنگت کو کالی رنگت سے بہتر سمجھتے ہیں۔ شادی کے لیے بھی گوری رنگت ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ 1970 کی دہائی سے ہے جب انڈیا میں پہلی فیئر اینڈ لولی کریم متعارف ہوئی، تب سے رنگ کو گورا کرنے والی کاسمیٹکس کی فروخت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

انڈیا فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار بھی ٹی وی پررنگ گورا کرنے والی کاسمیٹکس کپمنیوں کی طرف سے کی جانے والی تشہیر میں حصہ لیا۔

ٹی وی پر ایسی کمپنیوں کی تشہیر میں ایسی کریم کو نہ صرف گوری رنگت بلکہ بہترین ملازمت، محبت کی ضامن اور شادی کے بہترین نسخے کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

اس طرح کے حسن کے مقابلے اور ایک خاص رنگت کی ترویج صرف ایک خاص ذہنیت کے عکاس ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 2005 میں چند ذہین کمپنی منیجرز نے مردوں کی گوری رنگت کا راز بھی تلاش کرنے کا دعوی کیا اور پہلی کریم متعارف کرا دی جس کے استعال سے کوئی مرد گورا اور خوبصورت ہو سکتا ہے۔

مشہور بھارتی اداکار شاہ رخ خان کی طرف سے اس کی تشہیر نے مردوں کو گورا کرنے والی اس کریم کی کامیابی کو چار چاند لگا دیے۔

حالیہ برسوں میں ڈارک از بیوٹی فل اور ہیش ٹیگ فیئر اینڈ لولی کے ساتھ بھی مہمیں چلائی گئیں جن کے ذریعے ’کلر ازم‘ کو چیلنج کیا گیا اور لوگوں کو کہا گیا کہ کالی رنگت پر بھی خوشی کا اظہار کریں۔

گذشتہ سال میں نے ایک نئی مہم سے متعلق لکھا کہ ذہن میں یہ تصور لے کر آئیں کہ مشہور ہندو دیوتاؤں کی رنگت کالی تھی۔

لیکن یہ سب گوری رنگت کی دعویدار کریم بنانے والی کمپنیوں کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لیے کافی نہیں تھا جس کے ذریعے بلند و بانگ دعوے کیے گئے۔

ان کمپنیوں کی مصنوعات کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال فیئرنس کریمز اور بلیچز کی فروخت کئی ملین ڈالرز ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سنہ 2023 تک خواتین کی فیئرنس مصنوعات کی مارکیٹ 50 ارب انڈین روپے تک کی ہو گی۔

رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر کسی کی ذاتی پسند ہے کہ اگر خواتین لپ سٹک اس وجہ سے استعال کرسکتی ہیں کہ ان کے ہونٹ سرخ لگیں تو پھر ایسے میں گوری رنگت کے لیے فیئرنس کریم اور جیل استعمال کرنے میں کیا حرج ہے؟

اس دلیل کی منطق تو ضرور ہے لیکن ان کریمز کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا کہ اس طرح گوری رنگت کی تشہیر سے کالی رنگت والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے جو پہلے ہی کم حوصلے کے مالک ہوتے ہیں۔

‘اس طرح ان کی ذاتی اور پروفیشنل دوڑ پر بھی اثر پڑتا ہے۔‘

ہم نے کالی رنگت والی ماڈلز سے یہ سن رکھا ہے کہ کیسے ان کو کام میں محض ان کی رنگت کی وجہ سے نظرانداز کیا گیا۔ سیاہ رنگت کی چند ہی اداکارائیں بالی ووڈ میں راج کررہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2014 میں ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز کونسل آف انڈیا نے ایڈورٹائزرز کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ اشتہارات کے دوران سیاہ رنگت والوں کو پریشان، بدنما اور ذہنی دباؤ کا شکار ظاہر کرنے سے باز رہیں گے۔

اپنی مصنوعات کی تشہیر کے دوران ایسے افراد کو شادی، ملازمت یا دیگر معاملات کے حوالے سے بدنصیب ظاہر نہیں کریں گے۔

گوری رنگت سے متعلق اشتہارات اب بھی بنائے جا رہے ہیں اگرچہ اب ان میں ان کمپنیوں نے کچھ احتیاط برتی ہے۔ مشہور فلمی ستارے اب بھی ان مصنوعات کی تشہیر کے لیے سکرین پر نظر آتے ہیں۔

جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہی ہوں تو ایک دل کو لبھانے والی خبر ملی ہے کہ تیلگو سے اداکارہ سائی پالاوی نے فیئرنس کریم کمپنی کی طرف سے 20 ملین روپے کی آفر ٹھکرا دی ہے۔ اب وہ ایسی مصنوعات کی تشہیر کے لیے سکرین پر نظر نہیں آئیں گی۔

’میں اس طرح کے اشتہار سے رقم کما کر کیا کروں گی؟ مجھے اتنی زیادہ رقم کی ضرورت نہیں ہے۔‘

’میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہم نے اپنے لیے غلط معیار مقرر کردیے ہیں۔ یہ انڈین رنگت ہے۔ ہم غیر ملکیوں کی پیروکاری نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ گورے کیوں پیدا ہوتے ہیں۔‘

‘ان کی اپنی رنگت ہے اور ہماری رنگت اپنی ہے۔‘

پالاوی کے موقف کو خاصی پزیرائی مل رہی ہے اور انھیں سالانہ مقابلہ حسن کے تناظر میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں