شمائل عالم خان اور شاہکار عالم خان کا فورٹیٹیوڈ پختون کور: پشتو میں ریپ موسیقی متعارف کرانے والی جوڑی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشتو موسیقی کو جدید ریپ کا تڑکا!

پشتو موسیقی کے کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ نرالا ہے لیکن اب پشاور کے کچھ نوجوان پشتو موسیقی کی تاریخ میں پہلی دفعہ اس میں ریپ کا تڑکا لگا کر ایک نئے رنگ میں پیش کر رہے ہیں۔

’فورٹیٹیوڈ پختون کور‘ (Fortitude Pukhtoon Core) نامی بینڈ کے تینوں ممبران کا کوئی میوزک بیک گراؤنڈ نہیں ہے۔ شمائل عالم خان پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئیر، شاہکار عالم خان آرکیٹکچرل انجینئیر اور تیسرے بینڈ ممبر مصطفیٰ کمال نے ایم بی اے کیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود میوزک کے شوق نے انھیں جوڑے رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملیے پاکستان کی ’گلی گرل‘ سے

آپ نے عابد بروہی کا نیا گانا 'سبی سانگ' سنا ہے؟

مٹی کے بوریندو اور الیکٹرانک میوزک کا سُریلا سنگم

شاہکار عالم خان نے بتایا ’سنہ 2005- 2004 میں ہم نے فورٹیٹیوڈ پختون کور کے نام سے اپنا بینڈ بنایا، اس وقت ہم انگریزی میں ریپ کرتے تھے لیکن سنہ 2010-2011 میں ہم نے پشتو ریپ شروع کیا۔ اس کی پہلی ویڈیو ہم نے پختون کور کے نام سے ریلیز کی جو ہماری توقع کے برعکس کافی وائرل ہوئی۔‘

شمائل عالم خان کہتے ہیں ’ہم پشتو کلچر کو میوزک کے ذریعے مزید آگے لانا چاہتے تھے اس لیے ہم نے پشتو ریپ شروع کیا۔ اسی لیے انگریزی بھی شروع سے ہمارے میوزک کا حصہ رہی ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انگریزی کے ذریعے ہم زیادہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔‘

جہاں کئی لوگ پشتو ریپ کے انداز کو پسند کرتے ہیں وہی پر کچھ لوگ اس کے خلاف بھی ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ اس سے پشتو موسیقی خراب ہوگی۔

شمائل عالم خان کے مطابق ’بہت سارے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ پشتو میں ریپ نہیں ہونا چاہیے لیکن بات یہ ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل جدید موسیقی کو زیادہ پسند کرتی ہے اور اس سے پشتو میوزک کو پوری دنیا میں پہنچانے میں مدد ملے گی۔‘

اس بینڈ کی موسیقی میں معاشرتی مسائل کو بھی ایک مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ موسیقی کی باقاعدہ تعلیم اور وسائل نہ ہونے کے باوجود اس بینڈ نے کئی گانے ریلیز کیے جو کہ کافی مشہور بھی ہوئے۔

شاہکار عالم خان کے مطابق ’2011-2013 کے دوران ہم نے ایک اور گانا ’نو بارڈرز‘ کے نام سے ریلیز کیا جو کافی وائرل ہوا۔ بینڈ کے آغاز کے چار سال ہمارے لیے کافی مشکل تھے کیونکہ اس وقت ہم صرف گانے لکھتے تھے لیکن اب ہم نے بغیر کسی استاد کے میوزک بنانا خود سیکھ لیا ہے اور ہم اپنے گانوں کا سارا کام خود کرتے ہیں۔‘

Image caption شمائل عالم خان پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئیر جبکہ شاہکار عالم خان آرکیٹکچرل انجینئیر ہیں

سب سے پہلے پشتو میں ریپ کرنا بذات خود ایک کامیابی ہے وہیں پر اس کو متعارف کرانا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ ان نوجوانوں کو جہاں ایک طرف عوام کی طرف سے تنقید کا سامنا تھا وہیں پر اپنے خاندان کی طرف سے بھی مشکلات تھیں۔

شمائل عالم خان نے بتایا ’ہمارے گھر والے اس لیے بھی خلاف تھے کہ ان کو لگ رہا تھا کہ بچے میوزک میں مصروف ہو کر کہیں پڑھائی نہ چھوڑ دیں لیکن ہم نے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی اور میوزک بھی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے والد پہلے مخالف تھے لیکن اب نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں