نکی مناج کا سعودی عرب میں کنسرٹ منسوخ کرنے کا اعلان

نکی مناج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نکی مناج کے اس طے شدہ کنسرٹ پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی۔

گلوکارہ نکی مناج نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں 18 جولائی کے لیے طے شدہ اپنا کنسرٹ منسوخ کر دیا ہے۔

یہ اعلان انھوں نے خواتین اور ہم جنس پرست افراد کے لیے اپنی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔

ان کے اس طے شدہ کنسرٹ پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی جبکہ کچھ افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ ان کے مختصر لباس اور ان کے گانوں کے فحش بول انتہائی قدامت پسند ملک میں کیا ردِ عمل حاصل کریں گے۔

سعودی عرب تفریحی صنعت پر پابندیوں میں کمی اور آرٹس کے شعبے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے مگر گزشتہ سال استنبول میں سعودی سفارتخانے کے اندر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کڑے جائزے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

35 سالہ پابندی کے بعد سعودی عرب میں پہلا سنیما

سعودی عرب کے ساحلوں پر لگژری سیرگاہیں

سعودی عرب میں ’ایک ناقابلِ فراموش رات‘

مارچ میں مملکت پر مزید تنقید اس وقت ہوئی جب اس نے خواتین کے حقوق کی 10 کارکنوں پر مقدمات درج کیے جس کے بعد انھیں ٹرائل کا سامنا ہے۔

اپنے ایک بیان میں ریپ گلوکارہ کا کہنا تھا کہ 'محتاط غور و فکر کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں جدہ ورلڈ فیسٹیول میں اپنا طے شدہ کنسرٹ نہیں کروں گی۔'

اس فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے سعودی عرب میں اپنے مداحوں کے سامنے پرفارم کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں مگر مسائل کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل کرنے کے بعد میں سمجھتی ہوں کہ میرے لیے خواتین اور ہم جنس پرستوں کے حقوق اور آزادی اظہار کی حمایت کرنا اہم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ ان کے مختصر لباس اور ان کے گانوں کے فحش بول انتہائی قدامت پسند ملک میں کیا ردِ عمل حاصل کریں گے

جمعے کو امریکی تنظیم ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے نکی مناج کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں ان پر 18 جولائی کے فیسٹیول سے دستبردار ہونے کے لیے زور دیا گیا تھا۔

ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 'سلطنت کے پیسے ٹھکرا دیں' اور اپنے اثر و رسوخ کو قید خواتین کارکنان کی رہائی کے لیے استعمال کریں۔

گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر لوگوں نے سعودی عرب میں پرفارم کرنے کے نکی مناج کے فیصلے کو منافقانہ قرار دیا تھا اور ہم جنس پرستوں کے جلوسوں میں ان کی شرکت کا موازنہ ہم جنس پرستی پر سعودی مؤقف سے کیا گیا تھا جہاں ہم جنس پرستی پر پابندی عائد ہے۔

نکی مناج سے پہلے بھی کئی فنکاروں پر سعودی عرب میں پرفارم کرنے کی حامی بھرنے پر تنقید ہوچکی ہے۔

اس سال کے اوائل میں مرائیاہ کیری نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سلطنت میں اپنی پرفارمنس منسوخ کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں ریپ گلوکار نیلی پر اس وقت سخت تنقید کی گئی جب انھوں نے 'صرف مردوں' کے لیے مخصوص کنسرٹ میں پرفارم کیا۔

اسی بارے میں