بشر مراد: صنفی برابری اور قدامت پرستی پر نغمے بنانے والا فلسطینی گلوکار

بشر مراد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'میں خود سے مسلسل یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا میں نے اپنی گلوکاری سے کوئی حد تو پار نہیں کر دی۔'

فلسطینی گلوکار بشر مراد خطروں سے کھیلنے کے عادی ہیں خواہ وہ شادی کے لباس میں پرفارم کر رہے ہوں یا پھر جنسی آزادی یا ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے گا رہے ہوں۔

یروشلم میں ایک عرب ہوتے ہوئے وہ اپنے معاشرے کے قدامت پرست عناصر کے خلاف بات کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میں کوشش کرتا ہوں کہ لوگوں سے عزت سے پیش آؤں لیکن بعض اوقات ایسا نہیں بھی کرتا۔'

مثال کے طور پر 'سب کی شادی ہو رہی ہے' کے عنوان سے وہ اپنے ایک گیت کا ذکر کرتے ہیں جو معاشرے میں شادی سے متعلق روایتی سوچ پر تبصرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اعلامیہ جس نے عرب اسرائیل تنازعے کو جنم دیا

’فلسطینیوں کو آزادی چاہیے، اربوں ڈالروں کی باتیں نہیں‘

عھد تمیمی: فلسطینی مزاحمت کی علامت

'ہم سے ہمیشہ پوچھا جاتا ہے کہ 'آپ شادی کب کر رہے ہیں؟' اور ہم نے یہ نظریہ بنا لیا ہے کہ اگر 30 سال کی عمر تک آپ کی شادی نہیں ہوتی ہے تو آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔'

اسے اجاگر کرنے کے لیے انھوں نے ایک گانے میں خود ہی شادی کا لباس پہن لیا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس ویڈیو میں، میں خود پادری، ویٹر، دولھا اور پھر دلھن کا کردار ادا کرتا ہوں۔ مجھے جنسی کرداروں کے ساتھ کھیلنے میں مزا آتا ہے۔'

مختلف فلسطینی مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ یہی لباس پہن چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے انھیں بہت حمایت ملی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ'کبھی کبھار منفی رائے بھی مل جاتی ہے ۔۔۔۔ لیکن لوگ ایسی سوچ اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سارے لوگوں نے وہ خطرہ مول نہیں لیا ہوتا ہے جو میں نے لیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی سختیوں کی وجہ سے ناقدین نے پہلے ہی اس مقابلے کا بائیکاٹ کر دیا تھا

بشر کہتے ہیں کہ صنفی برابری، ہم جنس پرستی پر سرگرمی اور اسرائیلی معاشرے میں عربی ہونے کے موضوعات پر ان کے گانے مختلف لوگوں کو للکارتے ہیں۔

'یہ ان لوگوں کو غصے میں مبتلا کرتے ہیں جو فلسطینیوں کے مکمل حقوق کو نہیں مانتے اور ہمارے معاشرے کے ان لوگوں کو بھی جو پرانے نظام کے ساتھ مطمئن ہیں۔

'میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو نئے خیالات تسلیم کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اور اس سمت میں کام جاری ہے۔'

حال ہی میں اسرائیل نے ابھرتے ہوئے گلوکاروں کے مقابلے 'یورو ویژن سونگ کانٹیسٹ' کی میزبانی کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔

منتظمین ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ یہ مقابلہ بالکل غیر سیاسی ہے لیکن بشر کے مطابق 'یہ بات اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے۔'

'یہ مقابلہ پہلے ہی سیاسی حیثیت اختیار کر چکا تھا کیونکہ یہ تل ابیب میں ہو رہا تھا۔'

مقبوضہ غرب اردن، غزه اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پالیسیوں کی وجہ سے ناقدین نے پہلے ہی اس مقابلے کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔

'تل ابیب میں پورے یورو ویژن مقابلے کے دوران اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔'

غرب اردن اور غزہ میں مقیم فلسطینی کہتے ہیں کہ وہ اسرائیلی سرگرمیوں اور پابندیوں کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے تشدد سے بچنے کے لیے اپنی حفاظت کر رہے ہیں۔

مقابلہ ختم ہونے کے فوراً بعد بشر نے آئس لینڈ کی جانب سے مقابلے میں شرکت کرنے والے گروپ ہتاری کے ساتھ تیار کیا گیا اپنا ایک دوگانا جاری کیا۔ ہتاری شو کے نتیجے کے دوران فلسطینی سکارف پہننے پر توجہ کا مرکز بنے تھے۔

بشر کہتے ہیں کہ 'مجھے ان لوگوں پر فخر تھا کیونکہ وہ واحد ایسے لوگ تھے جنھوں نے مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے لوگوں تک ایک پیغام پہنچایا۔'

بہت سے لوگوں کے لیے لفظ 'فلسطین' اس لیے متنازع ہے کیونکہ یہ نہ صرف فلسطینیوں کی حمایت کرتا ہے بلکہ اسرائیل مخالف تاثر بھی دیتا ہے۔

یورو ویژن مقابلہ پیش کرنے والے ادارے ای بی یو نے اس وقت کہا تھا کہ وہ بینڈ کی اُس حرکت کی تحقیقات کریں گے۔

بشر کے مطابق 'یہ کسی فرد پر حملہ نہیں تھا۔ یہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ تقریباً 20 کروڑ لوگ فائنل دیکھ رہے تھے اور مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے انھیں یورو ویژن کے بعد پیغام بھیج کر بتایا کہ اس واقعے نے انھیں وسیع سیاسی حالات کی آگاہی دی۔

ہتاری یورو ویژن کے دوران سٹیج پر اپنے مخصوص چمڑے اور بی ڈی ایس ایم لباس یعنی ایک دوسرے کے ساتھ باہم ربط اور باہم اختلاط والے لباس کے لیے توجہ کا مرکز رہے۔

حال ہی میں بشر نے آئس لینڈ کے ٹی وی چینل پر ان کے ساتھ پرفارم کیا اور انھیں فلسطینیوں کی جانب سے مثبت اور 'نفرت انگیز' دونوں قسم کے ملے جلے ردعمل ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہتاری بینڈ شو کے دوران فلسطینی سکارف پہننے پر توجہ کا مرکز بنا

'مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ میں بے ادبی کر رہا ہوں اور اگر ہتاری اپنے اس بی ڈی ایس ایم والے لباس میں فلسطین آئیں تو شاید انھیں مار دیا جائے گا۔'

بہرحال وہ کہتے ہیں کہ جہاں بعض مظاہرین نے بہت سختی سے ان کی مخالفت کی ہے وہیں دوسری طرف فلسطینی موسیقی مجموعی طور پر شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہاں الیکٹرونک، ٹریپ اور ٹیکنو موسیقی کا بہت رجحان ہے۔ یہاں حال ہی میں ہم نے فلسطینی بوائلر روم دیکھا جسے رملا سے براہ راست نشر بھی کیا گیا۔ یہاں لوگ بہت سی چیزوں کے بارے میں نہیں جانتے۔

'اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ فلسطین آئیں اور یہ سب خود دیکھیں۔'

اسی بارے میں