کنگنا قوم پرستی کے رتھ پر سوار سیاست میں؟

کنگنا

بالی وڈ کی اداکارہ کنگنا راناوت جھانسی کی رانی کی طرح اپنے راستے میں آنے والی اقربا پروری، تعصب اور تنقید کو کچلتی چلی گئیں لیکن حال ہی میں میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ 'منیکرنیکا' کے کردار سے نکل کر 'ججمینٹل ہے کیا' کی بابی بن گئيں۔

خیر آرٹسٹ کی یہی تو خوبی ہے، لیکن حقیقی زندگی کی کنگنا اور ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران ان سے ان تنازعات کے بارے میں بات کی گئی جس کے لیے وہ ان دنوں تنقید کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کے نام کنگنا رناوت کا پیغام

مجھے مردوں سے نفرت نہیں ہے: کنگنا

تنازع کیا تھا؟

رواں ماہ فلم 'ججمینٹل ہے کیا' کی پروموشن کے دوران ممبئی کے علاقے اندھیری میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی جہاں بہت سے صحافی موجود تھے۔

اس پریس کانفرنس میں فلم کی پروڈیوسر ایکتا کپور سے لے کر کنگنا کے شریک اداکار راج کمار راؤ اور فلم کے ہدایتکار پرکاش كوویلامدی بھی موجود تھے۔

سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ایک صحافی نے ابھی مائیک ہاتھ میں ہی لیا تھا کہ کنگنا اس صحافی پر بھڑک اٹھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANI
Image caption پریس کانفرنس کے دوران کنگنا راناوت اور راجکمار راؤ کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

انھوں نے سٹیج سے کہا: 'جسٹن، تم تو ہمارے دشمن بن گئے ہو، بہت گھٹیا باتیں لکھ رہے ہو، اتنا گندا سوچتے کیسے ہو؟'

ان الزامات کو سننے کے بعد صحافی نے کنگنا سے اس مضمون کے بارے میں بتانے کے لیے کہا جس سے وہ اس قدر ناراض تھیں، لیکن کنگنا نے اس کا جواب نہیں دیا۔

صحافی نے کنگنا پر الزام لگایا کہ ایک بڑے سٹار ہونے کی وجہ سے وہ اس پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی۔

وہاں موجود چند صحافی بھی کنگنا کے رویے پر بھڑک اٹھے لیکن کسی طرح حالات پرسکون ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پریس کانفرنس کے دوران اٹھے تنازعے کے بعد پریس کے ایک حصے نے کنگنا کے بائیکاٹ کا اعلان کیا

کنگنا کا بائيکاٹ

اس کے بعد انٹرٹینمنٹ جرنلسٹ گلڈ آف انڈیا نے گنگنا کا بائیکاٹ کیا جس کی ممبئی پریس کلب اور پریس کونسل آف انڈیا نے بھی حمایت کی۔

بعد میں کنگنا نے ٹویٹر پر دو ویڈیو جاری کیے اور میڈیا پر حملہ کیا اور بائیکاٹ کے خلاف ایک قانونی نوٹس بھی بھیجا۔

جب بی بی سی نے کنگنا سے پوچھا کہ وہ اس صحافی کے کس مضمون سے ناراض تھیں تو کنگنا نے براہ راست کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ اس نے منیکرنیکا کا نام بگاڑا تھا۔ جبکہ پریس کانفرنس کے دوران وہ 'جنگوئسٹک' بتائے جانے پر ناراض نظر آئی تھیں۔

'قوم پرستی کیا بے وقوفی ہے؟'

کنگنا نے کہا کہ بالی وڈ میں یوں تو ڈان، ابو سلیم، نشے کے عادی لوگوں پر فلمیں بنتی ہیں اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں لیکن اگر کوئی بھگت سنگھ، جیجا بائی، چھترپتی شیواجی یا جھانسی کی رانی پر فلم بنانا چاہے تو اسے 'جنگوئسٹک' کہا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کنگنا کو تین بار قومی فلم ایوارڈ مل چکے ہیں

انھوں نے پوچھا کہ کیا انڈیا کے ہیروز پر فلمیں بنانا غلط ہے؟ ان کی کہانی بھی سامنے آنی چاہیے اور کسی کو تو اس کی ذمہ داری لینی ہوگی۔

انھوں نے کہا: 'مجھے قوم پرست کہلانے سے گریز نہیں۔ قوم پرست ہونا کا کوئی شرم کی بات نہیں۔'

انھوں نے پوچھا کیا قوم پرست ہونا بے وقوفی ہے؟

ان سے پوچھا گیا کہ بالی وڈ اس بات کے لیے بدنام ہے کہ جیسی حکومت ہوتی ہے ویسے ہی ان کے نظریات ہو جاتے ہیں۔ تو کیا کنگنا قوم پرست نظریات کی صرف اس لیے حامل ہیں کیونکہ موجودہ حکومت قوم پرستی پر زور دیتی ہے؟

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے سے ہی وہ اپنے قوم پرستانہ نظریات کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TRAILERGRAB/ZEE STUDIOS

تو کیا مستقبل میں کنگنا سیاست میں نظر آ سکتی ہیں؟

اس کے جواب میں کنگنا نے کہا کہ فلمی دنیا نے انھیں جو مقام دیا ہے سیاست میں اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ فلمی دنیا نے انھیں اپنی بات کہنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم دیا ہے، سیاست میں انھیں اپنا مستقبل نظر نہیں آتا۔

ٹوئٹر پر اپنی ویڈیو کے بارے میںکنگنا نے کہا: 'میں نے دو ویڈیو جاری کی تھیں، جس میں سے پہلے ویڈیو میں واضح طور پر بتایا تھا کہ میں اس میڈیا کے خلاف نہیں ہوں جو اپنا فرض ادا کر رہی ہیں بلکہ اس میڈیا کے خلاف جو فلم مافیا کے ساتھ مل کر میرے خلاف لکھتی ہیں۔'

کنگنا کا خیال ہے کہ کچھ میڈیا والے بالی وڈ میں اقربا پرور لوگوں کے ساتھ مل کے انھیں آن لائن ٹرول کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے خلاف لکھتے ہیں۔

وہ انگریزی ذرائع ابلاغ کے لوگوں سے بھی شکایت کرتی ہیں جو ہندی بولنے کی وجہ سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

تنقید برداشت نہیں؟

آج کل بالی وڈ کے فنکار کو اپنی تنقید برداشت کیوں نہیں ہوتی؟ اگر ان کی ایک فلم پر کوئی صحافی تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے تو وہ تنقید ہضم کیوں نہیں کر پاتیں؟

ان سوالوں پر کنگنا نے کہا: 'فلم ریویو خراب ملنے سے کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مجھے فلم ریویو کے نام پر ٹرول کیے جانے پر اعتراض ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میڈیا کے کچھ حصے سے خفا کنگنا سے جب یہ پوچھا گیا کہ اتنے تنازعات کی وجہ سے انھیں انڈسٹری میں دوست بنانے میں دقت تو نہیں ہوتی؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کی طرح بہت سے لوگ ہیں اس انڈسٹری میں اور ان کے بہت سے دوست ہیں جیسے انوپم کھیر، کرن کھیر اور ڈائریکٹر اشونی اور ان کے اہل خانہ۔

رنگولی اور ان کی ٹویٹس

ہم نے ان کی بڑی بہن رنگولی کے ٹویٹس پر سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کہ جب تاپسی نے 'ججمینٹل ہے کیا' کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تو رنگولی نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ تاپسی کنگنا کی نقل کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/RANGOLI CHANDEL

اپنی بہن رنگولی کی حمایت کرتے ہوئے کنگنا نے کہا کہ تاپسی نے ان کے بارے میں کچھ اچھی بات نہیں کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تاپسی نے ایک بار کہا تھا کہ 'کنگنا کو ڈبل فلٹر کی ضرورت ہے' اور کنگنا نے بتایا کہ تاپسي نے اقربا پروری پر کہا تھا کہ اقربا پروری کا رونا وہ روتے ہیں جن کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا۔

کنگنا نے انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ دل کی بات سنتی ہیں اور انھیں غصہ بھی آتا ہے۔

انھوں نے کہا: 'کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خبطی ہوں۔ اپنے کام کے لیے مجھ میں عجیب سا پاگل پن ہے اور جس چیز کے پیچھے پڑ جاتی ہوں وہ سیکھ کر ہی رہتی ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں