’میوزک بابا نے سکھایا مگر میں ان سے آگے بڑھوں گی‘

میوزک
Image caption ابراہیم اور ہاجرہ اگرچہ ابھی بچے ہیں مگر ان کے خواب حقیقت سے بھی بڑے معلوم ہوتے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم نوعمر بہن بھائی، ابراہیم اور ہاجرہ، اگرچہ ابھی بچے ہیں مگر ان کے خواب حقیقت سے بھی بڑے معلوم ہوتے ہیں۔

اگر ابراہیم مستقبل میں راحت فتح علی خان بننا چاہتے ہیں تو ہاجرہ بھی مومنہ مستحسن بننے کے خواہش مند ہیں۔ اور اپنے انھیں خوابوں کو پا لینے کی جستجو میں ان دونوں نے چھوٹی سی عمر میں موسیقی کے کافی آلات بجانا سیکھ لیے ہیں۔

اسلام آباد کے رہائشی منظور احمد کے گھر کے پاس پہنچتے ہی ہارمونیم، طبلے اور ڈھول جیسے سازوں کی مسحور کر دینے والی دھنیں آپ کے کانوں میں رس گھولنا شروع کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان میں سارندہ خاموش ہورہا ہے؟

’دوست یہی کہتے ہیں کہ یہ آواز کیسے نکالتی ہو‘

مٹی کے بوریندو اور الیکٹرانک میوزک کا سُریلا سنگم

صوفی کلام کی دُھنیں آپ کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں اور ان دھنوں کا تعاقب کرتے آپ منظور احمد کے گھر کی دہلیز پر پہنچ جاتے ہیں۔

ان کے گھر کے ایک مخصوص کمرے میں داخل ہوں تو ہر جانب موسیقی کے آلات دیکھ کر آپ کے ذہن میں سب سے پہلے کسی میوزک اکیڈمی کا تصور گھوم جاتا ہے۔

منظور احمد کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بچوں کے صوفیانہ کلام سے لگاؤ کو نہ صرف آگے بڑھایا ہے بلکہ وہ اس کی تعلیم بھی ان کو خود دیتے ہیں۔

یہ بچے ایسی مہارت سے موسیقی کے آلات بجاتے ہیں جیسے کوئی ماہر سازندہ برسوں پر محیط اپنی ریاضت کا نچوڑ پیش کر رہا ہو۔

Image caption 11 سالہ ابراہیم جماعت چہارم کے طالب علم ہیں اور کافی ساز بجانا سیکھ چکے ہیں

منظور احمد کے بیٹے کا نام ابراہیم منظور ہے جو ایک مقامی سکول میں جماعت چہارم کے طالبِ علم ہیں۔

ابراہیم کو گانے کے ساتھ ساتھ ڈھول، ہارمونییم، طبلہ اور میوزیکل کی بورڈ بجانے میں بھی مہارت حاصل ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ آخر کس عمر سے موسیقی اور ان سازوں کو بجانا سیکھ رہے ہیں، تو 11 سالہ ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ سات برس کی عمر سے موسیقی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ابراہیم کے مطابق ان کے والد کو میوزک کا شوق تھا جو ان کو ورثے میں حاصل ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے جتنا سیکھا ہے، اپنے والد سے سیکھا ہے۔'

صوفی کلام ہی کیوں؟

بچوں میں صوفی میوزک کا شوق ہونا غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے، کیونکہ رومی، حافظ، بُلھے شاہ اور امیر خسرو سمیت کئی شعرا سمجھتے تھے کہ صوفیانہ کلام کا تعلق روح سے ہے جس کا تذکرہ ان سب نے اپنے کلام میں بارہا کیا ہے۔

اس بارے میں ابراہیم کہتے ہیں کہ ’جب میں چھوٹا تھا تو والد اور ان کے دوست گانے کی محفل سجایا کرتے تھے، جس میں وہ اکثر قوالی گاتے تھے۔ تو لائیو میوزک دیکھ کر بہت اچھا لگتا تھا۔ قوالی میں جو بیٹ بجتی تھی وہ اچھی لگتی تھی۔‘

Image caption ہاجرہ بڑی ہو کر ٹیچر بننا چاہتی ہیں مگر میوزک میں آئمہ بیگ اور مومنہ مستحسن جیسا مقام حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں

ابراہیم ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں مگر میوزک بھی ان کا جنون ہے۔ وہ راحت فتح علی خان سے متاثر ہیں اور ان ہی جیسا بننا چاہتے ہیں۔

نیس کیفے بیسمنٹ کی ہادیہ ہاشمی کو تو سب جانتے ہی ہیں جنھوں نے اپنی آواز سے سب کو حیران کر دیا تھا۔ ہادیہ کی طرح آٹھ سالہ ہاجرہ منظور کو بھی گانے کا شوق ہے۔ جو کم عمر میں ہی سُر و تال پر وہ گرفت رکھتی ہیں جیسے کہ بڑی عمر کی گائیکہ۔

ہاجرہ بڑی ہو کر ٹیچر بننا چاہتی ہیں مگر میوزک میں آئمہ بیگ اور مومنہ مستحسن جیسا مقام حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔

ہاجرہ نے بتایا کہ جب ان کے والد اور بھائی موسیقی کا ریاض کر رہے ہوتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں اور وہ موسیقی کی تعلیم گذشتہ چار برس سے لے رہی ہیں۔

ہاجرہ گانے کے ساتھ ساتھ ہارمونیم بھی بجاتی ہیں۔

'ویسے تو مجھے بابا نے ہی میوزک سکھایا ہے۔ لیکن میں ابراہیم اور بابا سے زیادہ آگے بڑھوں گی۔'

Image caption ابراہیم ہر روز تقریباً ایک گھنٹہ موسیقی اور سازوں کو بجانے کی مشق کرتے ہیں

ہر گھر میں چھوٹے بہن بھائیوں میں نوک جھوک ہونا عام بات ہے اور اسی لیے ابراہیم اور ہاجرہ موسیقی کے ریاض سے پہلے روزانہ لڑائی کی مشق بھی خوب کرتے ہیں۔

مگر اس کے باوجود جب دونوں گانا شروع کرتے ہیں تو دونوں کی آواز میں تال میل اس خوب صورتی سے بیٹھتا ہے کہ سننے والوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔

ابراہیم کے مطابق وہ دونوں بہن بھائی سکول سے واپس آ کر اپنے تمام کام مکمل کر کے روزانہ ایک گھنٹے کے لیے والد ساتھ مل کر ریاض کرتے ہیں۔'

منظوراحمد کو گھر میں موسیقی کے آلات سے بھرے کمرے میں پا کر ان پر کچھ لمحوں کے لیے کسی پیشہ ور استاد کا گمان گزرتا ہے جس کا ایک ہاتھ ہارمونیم پر اور دوسرا ہاتھ سُر کے ساتھ لہرا رہا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر زندگی میں موقع ملتا تو میوزک کو ضرور پیشے کے طور پر منتخب کرتا۔ مگر بدقسمتی سے مجھے کوئی موقع نہیں ملا۔‘

یہی وجہ ہے کہ وہ آج اپنے بچوں کو مکمل طور پر سپورٹ کر رہے ہیں اور انھیں ہر طرح کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بچوں کا میوزک سے تعلق بہت گہرا ہے اور صوفیانہ کلام میں بیٹ ایک اہم عنصر ہے۔

’ابراہیم نے جب مجھے اور میرے دوستوں کو قوالی گاتے دیکھا تو اس کو بیٹ نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ جس کے بعد بغیر کسی سے سیکھے ابراہیم نے ردہم میں بیٹ بجانا شروع کر دی۔ جبکہ ہاجرہ ہر وقت گاتی رہتی تھیں اور ان کے اسی شوق کے پیش نظر میں نے انھیں موسیقی کی تعلیم دینا شروع کر دی۔‘

Image caption ہاجرہ موسیقی کی تعلیم گذشتہ چار برس سے لے رہی ہیں

منظور احمد کے بچوں کو ’جب پار چنا دے دیسیے کُلی یار دی‘ جیسے کلام گاتے دیکھا تو اس بات کا یقین کرنا کچھ وقت کے لیے مشکل تھا کہ ان بچوں کو اس کلام کے معنی بھی پتا ہوں گے یا نہیں۔

تاہم ان کے والد کا کہنا ہے کہ ’بچوں کو میوزک کا شوق صوفی میوزک کی وجہ سے ہی ہے۔ اس عمر میں صوفیانہ کلام سمجھ آنا دور کی بات ہے۔ بچوں کو تو ان کے مطلب تک نہیں پتا ہوتے۔ مگر اس کے باوجود ان کو پورے پورے اشعار یاد ہیں۔‘

منظور احمد کے بچے جس شوق سے ریاض کر رہے تھے اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے والد کے ادھورے خواب کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

منظور احمد نے موسقی کے بارے میں کہا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے ذہنی نشوونما بہت اچھی ہوتی ہے مگر پاکستان میں میوزک کو بطور پیشہ منتخب کرنا مشکل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں