لندن میں مقیم پاکستانی بیکر فریال خان: ’جو پہلے تنقید کرتے تھے وہی آج میری مثالیں دیتے ہیں‘

فریال خان
Image caption فریال کو پاکستان میں رہتے ہوئے کبھی کیک بنانے کا شوق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے بیکنک کا کوئی کورس کیا تھا

پاکستان سے شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ برطانیہ آنے والی بعض خواتینِ خانہ لندن جیسے شہر کے بارے میں اکثر یہ شکایت کرتی ہیں کہ وہ یہاں تنہائی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے اور گھر بیٹھے بوریت ہوتی ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی فریال خان کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ پھر انھوں نے بیکر بننے کی ٹھان لی۔

وہ 19 برس کی تھیں جب گھر والوں نے ان کی شادی کر دی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ لندن آ گئیں۔

’میں گھر کا کام، بچے کی دیکھ بھال کرتی اور پھر پورے دن گھر پر بیٹھ کر بور ہوتی اور سوچتی کہ کاش میں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی تو اور کوئی نوکری کر سکتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

صرف میٹھا ہی نہیں، یہ 'کیک آرٹ' ہے!

گڈ فرائیڈے پر مسکیٹا بیکری کی خاص سوغات

کیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟

فریال کے شوہر بینک میں ملازم ہیں اور ان کے مطابق گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا کہ جس میں 'لڑکیاں باہر جا کر نوکری کریں'۔

’بارہ، تیرہ سال پہلے ایسا نہیں تھا کہ ہمارے گھر کی عورتیں باہر جا کر کام کریں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجھے بھی کام کرنے پڑے گا یا میں بھی کبھی کچھ کر لوں گی۔‘

پھر ان کے بیٹے کی پہلی سالگرہ پر کچھ یوں ہوا کہ فریال نے یہ فیصلہ کیا وہ کیک بنانا سیکھیں گی۔

’جب اس کی پہلی سالگرہ آئی تو میں سپر مارکیٹ گئی۔ میں نے ایک بہت ہی بڑا سا ٹرے بیک سا کیک لیا کیونکہ ظاہر ہے پہلی سالگرہ تھی تو کچھ تو کاٹنا تھا۔ وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ فریال بس اگلی سالگرہ کا کیک تم ہی نے بنانا ہے۔‘

فریال کو پاکستان میں رہتے ہوئے کبھی کیک بنانے کا شوق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے بیکنک کا کوئی کورس کیا تھا۔

’بس میں نے سوچ لیا تھا کہ یہ تو مجھے سیکھنا ہے۔ دوسری سالگرہ کا کیک بنانے سے پہلے میں نے بہت ساری غلطیاں بھی کیں: کیک جلائے بھی، کبھی کیک کا ٹمپریچر صحیح نہیں تھا تو وہ اندر سے پکتا ہی نہیں۔ اس طرح میرا بیکنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔‘

وقت کے ساتھ ساتھ جب فریال نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے بنائے ہوئے کیک کھلائے تو ان کا ردعمل فریال کے لیے خوشگوار حیرت لایا۔

’ہر کسی نے یہی کہا کہ اتنے مزے دار کیک بناتی ہو۔ اپنا کیک بنانے کا کام کیوں نہیں شروع کرتیں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Faryal Khan
Image caption فریال کے مطابق یہ سب چینی کے بنے ہوئے پھول ہیں۔ ’ان کی ایک ایک پتی ہاتھ سے بنتی ہے‘

فریال بتاتی ہیں ’مجھے یہ لگا کہ جب میرے پاس ایک ٹیلنٹ ہے اور مجھ سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے کیک اتنے اچھے ہیں، ذائقے میں بھی اور دیکھنے میں بھی۔ وہ مجھے پیسے بھی دینے کو تیار ہیں تو میں کیوں نہ یہ کام کروں۔‘

آج فریال لندن میں ایک مشہور بیکر ہیں، جن کے کیکس کے قدردان پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے کیک بناتی ہیں۔

’میری خاصیت میرا آرٹ ورک ہے۔ ہر چيز جو کیک پر لگی ہوتی ہے وہ ہاتھ سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ویڈنگ کیکس میں جو پھول لگے ہوتے ہیں وہ سب میں ہاتھ سے بناتی ہوں۔ سب چینی کے بنے ہوئے پھول ہوتے ہیں۔ ایک ایک پتی ان کی ہاتھ سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’میرا جو سب سے چیلنجنگ کیک تھا جو کہ میں کہوں گی کہ میرا سب سے پسندیدہ کیک بھی ہے وہ ہے قائداعظم محمد علی جناح کا تھری ڈی کیک جو کہ میں نے اپنے بیٹے کے سکول میں انٹرنیشنل ڈے پر بنایا تھا۔‘

فریال دو بار برطانیہ میں ہونے والے بیکنگ کے عالمی مقابلے کیک انٹرنیشنل میں کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔

ان کے مطابق ’یہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Faryal Khan
Image caption فریال کا پسندیدہ کیک بانی پاکستان محمد علی جناح کا ہے جو انھوں نے اپنے بیٹے کے سکول میں انٹرنیشنل ڈے کے لیے بنایا تھا

'جب اس سال کیک انٹرنیشنل ہوا تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ویڈنگ کیک کیٹگری میں مجھے جو کیک پیش کرنا ہے وہ ایسا ہو جس سے میری شناخت کی نمائندگی ہو۔وہ کافی بڑا کیک تھا کہ اور وہ پورا میں نے مہندی ڈیزائن سے فری ہینڈ پائپ کیا۔ بغیر کسی پیمانے کے بغیر کسی ڈیزائن یا لے آؤٹ کے'۔

فریال کے پاس کوئی باقاعدہ ڈگری نہیں ہے اس لیے انھیں لگتا ہے کہ انھوں نے زندگی میں جو بھی حاصل کیا ہے وہ اپنی محنت، لگن اور جستجو کی بنیاد پر کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ایک وقت تھا کہ میرے خاندان میں لوگ کہتے تھے کہ اس لڑکی کو تو گھر کا بھی کوئی کام نہیں آتا۔ معلوم نہیں زندگی میں کیا کرے گی۔ آج وہی لوگ جب میری کامیابی کو دیکھتے ہیں تو مثال دیتے ہیں کہ لڑکیوں فریال سے کچھ سیکھو۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں