پریانکا چوپڑا: اقوام متحدہ کی گُڈ وِل سفیر ایٹمی جنگ کی حامی؟

پریانکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ کی گڈ وِل سفیر ہونے کے ناطے لوگوں کو پریانکا سے توقع تھی کہ وہ انسان دوستی اور غیر جانبداری کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائیں گی

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا ایک بار پھر سے پاکستان میں ٹویٹر کی زینت بنی ہوئی ہیں اور وہ انگریزی میں کہتے ہیں نا ’آل فار دا رانگ ریزنز‘ بظاہر یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔

آپ کو یاد ہی ہو گا کہ رواں سال جب فروری کے مہینے میں انڈیا اور پاکستان جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے تو پریانکا چوپڑا، جو کہ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی گڈ ول ایمبیسیڈر بھی ہیں، کشیدگی کے اس ماحول میں انڈین فوج کی حمایت کرتی دکھائی دیں تھیں۔

انڈین آرمڈ فورسز کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے انھوں نے ٹویٹ کیا تھا ’جے ہند‘۔ اس پر انھیں دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی گڈ وِل سفیر ہونے کے ناطے لوگوں کو ان سے توقع تھی کہ وہ انسان دوستی اور غیر جانبداری کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

پریانکا چوپڑا سرینا وِلیمز کی مداح

اقوام متحدہ کی سفیر جنگ کی حمایتی؟

‘پریانکا! ای میلز پڑھنی نہیں تو ڈیلیٹ ہی کر دیں’

گذشتہ روز امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقدہ بلاگرز، انفلوئنسرز اور سلیبرٹیز کے درمیان بیوٹیکان ایونٹ میں جب وہ سوالات کے جواب دے رہی تھیں تو اسی دوران ایک امریکی نژاد پاکستانی خاتون عائشہ ملک نے ان کی جنگ کی حمایت میں کی جانے والی ٹویٹ کی جانب اشارہ کرتے سوال کیا کہ ’آپ اقوامِ متحدہ کی گڈ ول سفیر ہیں اور آپ دو ہمسائیوں کے بیچ نیوکلئیر جنگ کی حمایت کر رہی تھیں؟‘

عائشہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسی جنگ میں جیت کسی کی نہیں ہوتی اور پاکستان میں آپ کے لاکھوں مداح ہیں جو کہ آپ کی ٹویٹ سے بہت دکھی ہوئے ہیں۔

اسی ایونٹ کے دوران بنائی گئی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوال مکمل ہونے سے قبل ہی دو سکیورٹی اہلکار عائشہ سے مائیک چھین لیتے ہیں۔

پریانکا نے عائشہ سے مائیک چھینے پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے ’میں نے سن (سوال) لیا۔ جب بھی آپ بھڑاس نکالنے سے فارغ ہو جائیں۔۔۔‘

ساتھ ہی وہ کہتی ہیں ’میرے پاکستان میں بہت دوست ہیں اور میں انڈیا سے ہوں۔ مجھے جنگ پسند تو نہیں لیکن میں محبِ وطن ہوں اور میرا ماننا ہے کہ ایک درمیانی راستہ ہوتا ہے جس پر ہمیں چلنا پڑتا ہے۔۔۔ جس طرح آپ نے مجھ پر چڑھائی کی۔۔۔ چیخیں مت۔ ہم سب یہاں پیار محبت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ چیخیں مت۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM /@spisha
Image caption عائشہ ملک پاکستانی نژاد امریکی ہیں جو اپنے یو ٹیوب چینل پر گھنگریالے بالوں کے بارے میں مفید مشورے دیتی ہیں

حاضرین میں سے چند ایک افراد تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں لیکن باقیوں کو پرینکا کہ منھ سے ایسی باتیں سن کر شاید سانپ سونگھ جاتا ہے۔

پرینکا سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کرنے والی عائشہ نے بعد میں اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’میں وہ لڑکی ہوں جو پریانکا پر چیخی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے منھ سے یہ سننا کہ ہم ہمسائے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے، بہت مشکل تھا۔ انڈیا پاکستان خطرے کا شکار تھے اور آپ نے نیوکلئیر جنگ کی حمایت کی۔‘

سوشل میڈیا صارفین جہاں عائشہ کی بہادری کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں پریانکا شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

ٹویٹر صارف تاشا کنڈی جہاں عائشہ کی بہادری کو سراہا رہی ہیں وہیں انھیں اس بات پر غصہ ہے کہ پرینکا نے عائشہ کو پورا سوال تک پوچھنے نہیں دیا۔

ایمن رضوی کہتی ہیں کہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لیے جنگ کوئی ’درمیانی راستہ‘ نہیں ہوتا۔ جنگ خواتین اور دوسرے پسماندہ گروہوں کے خلاف تشدد ہوتا ہے۔

ماہم کہتی ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کہیں ’میں نسل پرست نہیں کیونکہ میرے تو بہت سے سیاہ فام دوست ہیں۔‘ ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ نا صرف پریانکا پاکستانی لڑکی سے بد اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کی بے عزتی کی بلکہ انھیں پاگل دیکھانے کی کوشش کی۔

کچھ لوگ تو اقوامِ متحدہ کو ٹیگ کر کے پوچھ رہے ہیں کہ پریانکا اب تک گُڈ ول سفیر کیسے ہیں؟ جبکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ سرحد پار افراد کو بھی پریانکا کا ردِعمل پسند نہیں آیا۔

ندا نامی ایک صارف نے لکھا ’میں انڈین ہوں اور میرے خیال میں پریانکا کا ردعمل اور جنگ کی حمایت میں کمنٹس خوفزدہ کر دینے والے ہیں۔ ہم سب لوگ (انڈین) پاکستان سے نفرت یا جنگ نہیں چاہتے۔‘

اسی بارے میں