اداکارہ مہوش حیات کا پرینکا چوپڑہ کو جواب: ’قوم پرستی اہم ہے یا پُر امن مستقبِل؟‘

مہوش حیات
Image caption مہوش نے نہ تو کسی کو ڈانٹ لگائی اور نہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور نہ ہی پرینکا کی طرح کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی

یونیسیف کی سفیر برائے امن اور اداکارہ پرینکا چوپڑہ اس وقت انڈیا میں سوشل میڈیا پر تعریفیں بٹور رہی ہیں لیکن دنیا کے دوسرے ممالک کے صارفین نے ان کے حالیہ رویے کی تنقید بھی کی ہے۔

لاس اینجلِس میں ایک تقریب کے دوران ایک پاکستانی خاتون عائشہ ملک کے ساتھ ان کا رویہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ جنوری میں پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران پرینکا نے ٹوئٹر پر بھارتی فوج کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جے ہند کا نعرہ لگایا تھا۔

عائشہ ملک نے پرینکا کی اسی ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے سوال کیا جس پر بظاہر پرینکا بیزار نظر آئیں لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک درمیانے راستے پر چلنا پڑتا ہے اور یہ کہ وہ ایک محبِ وطن بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اقوام متحدہ کی سفیر جنگ کی حمایتی؟

’میں وہ لڑکی ہوں جو پریانکا پر چیخی تھی‘

انڈیا میں 'حب الوطنی یا قوم پرستی' کے بخار کی پرینکا اکیلی شکار نہیں ہے۔ دراصل اس وقت انڈیا میں 'محبِ وطن یا قوم پرست ہونا ضرورت بھی ہے اور فیشن بھی ہے کیونکہ مودی حکومت میں اب یہ بقا کا سوال اور کامیابی کی سیڑھی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ سوال اپنی جگہ جائز بھی کہ کیا پرینکا نے یونیسیف کی بنیادی اقدار کو ٹھیس پہنچا کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے پرینکا کی 'حب الوطنی' کا انتہائی خوبصورت جواب دیا ہے۔ مہوش نے نہ تو کسی کو ڈانٹ لگائی اور نہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور نہ ہی پرینکا کی طرح، جیسا انہوں نے عائشہ کے ساتھ کیا، کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔

ناروے میں ایک تقریب کے دوران مہوش نے انتہائی پر وقار اور مودبانہ انداز میں فلم انڈسٹری کی ذمہ داریوں اور انڈسٹری کے لوگوں کو مثبت انداز میں کام کرنے کی اپیل کی۔

مہوش کا کہنا تھا 'فلم انڈسٹری پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ سنیما ایک طاقتور آلہ ہے جو لوگوں کا نظریہ، ذہن اور رویہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا استعمال سمجھداری سے کیا جانا چاہیے۔ فلموں میں کسی بھی ملک کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کے اچھے پہلوؤں اور خوبیوں کو بھی پیش کیا جانا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ کی گڈ وِل سفیر ہونے کے ناطے لوگوں کو پریانکا سے توقع تھی کہ وہ انسان دوستی اور غیر جانبداری کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائیں گی

مہوش کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ نے بھی اپنی فلموں میں ہمیشہ پاکستان کو غلط روشنی میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ تاریخ، سیاست اور ذہنیت کے پس منظر میں غیر جانبدار رہنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ مہوش کا کہنا تھا کہ انھیں یہ طے کرنا ہوگا کہ قوم پرستی اہم ہے یا پُرامن مستقبل۔

مہوش کا یہ جملہ بہت گہرا ہے کہ قوم پرستی اور پرامن مستقبل میں زیادہ کیا اہم ہے لیکن اس وقت انڈیا میں پاکستان بِکتا ہے اور بہت سے فنکار یا فلسماز پاکستان پاکستان کھیل کر ہی حکومت کی نظروں میں اوپر اٹھنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

اور اب ذکر ایک ایسی اداکارہ کا جو شہرت سے گمنامی کا سفر طے کرنے کے بعد اکہتر سال کی عمر میں اس ہفتے انتقال کر گئیں۔

آج کی نسل اداکارہ دویا سنہا کو شاید ہی جانتی ہو لیکن ستتر کی دہائی میں ایک سادہ اور عام سے نظر آنے والی اس لڑکی نے فلم پتی پتنی اور وہ، رجنی گندھا اور چھوٹی سی بات جیسی فلمیں کر کے اپنا ایک خاص مقام بنایا تھا۔

فلموں سے غائب ہونے کے کافی عرصے بعد ودیا نے ٹی وی سیریلز سے واپسی کی تھی اور ان کا سب سے تازہ ٹی وی سیریل کلفی کمار باجے والا تھا۔

اسی بارے میں