وہ فلم جس نے امیتابھ بچن کے لیے بازی پلٹ دی

امیتابھ بچن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جس دور میں امیتابھ بچن فلموں میں آئے اس دوران بنگلادیش مشرقی پاکستان تھا، بیٹلز میں پھوٹ نہیں پڑی تھے، ہاکی انڈیا میں سب سے زیادہ مقبول کھیل تھا اور انسان نے ابھی ابھی چاند پر قدم رکھا تھا۔

ان دنوں خواجہ احمد عباس فلم ’سات ہندوستانی‘ کے لیے اداکاروں کی تلاش میں تھے۔

ایک دن خواجہ احمد عباس کے سامنے کوئی ایک لمبے شخص کی تصویر لے کر آیا۔ عباس نے کہا کہ مجھے ان سے ملوائیے۔

تیسرے دن شام چھ بجے وہ شخص ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ وہ کچھ زیادہ ہی لمبا لگ رہا تھا کیوں کہ اس نے چوڑیدار پاجامہ اور نہرو کٹ جیکیٹ پہنی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pradeep Chandra/vikas Chandra Sinha's book
Image caption والد ہری ونش رائے بچن کے ساتھ امیتابھ بچن

والد کی اجازت ضروری

خواجہ احمد عباس نے اس گفتگو کی تفصیل اپنی سوانح حیات ’آئی ایم ناٹ این آئیلینڈ‘ میں بتائی ہے۔

’بیٹھیے۔ آپ کا نام؟‘

’امیتابھ (بچن نہیں)‘

’تعلیم؟‘

’دلی یونیورسٹی سے بی اے‘

’آپ نے پہلے کبھی فلموں میں کام کیا ہے؟‘

’ابھی تک کسی نے مجھے اپنی فلم میں نہیں لیا‘

’کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘

’ان سب نے کہا کہ میں ان کی ہیروئن کے لیے کچھ زیادہ ہی لمبا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Pradeep Chandra/vikas Chandra Sinha's book

’ہمارے ساتھ یہ مشکل نہیں ہے کیوں کہ ہماری فلم میں کوئی ہیروئن ہی نہیں ہے۔ اگر ہوتی، تب بھی میں تمہیں اپنی فلم میں لے لیتا۔‘

’کیا آپ مجھے اپنی فلم میں لے رہے ہیں؟ اور وہ بھی بغیر کسی ٹیسٹ کے؟‘

’وہ کئی باتوں پر مبنی ہے۔ پہلے میں تمہیں کہانی سناؤں گا، پھر تمہارا رول بتاؤں گا۔ اگر تمہیں پسند آیا، تب میں بتاؤں گا کہ میں تمہیں کتنے پیسے دوں گا۔‘

اس کے بعد عباس نے انہیں بتایا کہ پوری فلم کے لیے انہیں صرف پانچ ہزار روپے ملیں گے۔ امیتابھ تھوڑا جھجکے۔ لیکن عباس نے ان سے پوچھ ڈالا کہ ’کیا تم اس سے زیادہ کما رہے ہو؟‘

امیتابھ بچن نے ان سے کہا کہ ’جی ہاں، مجھے کلکتہ کی ایک کمپنی میں سولہ سو روپے مل رہے تھے۔ میں وہاں استعفیٰ دے کر یہاں آیا ہوں۔‘

عباس نے حیران ہو کر ہوچھا، ’تم کہنا چاہتے ہو کہ اس فلم کو حاصل کرنے کی امید میں تم سولہ سو روپے مہینے کی نوکری چھوڑ کر آئے ہو؟ اگر میں تمہیں یہ رول نہ دوں تو؟‘

اس لمبے شخص نے کہا کہ ’زندگی میں اس طرح کے چانس تو لینے پڑتے ہیں۔‘

عباس نے وہ رول امیتابھ بچن کو دے دیا اور اپنے نائب کو بلا کر کانٹریکٹ لکھوانے لگے۔

انہوں نے امیتابھ کا پورا نام پوچھا۔

جواب ملا ’امیتابھ‘۔ پھر تھوڑا رک کر بولے ’امیتابھ بچن۔ ولد ہری ونش رائے بچن۔‘

’رکو‘ عباس چلائے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کانٹریکٹ پر تب تک دستخط نہیں ہو سکتے جب تک مجھے تمہارے والد کی اجازت نہیں مل جاتی۔ وہ میرے جاننے والے ہیں اور سوویت لینڈ نہرو اکیڈمی میں میرے ساتھی ہیں۔ تمہیں دو دن اور انتظار کرنا ہوگا۔‘

اور خواجہ احمد عباس نے کانٹریکٹ کے بجائے ٹیلیگرام لکھوا کر ہری ونش رائے بچن سے پوچھا کہ ’کیا آپ اپنے بیٹے کو اداکار بنانے کے لیے راضی ہیں؟‘

دو دن بعد ان کا جواب آیا کہ ’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے صفحات میں درج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube grab
Image caption فلم آنند کے ایک سین میں راجیش کھنا کے ساتھ امیتابھ بچن

فلم ’آنند‘ سےشناخت ملی

فلم سات ہندوستانی کچھ خاص کمال نہیں دکھا پائی۔ اس کے بعد ہدایتکار رشیکیش مکھرجی نے امیتابھ کو اپنی فلم آنند میں رول دیا۔ اس فلم کے ذریعہ پہلی مرتبہ پورے انڈیا کی نظریں امیتابھ بچن کی اداکاری پر گئیں۔ انہیں سنہ 1972 میں فلم فیئر کے بہترہن اداکار کے خطاب سے نوازا گیا۔

چند برس قبل فلم ناقد انوپما چوپڑا کی ایک کتاب ’ہنڈریڈ فلمز ٹو سی بیفور یو ڈائی‘ آئی تھی۔ اس کتاب میں فلم آنند کا نام بھی تھا۔ اس فلم کے کلائیمیکس میں راجیش کھنا مر جاتے ہیں اور امیتابھ بچن انہیں جھنجھوڑتے ہیں۔‘

راجیش کھنا کی زندگی پر مبنی کتاب ’انٹولڈ سٹوری آف انڈیاز فرسٹ سوپر سٹار‘ لکھنے والے یاسر عثمان نے بتایا کہ ’اس سین کی شوٹنگ سے پہلے امیتابھ بچن پریشان تھے کہ وہ کیسے شوٹ کریں گے۔ انہیں ابھی ایکٹنگ کا اتنا تجربہ نہیں تھا۔ راجیش کھنا توجہ کھینچنے والے ایسے جذباتی سینز کے بادشاہ تھے۔ امیتابھ اپنے دوست محمود کے پاس گئے۔ محمود نے صرف ایک بات کہی کہ تم یہ سوچ لو کہ راجیش کھنا واقعی مر گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سین اپنے آپ ہو جائے گا۔‘

اس کے بعد امیتابھ نے وہ ڈائلاگ بولا تھا ’آنند مرا نہیں، آنند مرتے نہیں۔‘ اس کردار نے رات و رات امیتابھ کو انڈیا کے صف اول کے اداکاروں میں شامل کر دیا۔

سولہ فلموں کے بعد پہلی ہٹ فلم

لیکن پیسوں کے اعتبار سے کامیاب فلم دینے کے لیے امیتابھ بچن کو 16 فلموں کا انتظار کرنا پڑا۔ پہلی بڑی کامیابی انہیں فلم ’زنجیر‘ سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے ایسے دور میں یہ فلم کی جب فلموں میں رومانس پسند کیا جا رہا تھا۔

حال ہی میں امیتابھ بچن کی زندگی کے بارے میں شائع ہونے والی کتاب ’امیتابھ بچن اے کیلیڈوسکوپ‘ کے مصنف پردیپ چندرا نے بتایا کہ ’اگر آپ کو سولہ فلموں تک کام ملتا رہا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ اگر نہ بنائی ہوتی تو تین فلموں کے بعد کوئی آپ کو نہیں پوچھتا۔ کبھی کبھی وقت بھی آپ کا ساتھ نہیں دیتا ہے۔ زنجیر کو دیو آنند نے اس بات پر نامنضور کر دیا تھا کہ اس میں رومانس کا کوئی اینگل یا کوئی رومانوی گانا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ اس فلم کو راج کمار اور دھرمیندر نے بھی ’ریجیکٹ‘ کر دیا تھا۔ صرف امیتابھ بچن کو ہی یہ بات سمجھ آئی کہ اس فلم کے ذریعہ وہ بازی پلٹ دیں گے اور ان کا فیصلہ صحیح ثابت ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Film Poster/ Bombay to Goa

محمود کا راجیو گاندھی کو 5000 روپیے کا سائننگ اماؤنٹ

جب امیتابھ اپنی جگہ بنانے کی جد و جہد میں مصروف تھے تو اداکار محمود نے ان کی سرپرستی کا ذمہ اٹھایا۔ محمود کی سوانح حیات لکھنے والے حنیف زویری نے اپنی کتاب ’محمود اے مین ود مینی موڈز‘ میں ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔

’بامببے ٹو گوآ‘ کی ریلیز سے قبل امیتابھ ایک بہت ہی خوش شکل شخص کو اپنے ساتھ ممبئی لے کر آئے۔ محمود اس وقت تھوڑے نشے میں تھے۔ ان کے بھائی انور نے اس شخص کا تعارف محمود سے کروانے کی کوشش کی لیکن محمود کو نشے میں ہونے کی وجہ سے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا۔

انہوں نے اپنی جیب سے 5000 روپے نکالے اور امیتابھ کے ساتھ موجود اس شخص کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ محمود نے کہا کہ ’یہ شخص امیتابھ سے زیادہ سمارٹ دکھتا ہے اور ایک انٹرنیشنل سٹار بن سکتا ہے۔ یہ پیسے اسے اگلی فلم میں لینے کا سائننگ اماؤنٹ ہے۔‘

زویری آگے لکھتے ہیں کہ ’انور کو اس شخص کا محمود سے دوبارہ تعارف کروانا پڑا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اندرا گاندھی کے بیٹے راجیو گاندھی ہیں۔ یہ سنتے ہی محمود نے راجیو گاندھی سے وہ پیسے واپس لے لیے اور راجیو اور امیتابھ زور سے ہنسے۔ بعد میں امیتابھ بچن نے مشہور صحافی راشد قدوائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمود کی کہی بات صحیح نکلی۔ راجیو اصل میں انٹرنیشنل سٹار بنے، لیکن سیاست میں، فلموں میں نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کی امیتابھ بچن سے دوستی رہی

سنہ 1968میں جب سونیا گاندھی راجیو سے شادی کرنے دلی آئیں تو اندرا گاندھی نے انہیں اپنے گھر یا ہوٹل میں ٹھہرانے کے بجائے امیتابھ کے والد ہریونش رائے بچن کے گھر پر ٹھہرایا۔

سونیا گاندھی کی سوانح حیات لکھنے والے راشد قدوائی نے بتایا کہ ’اندرا گاندھی کو انڈین تہذیب کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ جب سونیا گاندھی انڈیا آئیں تو ان کے والد ان کے ساتھ نہیں آئے کیوںکہ وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھے۔ شادی سے قبل لڑکی کا لڑکے کے گھر رہنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا، اس لیے انہوں نے سونیا کو اپنے پرانے دوست ہری ونش رائے بچن کے گھر قیام کروایا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی

بعد میں اس پورے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’جیسے ہی ہمیں پتہ چلا، ڈیڈ نے سارے گھر کا رنگ روغن کروایا۔ ایک مزید گیزر منگوایا۔ سونیا کی فلائٹ صبح ساڑھے تین بجے آنے والی تھی۔ راجیو نے مجھ سے کہا تھا کہ تم رات میرے گھر آکر سو جانا۔‘

انہوں نے آگے بتایا کہ ’ہم لوگ کافی پہلے، آدھی رات کو ہی ہوائی اڈے پہنچ گئے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی ان کی فلائٹ اتری۔ راجیو بولے گھر چلنے سے پہلے چلو انہیں دلی گھماتے ہیں۔ ہم لوگ تین چار گھنٹوں تک دلی کی سڑکوں پر گاڑی گھماتے رہے اور تقریباً نو بجے گھر پہنچے۔ بعد میں پتہ چلا کہ راجیو نے ایسا اسلیے کیا تھا تاکہ میرے والدین کو صبح جلدی اٹھنے کی تکلیف سے نہ گزرنا پڑے۔ وہیں ہمارے گھر میں ہی راجیو اور سونیا کی مہندی کی رسم ہوئی۔ اوپر سے نیچے تک پھولوں کے زیورات میں سجی، گھاگرا پہنے سونیا بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ پھر فروری میں شادی کے بعد سونیا ہمارے ہی گھر سے رخصت ہوئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Pradeep Chandra/vikas Chandra Sinha's book
Image caption امیتابھ بچھن والدین اور اہلیہ کے ساتھ

امیتابھ اور جیا کی شادی

چار سال بعد، تین جون سنہ 1973 کو امیتابھ بچن اور جیا بھادوڑی کی شادی ممبئی میں ہوئی۔ جوڑے کے ایک طرف خواجہ احمد عباس بیٹھے تھے تو دوسری طرف گلابی ساڑی پہنے مشہور تاریخ دان بھگوتی چرن ورما اور نریندر شرما بیٹھے ہوئے تھے۔

اس شادی میں دھرم یگ میگزین کے ایڈیٹر کی اہلیہ پشپا بھارتی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’جیا کے والد مشہور صحافی ترون کمار بھادوڑی نے لڑکے والوں کا خیر مقدم کیا۔ جیا کے فلم انسٹیٹیوٹ کے ساتھی اور مشہور کامیڈی ایکٹر اسرانی باراتیوں کو ہار پہنا رہے تھے۔ اسی دوران موسم کی پہلی بارش ہوئی۔ کسی نے ہنس کر کہا کہ لگتا ہے جیا نے بچپن میں کڑاہی سے کھرچن چاٹی ہوگی، تبھی بیاہ میں پانی برس رہا ہے۔‘

شادی کے اگلے ہی دن امیتابھ اور جہا ہنی مون کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pradeep Chandra/vikas Chandra Sinha's book
Image caption امیتابھ کی انتخابی مہم میں جیا کے شامل ہونے پر جان آئی

الہ آباد کے انتخابات

سنہ 1984میں اندرا گاندھی کے کہنے پر امیتابھ نے سیاست میں قدم رکھا اور الہ آباد سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقابلہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگونا سے تھا.

ان انتخابات کو کور کرنے والی صحافی کمکم چڈھا نے بتایا کہ ’ان انتخابات میں بچن اپنا کردار نہیں بدل پائے۔ وہ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ ایک فلم سٹار ہیں۔ انہوں نے سرکٹ ہاؤس میں بند کمرے سے انتخابات لڑے۔ ان کی انتخابی مہم کی ذمہ داری ان کے چھوٹے بھائی اجیتابھ بچن کے ہاتھوں میں تھی۔ ان کا کام لوگوں کو بھگانا ہوتا تھا۔‘

Image caption کمکم چڈھا کے ساتھ ریحان فضل

کمکم نے بتایا کہ ’سرکٹ ہاؤس کا دروازہ بند رہتا تھا۔ اجیتابھ ہر صبح آ کر ڈرائیو وے پر جمع ہونے والے صحافیوں اور دوسرے افراد کو بھگانے کا کام کرتے تھے۔ اس کے بر عکس جب آپ بہوگونا کے گھر جائیں تو آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران امیتابھ ہر جگہ رٹے رٹائے چار پانچ جملے بولتے تھے۔‘

انہیں انتخابات کی باریکیوں کے بارے میں بالکل سمجھ نہیں تھی۔ ان کے حق میں فضا تب بدلی جب جیا بچن انتخابی مہم میں شامل ہوئیں۔ انہوں نے ’بھابی‘، ’دیور‘ اور ’منہ دکھائی‘ جیسے الفاظ بول کر امیتابھ کے حق میں ماحول بدل دیا۔ میرا تب بھی یہی خیال تھا اور اب بھی یہی خیال ہے کہ اگر جیا انتخابی مہم میں نا شامل ہوئی ہوتیں تو امیتابھ کے لیے جیت حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امیتابھ بچن کی سیاست دان امر سنگھ سے بھی گہری دوستی رہی

راجیو گاندھی سے نارازی

کمکم نے بتایا کہ ’میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تو نہیں ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ امیتابھ کو یہ بات بری لگی کہ بوفورس معاملے میں نام آنے پر راجیو گاندھی نے ان سے استعفیٰ مانگ لیا۔ میرا خیال ہے کہ راجیو ذاتی طور پر کرپٹ نہیں تھے، لیکن ان کے قریبی لوگوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔‘

امیتابھ کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ ان کی دوستی بہت زیادہ دنوں تک نہیں چلتی ہے۔ ایک زمانے میں ان کے چھوٹے بھائی اجیتابھ ان کے سب سے قریب ہوا کرتے تھے۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا جب ان سے امیتابھ کی بات چیت تک بند ہو گئی۔ سونیا ان کو راکھی باندھتی تھیں، لیکن ان سے بھی تعلقات خراب ہو گئے۔ سیاستدان امر سنگھ بھی ان کے قریبی دوستوں میں تھے لیکن اب ان کے درمیان دوستی جیسی کوئی بات نہیں رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pradeep Chandra/vikas Chandra Sinha's book

سیٹ پر وقت سے پہلے پہنچنے کی عادت

کہا جاتا ہے کہ ستر اور اسی کی دہائیوں میں امیتابھ کی مقبولیت عروج پر تھی۔ مئی 1980میں انڈین صحافی ویر سانگھوی نے انڈیا ٹوڈے میں لکھا تھا کہ ’دن کے کسی بھی وقت کم از کم ایک لاکھ لوگ اس شخص کو گاتے، ناچتے اور لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس سٹار کی مقبولیت اتنی زیادہ ہے کہ پروڈیوسروں کو یہ بتا دینے کے باوجود کہ انہیں 1983 سے پہلے کوئی تاریخ نہیں مل سکتی، وہ انہیں سائن کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ ان کے لیے امیتابھ سٹار نہیں بلکہ ایک کاروبار ہیں۔‘

سنہ 1979 میں فلم فیئر نے لکھا تھا کہ اکیلے ممبئی میں 96 ہیئر کٹنگ سلون ہیں جن پر بچن کی تصویر پینٹ کی گئی ہے۔ ستر کی دہائی پار کر جانے کے باوجود بچن ابھی بھی فلم انڈسٹری کے ستون ہیں۔ ان کی اداکاری میں اور نکھار آیا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ امیتابھ کو ملنے والے چار نیشنل ایوارڈ میں سے تین انہیں ساٹھ برس کی عمر پار کرنے کے بعد ملے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بچن کی فلاپ فلمیں بھی دوسری ہٹ فلموں سے زیادہ کماتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی فیس ان کے سب سے بڑے حریف کو ملنے والی رقم کی دوگنی ہوتی ہے۔ سنہ 1991 میں ٹائمز میگزین نے ایک جملہ لکھا تھا کہ ’بالی وڈ میں اداکاروں کی لسٹ میں ایک سے لے کر دس مقامات پر صرف امیتابھ بچن قابض ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پردیپ چندرا نے بتایا کہ ’بچن کے بارے میں بڑی بات یہ ہے کہ ان کا پورا لُک بہت مہذب ہے۔ ان کا کپڑے پہننے اور بات کرنے کا طریقہ اور ان کی زبان فلموں میں دوسرے فنکاروں سے بہت مختلف ہے۔ چند روز قبل نغمہ نگار جاوید اختر سے میری بات ہو رہی تھی۔ ان کے سیٹ پر وقت پر پہنچنے اور دوسرے اداکاروں کے ساتھ ان کے سلوک نے انہیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔‘

ان سے پہلے عام طور پر اداکار بارہ بجے کا وقت دیے جانے پر چار بجے سیٹ پر پہنچتے تھے۔ کوئی نشے میں آتا تھا تو کوئی اپنے ارد گرد شاگردوں کی بھیڑ لے کر آتا تھا۔ اگر سات بجے کی شفٹ ہو تو امیتابھ اپنی وین میں ساڑھے چھ بجے بیٹھ جاتے تھے۔ پروڈیوسر کیتن دیسائی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ ایک بار جب وہ صبح سات بجے شفٹ پر پہنچے تو امیتابھ اپنی وین میں پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ دیکھ کر بہت شرمندگی ہوئی کہ سٹار ہم سے پہلے سیٹ پر پہنچ گیا تھا۔‘

اسی بارے میں