کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن میں ابرار الحق کے پنجانی گانے ’بلو‘ کی دھوم

ابرار الحق تصویر کے کاپی رائٹ COKE STUDIO

’ٹکٹ کٹاؤ لائن بناؤ۔۔۔کنے کنے جانا اے بلو دے گھر‘ پاکستانی پنجابی پاپ موسیقی کے گیت کے یہ بول تو 90 کے دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں شائد ہی کسی نے نا سنے ہوں۔ لیکن اب کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن میں اس گانے کو دوبارہ متعارف کروایا گیا ہے۔

جمعہ 25 اکتوبر کو اس گانے کو ایک مرتبہ دوبارہ کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن میں پاکستانی پاپ اور بھنگڑا موسیقی کے معروف گلوکار ابرار الحق نے ری میک کر کے گایا ہے۔

کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن میں اس گانے کا نشر ہونا تھا کہ ہیش ٹیگ ’بلو‘ اور ہیش ٹیگ ’کوک سٹوڈیو 12‘ پاکستان میں ٹوئٹر پر مقبول ٹرینڈ بن گیا۔ ٹوئٹر صارفین نے اس گانے کے نشر ہوتے ہی اپنے جذبات، خیالات اور تبصروں کا آزادانہ اظہار کیا۔

جہاں ملک میں موسیقی کے دالدادہ افراد نے ماضی کے اس سپر ہٹ گیت کے ری میک اور ابرار الحق کو ہی یہ گانا گانے پر سراہا وہیں چند ٹوئٹر صارفین نے اسے اوریجنل ورژن سے تبدیل کرنے پر کوک سٹوڈیو پر تنقید بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوک سٹوڈیو: ’لگتا ہے اب یہ برانڈ احمقوں کے ہاتھ میں ہے‘

’بے سُری تاروں سے گٹار بجا کر اس میں سُر ڈھونڈتا تھا‘

دنیا کو نغمے سنانے والا والدین کی آواز سننے کو ترس گیا

مرزا حسن نامی ایک ٹویٹر صارف نے ابرار الحق کے بلو گیت کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’رات کے اس وقت ابرار الحق کا یہ بلو گیت سن کر میرا تو بستر پر ہی بھنگڑا کرنے کو دل کر رہا ہے۔‘

جبکہ ایک ٹوئٹر صارف نے تو اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک نعرے کے انداز میں ٹوئیٹ کیا

’کل بھی بلو زندہ تھی، آج بھی بلو زندہ ہے۔‘

حمنہ نامی ٹوئٹر صارف نے بھی کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن کی دوسری قسط میں ’بلو‘ گیت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ

’ٹکٹ کٹاؤ لائن بناؤ، ایک ناسٹلجیا ہے، یہ گانا مجھے میرے بچپن میں واپس لے گیا ہے۔‘

جبکہ عمر فراز نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’کبھی کسی کو برباد ہوتے دیکھا ہے، اگر نہیں دیکھا تو کوک سٹوڈیو کو دیکھ لو۔‘

حسن افتخار نامی ایک اور ٹوئٹر صارف نے اس گانے کے ری میک کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’ کوک سٹوڈیو سیزن 12 اور ابرار الحق سب کو سنہ 95 سے سنہ 2005 کے عشرے میں واپس لے گئے ہیں۔ اس سنہری دور میں جب پاکستانی پنجابی میوزک اپنے عروج پر تھا۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے کچھ اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کیا ’بلو کا کیا ری میک بنایا گیا ہے، ابرار الحق ایک آئیکون ہیں، گیت کے ہر حصے کو پسند کیا ہے۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے کوک سٹوڈیو سیزن 12 میں بلو کے ری میک پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’کوک سٹوڈیو اصلی پاکستانی میوزک کا لنڈا بازار ہے، میں یہ اصلاح استعمال کرنے پر معذرت خواہ ہوں لیکن حقیقت یہ ہی ہے۔‘

ایک اور نور الہدیٰ نامی ٹوئٹر صارف نے کوک سٹوڈیو کی جانب سے بلو گیت کو ری میک کرنے پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا کہ ’اگلے دس برسوں کے لیے شادیوں پر بجانے کے لیے نیا گانا، جو ماضی کی یادوں کو مکمل کرتا ہے۔ میں اس گیت کو سنتے ہوئے اپنے آپ کو ساکن نہیں رکھ پا رہی۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے تو ’بلو‘ گیت کے ساتھ گلوکار ابرار الحق کی وفاداری کا ہی ذکر کر دیا۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’ابرار الحق نے 24 برس بعد بھی بلو کے گھر جانے کا انتخاب کیا ہے۔۔۔اور اس کو وفاداری کہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ www.twitter.com/@qaimivlogs10

ولید نامی ٹوئٹر صارف نے کوک سٹوڈیو سیزن 12 کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’ آخر کار کوک سٹوڈیو12 کا شاہکار جس کا تمام کریڈٹ ابرار الحق کو جاتا ہے۔

جبکہ ایک ٹوئٹر صارف جنھیں کوک سٹوڈیو کی جانب سے اس گانے کا ری میک پسند نہیں آیا انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہوئے لکھا کہ ’کوک سٹوڈیو آپ کو ہمیشہ مایوس کرنے کے لیے موجود ہے۔‘

جبکہ ایک ٹویٹر صارف نے تو گلوکار ابرار الحق کے میوزک کی تعریف کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’ایک ہی موسیقار، ایک ہی وقت میں، ایک ہی گانے میں بھنگڑا، پاپ، لوک اور ریپ میوزک کا امتزاج کیسے کر سکتا ہے۔ ابرار الحق حقیقت میں پنجابی موسیقی کے بادشاہ ہیں۔‘

ماہ نور طارق نامی ٹوئٹر صارف نے کوک سٹوڈیو سیزن 12 میں گیت’بلو‘ کے ری میک کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’ابرار الحق بلو گیت کی دھن بہت شاندار ہے، میں ایک لمحے کے لیے بھی بور نہیں ہوئی اور میں اب ہی سے لوگوں کو اس برس سے شادی سیزن میں اس گانے پر جھومتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔‘

اسی بارے میں