سانڈ کی آنکھ: شوٹر دادی جنھوں نے تاپسی پنوں اور بھومی کو زبان اور چال ڈھال سکھائی

سانڈ کی آنکھ تصویر کے کاپی رائٹ TAAPSEE PANNU INSTAGRAM

کہا جاتا ہے کہ خواب دیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اس قول کو اترپردیش کے باغپت ضلعے کے جوہری گاؤں میں رہنے والے تومر خاندان کی بہو‏ؤں چندرو اور پرکاشی تومر نے سچ ثابت کر دکھایا۔

انھوں نے ہمیشہ اپنے گھر کا کام کیا، اپنے شوہروں کی خدمت کی، کھیتوں میں ہل چلائے، لیکن کوئی نمایاں کام انجام نہیں دیا۔ لیکن اپنی پوتی کا ڈر دور کرنے کے لیے جب چندرو دادی نے پستول اٹھائی تو ان کی زندگی بدل گئی۔

یہاں تک کہ ان کی زندگی پر ایک فلم بنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ سوال آپ کبھی عامر خان سے پوچھیں گے؟‘

خواتین کے لیے 'تضحیک آمیز' فلم اتنی کامیاب کیوں

25 اکتوبر کو ریلیز ہونے والی فلم 'سانڈ کی آنکھ' میں چندرو تومر کا کردار بھومی پیڈنیکر نبھا رہی ہیں تو پرکاشی تومر کا کردار تاپسی پنوں ادا کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM/SHOOTER DADI

باغپت کی 'شوٹر دادی' چندرو اور پرکاشی تومر نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کی۔

چندرو تومر کی پوتی شوٹنگ رینج کے ماحول سے گھبرا گئیں اور رونے لگیں۔ اپنی پوتی کو روتے دیکھ کر اس کے خوف کو دور کرنے کے لیے چندرو تومر نے پستول اٹھائی اور کہا: 'دیکھ، بیٹی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں چلا کر دکھاتی ہوں اور میرا پہلا ہی نشانہ ہدف پر لگا، سب نے کہا، دادی، تم نے تو کمال کر دیا۔' شاید اسی ایک جملے نے ان کی زندگی بدل دی۔

جب پرکاشی تومر سے پوچھا گیا کہ انھوں نے گھر کی ذمہ داریوں کو کنارے رکھ کر ہاتھ میں کس طرح پستول اٹھا لیا تو ان کا جواب تھا: 'ہمیں اپنے بچوں کا داخلہ کروانا تھا، ہم ان کے ساتھ جاتے تھے۔ ایک دو دن ہو گئے تھے، ہم بیٹھ کردیکھتے تھے کہ کس طرح پستول بھرتے ہیں، گولی کس طرح چلتی ہے۔ پھر اچانک مجھے بھی شوق ہوگیا کہ ایک بار میں بھی چلا کر دیکھوں۔ جب میرا پہلا ہی شاٹ نشانے پر لگا تو سب نے کہا، دادی تو روز مشق کر،تو بڑی اچھی ہے اس میں۔'

تاپسی پنوں اور بھومی پیڈنیکر کی اداکاری والی یہ فلم اس دیوالی کو ریلیز ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TAAPSEE PANNU TWITTER

فلم میں تاپسی پنوں اور بھومی پیڈنیکر نے اپنی عمر سے زیادہ عمر کی خواتین کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم کی ہدایتکاری توشر ہیرانندانی نے کی ہے۔

پرکاشی تومر سے جب پوچھا گیا کہ ان کی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟

انھوں نے کہا: 'ہم گھر کا کھانا دال چاول کھاتے ہیں۔ بس کھانے کے بعد کچھ میٹھا چاہیے۔ جب گھر میں ہوں تو کھانے کے لیے گڑ شکر، اور جب باہر ہوٹل میں ہوں تو گلاب جامن اور دودھ کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔

'سانڈ کی آنکھ' کے ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں شوٹر دادیوں نے اپنا پہناوا نہیں بدلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/TAAPSEE PANNU

چندرو تومر کہتی ہیں: 'ہمیں اپنی زبان پر، اپنے لباس پر فخر ہے، ہم نے کبھی اپنا پہناوا نہیں چھوڑا۔ کسی کی پرواہ نہیں کی۔ صرف کام کرنے کی لگن ہونی چاہیے۔ اگر کوئی ہمت کرے تو بھگوان اس کی مدد کریں۔'

تاپسی اور بھومی کو شوٹر دادیوں نے اپنی چال ڈھال کس طرح سکھائیں؟

اس کے جواب میں چندرو تومر نے کہا: ہمیں وہ بات کر کے دکھاتی تھیں۔ ہم نے انھیں اپنی بولی سکھائی۔ تاپسی پنوں اور بھومی پیڈنیکر کو بولنا سکھایا۔ انھوں نے ہمارے کردار کو اچھی طرح نبھایا ہے۔'

تاپسی اور بھومی کے ساتھ ان کا وقت کیسا گزرا؟ اس کے جواب میں پرکاشی تومر نے کہا: 'دونوں بچوں کا سلوک بہت اچھا تھا۔ وہ دو ڈھائی مہینے ہمارے ساتھ رہیں۔ تاپسی اورپنوں دونوں ہمارے گھر میں رہتی تھیں۔ ہم سب کا بہت اچھا وقت گزرا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/BHUMI PEDNEKAR

یہ دیورانی اور جیٹھانی (چھوٹی اور بڑی بہو) کی جوڑی آپ کو حقیقی بہنوں سے کم نظر نہیں آئیں گی، دونوں ہی چندرو تومر اور پرکاشی تومر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کبھی لڑائی نہیں ہوئی، وہ ہمیشہ پیار سے رہیں اور ان کے گھر کی ساری بیٹیاں اور بہوئيں سب پیار سے رہتی ہیں۔

'سانڈ کی آنکھ' فلم کو اس کی ریلیز سے پہلے ہی اترپردیش حکومت نے ٹیکس فری کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں