ٹک ٹاک: عام پاکستانی نوجوانوں نے وائرل ویڈیوز کے ذریعے لاکھوں صارفین کے دل کیسے جیتے؟

ٹک ٹاک تصویر کے کاپی رائٹ Tik Tok

تنقید اور تنازعات میں گھری موبائل ایپ ٹک ٹاک کبھی پاکستان کی قومی ائیرلائن کے عملے کی معطلی کی وجہ بنتی ہے تو کبھی حریم شاہ کی وزارت داخلہ میں داخلے پر انکوئری کی۔ لیکن اس ایپ کا جادو دیکھیے کہ روز بروز اس کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا بھر کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتی ایپ ٹک ٹاک سنہ 2019 میں پاکستان میں سب سے زیادہ ڈاون لوڈ کی جانے والی سوشل میڈیا ایپ ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے ذیادہ مواقع دستیاب نہیں ہیں، وہاں ٹک ٹاک ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں نوجوان اپنے فن کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تو آخر اس ایپ میں ایسی کیا خاص بات ہے جو نوجوان اس کی طرف کھچے چلے آ رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

فریئر ہال: کراچی کا ٹک ٹاک لینڈ

ٹِک ٹاک ویڈیوز پر پی آئی اے کے عملے کو وارننگ

ٹک ٹاک پر کم عمر مداحوں کا تحائف کے لیے ’استحصال‘

حریم شاہ نے وائرل ویڈیو کس سرکاری عمارت میں بنائی؟

مختصر ویڈیوز بنانے والی چینی ایپ کا نعرہ ہے ’اصل لوگ، اصل ویڈیوز‘ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے متوسط، غریب اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے ٹک ٹاک کا سہارا لے رہے ہیں۔

’ٹک ٹاک پر ڈھابے والا بھی اپنا ٹیلنٹ دِکھا سکتا ہے‘

عثمان عاصم پنجاب کے شہر وزیر آباد کے ایک بازار میں ہول سیل کی دکان چلاتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر ’دی فیمس مولوی‘ کے نام سے مشہور عثمان کے ٹک ٹاک پر ساڑھے پانچ کروڑ لائکس اور 20 لاکھ فلوورز ہیں۔

عثمان کا کہنا ہے کہ ’ٹک ٹاک ایک ایسی ایپ ہے جہاں ایک چائے ڈھابے والا بھی اپنا ٹیلنٹ دِکھا سکتا ہے اور اس ایپ سے ملنے والے ایکسپوژر کے ذریعے اُسے دیگر مواقع مل سکتے ہیں کہ وہ اپنا ٹیلنٹ ٹی وی یا بڑی سکرین پر دکھا سکے۔‘

عثمان کی کامیابی اور شہرت کا سہرا ٹک ٹاک کے سر ہے اور یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ وہ اس کی وجہ سے راتوں رات ایک مشہور شخصیت بن گئے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمیں تب ملا جب ہم عثمان سے ملنے ان کے شہر وزیر آباد میں داخل ہوئے اور ایک راہ گیر سے راستہ پوچھا تو اس نے ہمیں بتایا کہ ’اُس چوک کے پاس ہی ٹک ٹاک والے عثمان مولوی کی دکان بھی ہے۔‘

سیالکوٹ کے ایک پسماندہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی نائلہ جٹ بھی ٹک ٹاک سٹار ہیں۔ ان کے ڈیڑھ کروڑ لائکس اور سات لاکھ کے قریب فلوورز ہیں۔

کہنے کو تو وہ ایک خاتونِ خانہ ہیں اور انھوں نے تعلیم حاصل نہیں کی۔ ان کے شوہر رکشا چلاتے ہیں جبکہ ان کی والدہ لوگوں کے گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں۔

لیکن ٹک ٹاک استعمال کرنا اتنا آسان ہے کہ انھیں اس کے ذریعے وائرل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ ’میں پڑھی لکھی نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں اس ایپ کے ذریعے باآسانی ویڈیوز بنا لیتی ہوں جو فوراً ہٹ بھی ہو جاتی ہیں۔‘

ٹک ٹاک پر بڑے بڑے اداکار بھی ان کے مداح ہیں اور حال ہی میں ڈرامہ سیریز ’ہم سفر‘ کے سٹار نور الحسن نے نائلہ کی آواز پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔

خواجہ سرا مہک ملک ایک رقاصہ ہیں اور پنجاب کے شہر ملتان میں سٹیج پر پرفارم کرتی ہیں۔ گو کہ وہ اپنی فیلڈ میں پہلے سے ہی کافی مقبول ہیں، لیکن ٹک ٹاک پر ان کے ساڑھے چار کروڑ لائکس اور 28 لاکھ فلوورز ہیں۔

ان کے مطابق ٹک ٹاک کے ذریعے ان کے مداحوں میں طبقاتی تقسیم کم ہوئی ہے۔

’ٹک ٹاک کی بدولت پڑھے لکھے ’ہائی فائی‘ لوگوں کی نظر بھی ہم پر پڑ گئی ہے۔ جو پہلے خواجہ سراؤں کو نہیں دیکھتے تھے یا پسند نہیں کرتے اور ان کی محفلوں کا حصہ نہیں ہوتے تھے، وہ لوگ بھی اب جاننے لگے ہیں کہ مہک ملک بھی کوئی چیز ہے۔‘

’وہ کہتے ہیں نا، امراؤ یہ مجرا کرے گی تو اس کوٹھے کو شہرت ملے گی اور شہرت ہی دولت کا سرچشمہ ہوتی ہے۔‘

یہ جملے ادا کرتے ہی مہک سے رہا نہیں گیا اور وہ کِھل کِھلا کر ہنس پڑیں۔

کیا ٹک ٹاک سے بھی کمائی ممکن ہے؟

تو کیا ٹک ٹاک سے ملنے والی شہرت ان ٹک ٹاکرز کے لیے واقعی دولت کا سر چشمہ بھی ہے؟

نائلہ جٹ کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے بارے میں انھیں اُن کی سہیلی نے بتایا تھا۔ ’اس نے بتایا کہ ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے سے کمپنی کی جانب سے تحائف ملتے ہیں۔ لیکن مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘

عثمان عاصم کہتے ہیں کہ یوٹیوب کے برعکس ٹک ٹاک پر براہ راست کمائی ممکن نہیں۔ ’البتہ متعدد برانڈز مشہور ٹک ٹاکرز کو اپنی مصنوعات کی مشہوری کے لیے کچھ رقم یا گفٹ دے دیتے ہیں۔‘

Image caption مہک ملک اپنی دوست کے ہمراہ

’ناظرین نہ داڑھی سے خوش نہ ڈانس سے‘

ٹک ٹاک پر بظاہر آسان دکھائی دینے والا شہرت کا سفر اتنا بھی سہل نہیں۔ مہک ملک کو ان کی جنس اور ڈانس کو بطور پیشہ اپنانے کے باعث تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

’میری ویڈیوز کے نیچے لوگ کمنٹس کرتے تھے کہ توبہ توبہ استغفر اللہ۔۔۔ تو مجھے ہنسی آتی ہے کہ یہ کہہ کون رہا ہے، وہ جو خود دیکھ رہا ہے؟‘

انھوں نے ناصرف اس تنقید کا دلیری سے سامنا کیا بلکہ اپنی بے باک ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کی خواجہ سراؤں اور رقاصوں کے بارے میں معاشرے کی سوچ کو تبدیل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

اور نہ ہی مہک اس جدوجہد میں اکیلی ہیں۔

عثمان عاصم کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانا شروع کیں تو اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ ’آپ داڑھی رکھ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہیں؟‘

ایسے لوگوں کو ان کا تو جواب یہی ہوتا ہے کہ ’اوّل تو میں کچھ غلط کام نہیں کر رہا، بلکہ لوگوں کے چہروں ہر مسکراہٹیں بکھیر رہا ہوں۔ دوسرا یہ کہ اگر کوئی چیز غلط ہے تو وہ داڑھی والے کے لیے بھی غلط ہے اور بغیر داڑھی والے کے لیے بھی۔‘

نائلہ جٹ کا کہنا ہے وہ تمام ٹک ٹاک ویڈیوز اپنے دو کمرے کے کچے مکان میں ہی بناتی ہیں۔ ’میرے پاس پاس دکھانے کو نہ تو بڑا گھر ہے، نہ مہنگے کپڑے اور نہ ہی میں فر فر انگریزی بولتی ہوں۔‘

ان کی سادگی اور لہجے کا لوگوں نے مزاق بھی اڑایا۔ یہاں تک کہ ان کو ’چنگڑی‘ بھی پکارا گیا لیکن انھوں نے لوگوں کے تضحیک آمیز رویے کو نظر انداز کیا کیونکہ ’میں اپنی اور اپنے گھر والوں کی نظر میں کچھ غلط نہیں کر رہی۔‘

ہمیں پاکستان میں آپ جیسے مولوی اور چاہییں

سر پر ٹوپی، چہرے پر داڑھی اور مزے سے بھرپور ویڈیوز، ’دی فیمس مولوی‘ کی منفر ادائیں لوگوں کو بہت بھاتی ہیں۔

عثمان کا کہنا ہے کہ ’داڑھی والے شخص کو دیکھ کر ہمارے ملک میں اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یا تو سنجیدہ مزاج کا ہو گا یا غصے والا۔ بہت سے لوگ جب میرے ٹک ٹاک پروفائل پر آتے ہیں شاید وہ بھی یہی گمان کرتے ہوں گے، مگر جب وہ مجھے مزاحیہ کردار میں دیکھتے ہیں تو اِس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ مجھے تو اکثر لوگ کمنٹس میں کہتے ہیں کہ آپ جیسے مولوی پاکستان میں اور چاہیے۔‘

عثمان اپنی ویڈیوز کے ذریعے معاشرے کے دقیانوسی تصورات کو چیلینج کرنے والے اکیلے نہیں ہیں۔ مہک ملک بتاتی ہیں کہ ’جو لوگ پہلے میری ویڈیوز پر نفرت انگیز کمنٹس کرتے تھے میرے ڈانس کی وجہ سے، آج وہی لوگ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

ٹک ٹاک پر پابندی کا مطالبہ

ٹک ٹاک کی شہرت میں جہاں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں اس پر پابندی کہ مطلبات اور ٹک ٹاکرز پر ہونے والی تنقید بھی طول پکڑتی جا رہی ہے۔

رواں سال اپریل میں انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کی ایک عدالت کے فیصلے بعد ٹک ٹاک کو چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں تک رسائی میں مدد دینے کے الزامات کے باعث اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم پابندی کے اطلاق کے ایک ہفتے بعد ہی اسے عدالت کی جانب سے اٹھا لیا گیا اور ٹک ٹاک بحال کر دی گئی۔

امریکی اداروں کی جانب سے بھی اس ایپ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان میں بھی اس پر وقتاً فوقتاً پابندی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ رواں برس اگست میں ایڈووکیٹ ندیم سرور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹیشن داخل کی گئی تھی جس میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی متعدد افراد اس ایپ پر بے حیائی پھیلانے اور پاکستان کے معاشرتی اقدار کو تقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@Abrar_0006

لیکن اس ایپ کو استعمال کرنے والے اس پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے۔ مہک ملک کہتی ہیں ’ٹک ٹاک پر اعتراض کرنے والوں سے مجھے یہ گلہ ہے کہ وہ خود یہ ویڈیوز کیوں دیکھتے ہیں؟ ہم اگر بنا رہے ہیں تو وہ دیکھ بھی تو رہے ہیں نہ! پہلے وہ اسے دیکھنا بند کریں اور اس ایپ کو ڈیلیٹ کر دیں۔‘

’کچھ لوگوں کا یہ اعتراض درست ہے کہ اس پر چند افراد فحش ویڈیوز لگا رہے ہیں لیکن کوئی بھی ایپ اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اچھے یا بُرے مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔‘

ٹک ٹاک سے آگے جہاں اور بھی

ٹک ٹاک پر حاصل یہ شہرت صرف ٹک ٹاک تک ہی محدود نہیں۔ عثمان عاصم کے بقول انھیں پاکستان فلم انڈسٹری سے فلموں کی آفر بھی آئی ہیں۔ ’لیکن وہ فلمیں میرے مزاج کے مطابق نہیں تھیں جس کی وجہ سے میں نے ان آفرز کو قبول نہیں کیا۔‘

نائلہ جٹ کا کہنا ہے کہ انھیں ٹک ٹاک ایونٹس، جہاں مشہور ٹک ٹاک شخصیات لائیو پرفارمنس دیتی ہیں، پر آنے کی متعدد بار پیشکش ہوئی لیکن ان کی دلچسپی ماڈلنگ یا اداکاری میں زیادہ ہے۔ ’میں اپنا ٹیلنٹ بڑے پردے پر دکھانا چاہتی ہوں لیکن میرے اور بھی خواب ہیں۔ میں تو ٹک ٹاک سٹار بن گئی ہوں لیکن میں اپنی چھوٹی بہن کو پڑھا لکھا کر وکیل بنانا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں