ابرار الحق کے نئے گانے ’چمکیلی‘ پر تنقید: کیا یہ گانا واقعی ہی ہماری روایات کی نفی ہے؟

چمکیلی تصویر کے کاپی رائٹ Chamkeeli

معروف پاکستانی گلوگار ابرارالحق کے گانوں پر اعتراضات نئی بات نہیں اور ماضی کی طرح حال ہی میں ریلیز ہونے والے ان کے نئے گانے 'چمکیلی' پر بھی اعتراضات اٹھائے جانے لگے ہیں۔

حال ہی میں لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل رانا عدنان نے اس گانے پر پابندی لگانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے اور ان کے دائر کردہ دعوے کے مطابق ’چمکیلی‘ گانے میں مردوں کی تضحیک کی گئی ہے۔

گلوکار ابرارالحق کا کہنا ہے کہ انھیں اس گانے پر اعتراض کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جبکہ ان کے وکیل اس معاملے پر قانونی حکمتِ عملی بنا کر عدالت میں پیش ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کوک سٹوڈیو: ’کل بھی بلو زندہ تھی، آج بھی بلو زندہ ہے‘

ملیالم فلم کے گانے میں آخر ایسا کیا ہے؟

فرحان سعید کا انڈین گلوکار پر گانا چوری کا الزام

’گانے بند کرو میاں صاحب تقریر کر رہے ہیں‘

ابرار الحق کے اس گانے میں دکھایا گیا ہے کہ ایک لڑکی روایات کے برعکس ایک گھر داماد بیاہنے کے لیے بارات لے کر جاتی ہے اور گانے کے بولوں میں اس اقدام کی توجیہات پیش کی گئی ہیں۔

گانے پر پابندی کے درخواست دائر کرنے والے وکیل رانا عدنان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کے لیے بات ہی نہیں کی جاتی اور جب بھی آواز اٹھتی ہے تو وہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اٹھائی جاتی ہے۔

’اس گانے کو سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مرد عورت سے کم تر ہے جبکہ ہم مرد اور عورتوں کی برابری کی بات کرتے ہیں۔‘

رانا عدنان کے مطابق اس گانے میں یہ تاثر دیا گیا ہے ہمارے رسم و رواج میں لڑکا، لڑکی کو بیاہنے نہیں بلکہ لڑکی لڑکے کو شادی کر کے رخصت کروانے آئی ہے۔

’اس میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، جو ہماری معاشرتی روایات کے برعکس ہیں جیسا کہ میرا ماہیا، لے جاؤں تجھے بیاہ کر، جا کر تو سسرال میں سکھی رہے۔‘

رانا عدنان نے یہ بھی کہا کہ انٹرٹینمنٹ کا نام لے کر کسی بھی کمیونٹی کی تضحیک کرنا غیر مناسب ہے۔

’اس کیس میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مروں کی انا مجروح ہونے پر یہ دعویٰ کیا گیا تو وہ غلط ہے۔ اس معاملے میں خودی ہے انا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Coke Studio
Image caption کوک سٹوڈیو کے 12ویں سیزن میں ابرار الحق کے پنجانی گانے ’بلو‘ کو خاصی پذیرائی ملی ہے

’گانا صرف انٹرٹینمٹ کے لیے بنایا‘

گلوکار ابرار الحق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب بھی میرا کوئی گانا آتا ہے تو کچھ لوگ مجھے نیچا دکھانے کے لیے کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا کرتے ہیں، اس مرتبہ بھی یہی کیا گیا ہے لیکن میں اس کے خلاف لڑوں گا۔‘

گلوکار ابرار الحق نے بتایا ’یہ گانا میں نے خود لکھا ہے اور یہ صرف ایک مزاحیہ گانا ہے جس کا مقصد یہی تھا کہ تھوڑی دیر کے لیے انٹرٹینمٹ لوگوں کو دی جائے جیسے ایک کامیڈی فلم لوگوں کے مزے کے لیے بنائی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے کی روایات اور تہذیب اتنی کمزور نہیں کہ ایک گانے سے تباہ ہو جائیں کیونکہ ہماری ثقافت میں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔‘

’اس گانے کو لکھنے سے پہلے میرے ذہن میں آیا کہ بارات صرف لڑکا ہی کیوں لے کر آتا ہے لڑکی کیوں نہیں لے کر آتی۔ اس معاملے پر میں تو ہنس کر یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اس گانے میں ومین امپاورمنٹ کی بات کی گئی ہے۔‘

’میرے لیے یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ لوگ کیسے سوچتے ہیں اور کورٹ بھی میں چلے جاتے ہیں۔‘

چند سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ’چمکیلی‘ گانے پر یہ اعتراضات بھی کیے جارہے ہیں کہ اس گانے میں ڈیزائنرز پر غیر مناسب انداز میں تنقید کی گئی ہے۔

اس حوالے سے گلو کار ابرار الحق کا کہنا تھا ’جہاں تک میرا خیال ہے ڈیزائنرز تو میرےاس گانے سے بہت خوش ہیں۔ یہاں تک کہ جو اس گانے میں کپڑے استعمال کیے گئے ہیں مجھ سے ڈیزائنرز نے پیسے بھی نہیں لیے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chamkeeli

انھوں نے مزید کہا کہ فنکار حساس لوگ ہوتے ہیں اور ان کو پتا ہوتا ہے کہ جو بات کی گئی ہے وہ کس سیاق وسباق میں کی جا رہی ہے۔

’ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد ہر طرح کے لوگوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں موجود یہ ایسے حساس موضوعات ہیں جن پر ہم بہت پیار سے بات کرتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں سب لوگوں کو اس معاشرے میں جینے کا حق ہے اور کوئی کسی سے کم تر نہیں۔‘

کیا یہ گانا واقعی ہماری روایات کی نفی کرتا ہے؟

سماجی موضوعات پر تبصرہ کرنے والی صباحت ذکریا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گانے کے خلاف درخواست دائر کرنے والے وکیل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس گانے میں مروں کی تضحیک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ان خیالات کی توہین ہے جنھیں ہم مردوں اور عورتوں سے جوڑتے ہیں۔

’کسی عورت کا مضبوط جگہ پر ہونا ہمارے معاشرے میں مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے یا پھر ناقابل قبول ہوتا ہے۔ اس گانے میں اگر چمکیلی بارات لے کر آئی ہے تو ایک یہ انوکھی بات ہے اور اس میں مرد کی مردانگی چیلنج ہو رہی ہے۔‘

’میرے خیال میں اس گانے میں مرد کی تضحیک نہیں کی گئی۔ یہ گانا ہمارے معاشرے میں کی جانے والی باتوں کے گرد گھومتا ہے۔ جیسا کہ یہ کس قسم کا مرد ہے جس میں خواتین کی جھلک آتی ہے، جو عورت کو دبانے کے بجانے عورت کے نیچے لگا ہوا ہے یا پھر کوئی مرد سسرال میں کسی عورت کے ساتھ رہے اسے انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے۔‘

صباحت کا ماننا ہے کہ یہ گانا ہماری روایات کو چیلنچ نہیں کر رہا بلکہ اس میں حقیقت کا پہلو شامل ہے۔

’ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ گلو کار ابرار الحق ایک انٹرٹیننگ انسان ہیں اور یہ گانا بھی ویسا ہی ہے۔‘

اسی بارے میں