وائرل ویڈیو سے سوشل میڈیا پر مقبول: سکول کی ویڈیو نے سب کو نومل راؤ کی آواز کے سحر میں جکڑ لیا

نومل راؤ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کئی راجپوت گھرانوں میں موسیقی کو بطور پیشہ منتخب کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی ایسا کرے تو اسے خاندان سے ہی بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال لاہور کے فاروق شاد ہیں۔

گلوکار ہونے کی وجہ سے فاروق شاد کے اپنے ہی بھائیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے جس کے بعد ان کے والد نے انھیں گھر سے ہی نکال دیا تھا۔

مگر وقت کا پہیہ ایسے گھوما کہ فاروق شاد خود ایک بیٹی نومل راؤ کے والد بنے۔ فاروق شاد کو اپنی زندگی میں گلوکاری کا شوق رکھنے کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا رہا۔ شاید اسی وجہ سے انھوں نے کبھی اپنی بیٹی نومل کو گانا گانے کا نہیں کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’دوست یہی کہتے ہیں کہ یہ آواز کیسے نکالتی ہو‘

’کوک سٹوڈیو میں آنے کی خوشی بھی تھی اور ڈر بھی‘

برطانوی بینڈ کولڈ پلے کا امجد صابری کو خراج عقیدت

کوک سٹوڈیو: ’کل بھی بلو زندہ تھی، آج بھی بلو زندہ ہے‘

مگر جب فاروق شاد نے نومل کو ایک دن خاموشی سے اپنے کمرے میں ریاض کرتے سنا تو انھوں نے سوچ لیا کہ وہ اس کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کریں گے۔

کیونکہ نومل کو اکیلا گاتے دیکھ کر کچھ منٹ میں ہی ان کو وہ سب تجربات یاد آ گئے جس سے وہ اپنی زندگی میں گزرے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نومل راؤ کے والد فاروق شاد: ‘میں نے کہا بیٹا نہیں، تُو گا‘

نومل راؤ کون ہیں؟

نومل کو دنیا نے اس وقت جانا جب انھیں ایک ویڈیو میں سکول کی اسمبلی میں ’اے راہِ حق کے شہیدوں‘ گاتے سنا گیا۔ ان کی خوبصورت آواز نے سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

اب تک سکول کے فیس بک صحفے پر لگی اس ویڈیو کو 12 لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔ نومل اے لیولز کی طالبِ علم ہیں۔

وہ تین سال کی عمر سے گانا گا رہی ہیں۔ ان کے کمرے میں دیوراوں پر لگے مشہور گلوکاروں کے پوسڑز اور ٹیبل پر موجود گٹار سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کو گانے کا کس قدر شوق ہے۔

نومل کی آواز کانوں میں رس گھولنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں شور اور پریشانیوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

زندگی میں اکثر جب والدین میں سے کوئی ایک بھی کسی شعبے میں نام پیدا کر چکا ہو تو پھر ان کے بچوں کو اس شعبے میں آنے اور نام بنانے میں زیادہ مشکل نہیں ہوتی۔ تاہم نومل راؤ، والد کے پاکستانی فلم انڈسڑی میں پلے بیک سنگر ہونے کے باوجود آواز کے بل پر ہی اپنی شناخت پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

والد کے گھر میں موسیقی ممنوع تھی

نومل کے والد فاروق شاد 100 سے زیادہ پاکستانی فلموں میں گانا گا چکے ہیں۔ مگر سکول میں نعتیں پڑھنے سے لے کر پہلی فلم میں پلے بیک سنگر بننے تک کا سفر جن مشکلوں اور دشواریوں سے دوچار رہا وہ ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

Image caption نومل کو دنیا نے تب جانا جب اُنھیں ایک ویڈیو میں سکول کی اسمبلی میں 'اے راہِ حق کے شہیدوں' گاتے سنا گیا

اسی لیے جب نومل کو گاتا ہوا سنا تو اُنھوں نے سوچ لیا کہ نومل کے اس ہنر کو نہ صرف آگے بڑھنے دیں گے بلکہ اس خواب کو پورا کرنے میں بھی مدد کریں گے۔

نومل کے والد نے تو میڑک کے بعد ایک انشورنس کمپنی میں معمولی سی نوکری سے پہلی بار ہارمونیم خریدا تھا۔

فاروق بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے اپنی پہلی تنخواہ سے ہارمونیم خریدا تو میرے والد نے میرا ہارمونیم زمین پر مار کر توڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ کام نہیں کرنا۔ انھوں نے مجھے بہت مارا اور میں کئی دن تک روتا رہا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق راجپوت گھرانے سے ہے جہاں موسقی کو ممنوع سجھا جاتا ہے۔

فاروق شاد کے مطابق 1980 کی دہائی میں پاکستان کے آرمی چیف اور صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں موسقی کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اس دور میں موسقی کے آلات کو بھی استعمال کرنا ممنوع اور خاندان کی روایات کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پیشے کو باعزت روز گار کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

اس کے باوجود فاروق شاد ڈٹے رہے۔ وہ اپنے والدین سے چھپ کر ایک گرجا گھر میں اپنے استاد سے گانا سیکھتے تھے۔

لیکن امید ہے کہ ان کے لیے اس شعبے میں آگے جانا اتنا مشکل نہ ہو گا۔

Image caption نومل کو اپنے والد کی طرح گزرے زمانوں کی کلاسیکل موسیقی کا شوق ہے

’بیٹی کے استاد والد‘

ہر بچے کی طرح نومل کو بھی پڑھائی سے زیادہ گانے کا شوق ہے۔ نومل کے والد کے مطابق ان کے کمرے کے پاس سے جس وقت بھی گزرا جائے ’اندر سے اپنی طرف متوجہ کرنے والی آواز آتی ہے۔‘

مردوں کی سرپرستی میں چلنے والے ہمارے اس معاشرے میں تعلیم کس قدر ضروری ہے، اس بات سے تو نومل بھی اتفاق کرتی ہیں۔ وہ مستقبل میں لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی ائے) سے میوزک میں ڈگری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور پھر باقاعدہ طور پر میوزک کو آگے لے کر چلنا چاہتی ہیں۔

گھر میں دونوں کی آوازوں کا تال میل سن کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فاروق اپنی بیٹی کے لیے کسی استاد سے کم نہیں ہیں۔

فاروق کو اپنے وقت میں ’مراسی یا گانے والا‘ جیسے کئی لقب سننے پڑے لیکن انھوں نے اس کے باوجود ہار نہ مانی اور اپنی آواز کو پاکستانی فلموں میں استعمال کرنے کا سوچا۔

نومل کو اپنے والد کی طرح گزرے زمانوں کی کلاسیکل موسیقی کا شوق ہے اور ان کے پسندیدہ سنگرز میں لتا منگیشکر سرِ فہرست ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان میں ہنر کی قدر کی جائے اور ان کا کہنا ہے ’آج اُس کو ہی آگے لایا جاتا ہے جو اچھا نظر آتا ہے۔‘

فاروق شاد کو پاکستانی فلم انڈسڑی میں جو مقام حاصل ہے وہ نہیں چاہتے کہ اسے سیڑھی بنا کر نومل فلم انڈسڑی میں آئیں۔ نومل نے بتایا کہ ان کے والد ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں کہ اپنا مقام خود بنانا ہے۔

اسی بارے میں