نسیم شاہ کی سری لنکا کے خلاف پانچ وکٹیں: ’دوسرے بولرز وکٹ لے سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔۔۔‘

پاکستان کی سری لنکا کے خلاف فتح تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 16 سالہ نسیم شاہ پانچ وکٹیں لینے والے دوسرے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے ہیں

نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں کوئی وکٹ نہیں ملی تھی لیکن مایوس ہونے کے بجائے انہوں نے تہیہ کر لیا کہ دوسری اننگز میں وہ بلے بازوں کو ضرور آؤٹ کریں گے۔

اور پھر کچھ ایسا ہی ہوا! کراچی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نسیم نے محض 31 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کر لیں۔

اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کسی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے دوسرے سب سے کم عمر بولر بن گئے ہیں۔ کراچی ٹیسٹ کے آغاز پر ان کی عمر 16 سال 307 دن تھی جبکہ پاکستانی لیفٹ آرم سپنر نسیم الغنی نے 1958 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جب ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں تو اس وقت ان کی عمر 16 سال 302 دن تھی۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے نسیم شاہ نے بتایا کہ جب پہلی اننگز میں شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس وکٹیں حاصل کر رہے تھے تو انھیں اس بات کی خوشی ضرور تھی کہ یہ ٹیم کے لیے اچھا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق وہ اس بات پر مایوس نہیں ہوئے تھے کہ انھیں وکٹیں نہیں ملیں یا ان کی بولنگ پر کیچ ڈراپ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

2006 کے بعد پہلی ہوم ٹیسٹ سیریز پاکستان کے نام

نسیم شاہ: ’والد نے کہا انگریز والا کھیل مت کھیلو‘

انڈین ڈرائیور، پاکستانی کرکٹرز اور ’روٹی ٹُکر‘

لیکن نسیم شاہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کر رہے تھے کہ ’جب شاہین آفریدی اور محمد عباس وکٹیں لے سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں لے سکتا؟‘

پھر انھوں نے دوسری اننگز میں وکٹیں لینے کی ٹھان لی اور اپنے حدف کو پانے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ وہ کوچ کے دیے گئے پلان پر پہلی اننگز میں بھی عمل کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے انھیں کوئی وکٹ نہیں ملی۔

بولنگ کوچ وقار یونس نے ان سے یہی کہا کہ بڑے بولر کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ پہلی اننگز میں وکٹ نہ ملنے کے بعد دوسری اننگز میں پوری تیاری کر کے میدان میں اترتے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر عمل کیا اور اپنی لائن لینتھ کا خیال رکھ کر نپی تلی بولنگ کی۔

نسیم شاہ آسٹریلیا کے حالیہ دورے میں سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے تاہم وہاں وہ صرف برسبین ٹیسٹ کھیل پائے تھے۔ اُس میچ سے قبل انھیں اپنی والدہ کے انتقال کی افسوسناک خبر ملی تھی۔

والدہ کے ذکر پر آبدیدہ

نسیم شاہ سے ان کی والدہ سے متعلق سوالات ہوئے تو پہلے تو انھوں نے یہ کہا کہ وہ اس بارے میں اس لیے کچھ کہنا نہیں چاہتے کہ ٹی وی پر ان کے والد دیکھ رہے ہوں گے، کہیں وہ پریشان نہ ہو جائیں۔ ’لہٰذا میرے جذبات دل ہی میں رہیں تو اچھا ہے۔‘

تاہم بعد میں نسیم شاہ نے اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کرکٹ کی بالکل سمجھ نہیں تھی لیکن وہ ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتی رہتی تھیں۔ جس دن ان کا انتقال ہوا، وہ گاؤں سے لاہور آنے والی تھیں کیونکہ نسیم نے اپنی والدہ سے کہا تھا کہ آسٹریلیا سے آنے کے بعد وہ لاہورمیں ہی اپنی ٹریننگ کر رہے ہوں گے۔

نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد بہت کٹھن وقت تھا، لیکن اللہ نے صبر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ آسٹریلیا پہنچے تھے تو ان کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا تھا کہ ایک نوجوان فاسٹ بولر یہاں آیا ہے۔

انھوں نے اپنی کم عمر کے حوالے سے اپنے اوپر کوئی دباؤ نہیں لیا تاہم یہ ضرور سوچا تھا کہ اس دورے میں انھیں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنا ہے۔ والدہ کے انتقال کے بعد ان پر بہت کٹھن وقت آیا تھا جسے ان کے بقول الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@TheRealPCB

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی فاسٹ بولنگ اٹیک کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان فاسٹ بولرز کو ان کی صلاحیتیں دیکھ کر ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا۔ جہاں نسیم کا تجربہ کم ہے وہیں وہ مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

اظہر علی کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ نے آسٹریلیا میں بھی بہت اچھے اسپیل کیے تھے اور وہاں جس نے بھی نسیم کو بولنگ کرواتے دیکھا اس نے یہی کہا کہ انھیں بولنگ کرنی آتی ہے۔ ’چونکہ وہ ابھی جوان ہیں لہذا انھیں دیکھ بھال کر ساتھ کِھلانے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں