’اقبال بانو نے اپنی گائیکی سے غزلوں اور ادبی کلام کو نئی معنویت دی‘

گوگل تصویر کے کاپی رائٹ Google

28 دسمبر 1935 کو برِصغیر کے شہر روہتک میں زھرہ بائی نامی گلوکارہ کے گھر جنم لینے والی اقبال بانو کا نام پاکستان میں غزل گائیکی کو بامِ عروج تک پہنچانے والی شخصیات میں سرِ فہرست ہے۔

اقبال بانو کی گائی ہوئی غزلیں جہاں آج بھی ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں وہیں ان کے یوم پیدائش پر سرچ انجن گوگل نے بھی اپنے ہوم پیج پر ’ڈوڈل‘ لگا کر انھیں خراج تحسین پیش کیا۔

اقبال بانو کی گائیکی اپنے عہد کے دوسرے گلوکاروں سے کیسے منفرد تھی، اس بارے میں آرٹس اور کلچر کے لکھاری پیزادہ سلمان کہتے ہیں ’ان کی گائیکی بالکل منفرد تھی اور اس کے دو سبب ہیں: ایک تو ہمارے ہاں زنانہ آواز کا جو تصور ہے اقبال بانو کی آواز ویسی نہیں تھی۔ ان کی آواز مختلف تھی جس میں کھنک تھی اور وہ بہت ہی خوبصورت تھی۔‘

’دوسرا وہ سیکھی ہوئی گلوکارہ تھیں۔ انھوں نے دلی میں استاد چاند خان سے گلوکاری کی تربیت لی جو بہت کمال کے استاد تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اقبال بانو کا فن

اقبال بانو انتقال کر گئیں

اقبال بانو: 'محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے'

آل انڈیا ریڈیو سے اپنے فن کا آغاز کرنے والی اقبال بانو سنہ 1952 میں 17 سال کی عمر میں پاکستان آ گئیں جہاں ان کی ایک زمیندار گھرانے میں شادی ہوئی اور وہ ملتان میں آباد ہوئیں۔

سلمان کہتے ہیں ’انھوں نے پہلے تو اپنی آواز سے خود کو منوایا۔ اقبال بانو نے کچھ غزلیں اور ادبی کلام ایسا گایا کہ اس کلام کو نیا رنگ، نئی معنویت دی۔‘

فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کی مثال دیتے ہوئے سلمان کہتے ہیں ’اس نظم کو پڑھیں تو اس میں فیض صاحب کا نرم و ملائم لہجہ تو ملتا ہے لیکن جب اقبال بانو نے اسے گایا، تو اس میں ایک نعرے کی سی اجتماعی کیفیت (جیسے کوئی آدمی بھرے مجمعے میں نعرے لگا رہا ہو) اجاگر کی۔‘

’اپنے سُروں، اپنی آواز اپنی کمپوزیشن سے اقبال بانو نے یہ نظم ’بہت عمدہ‘ گائی۔‘

سلمان کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اقبال بانو کا تلفظ بہت اچھا تھا اور ان کا شعر کا فہم بہت ہی کمال تھا ’وہ شاعری سممجھتی تھیں اور سمجھ کر گاتی تھیں اسی لیے ان کا گایا ہوا اثر کرتا تھا۔‘

اُردو کے معیاری تلفظ اور ادائیگی کے دہلوی انداز سے اقبال بانو کی شناسائی آل انڈیا ریڈیو کے دہلی مرکز میں ہوئی۔

اقبال بانو کی گائی ہوئی ایک اور معروف غزل ’داغ دل ہم کو یاد آنے لگے۔۔۔ لوگ اپنے دیئے جلانے لگے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان کہتے ہیں ’اس غزل کو سن کر معلوم ہوتا ہے کہ لفظ، سُر، شاعری، ادب اور زندگی سے ان کا رشتہ کتنا مضبوط تھا۔‘

’یہی وجہ ہے کہ آج وہ ایک بہت بڑی گلوکارہ کے طور پر یاد کی جاتی ہیں اور ان جیسی گلوکارہ دوبارہ کوئی آئی بھی نہیں۔ اقبال بانو اپنی آواز اور شاعری کے حوالے سے بالکل یکتا ہیں۔‘

’ہم دیکھیں گے‘ اقبال بانو کا ٹریڈ مارک بن گیا

سنہ 1985 میں جنرل ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر فیض احمد فیض کی شاعری پیش کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی تھی۔ لاہور کے الحمرا آڈيٹوريم میں انتظامیہ نے بڑی مشکل سے فیض کی سالگرہ منانے کی اجازت دی تھی جہاں اقبال بانو کو فیض احمد فیض کا کلام گانا تھا۔

اس زمانے میں نہ صرف فیض احمد فیض پر پابندی تھی بلکہ ساڑھی پہننے والی عورتوں کو بھی حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ اقبال بانو اس دن ریشمی ساڑھی پہن کر آئیں اور انتظامیہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھوں نے ’ہم دیکھیں گے۔۔۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے،' گایا اور پورے لاہور نے ان کے سر میں سر ملایا تھا۔

اس گیت کو گانے کی سزا اقبال بانو کو یہ ملی کہ ان پر پاکستانی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر پابندی لگا دی گئی۔

بعد میں یہی گانا اقبال بانو کا ٹریڈ مارک بنا اور جہاں بھی وہ جاتیں لوگ ان سے یہی گانا سننے کی فرمائش کرتے۔ آج بھی پاکستان سے لے کر انڈیا تک طلبا جہاں جہاں احتجاج کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں، وہیں ’ہم دیکھیں گے‘ گنگناتے سنائی دیتے ہیں۔

سلمان کہتے ہیں ’فیض کو گاتے ہوئے آپ خودبخود ایک اجتماعیت اور سماجی شعور کے ساتھ اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔‘

تو کیا اقبال بانو خود بھی بائیں بازو کے خیالات کی حامی تھیں؟

سلمان کہتے ہیں ’اس بارے میں مجھے زیادہ اندازہ تو نہیں لیکن ظاہر ہے جب آدمی گا رہا ہے تو اس کی گائیکی میں تبھی سچائی آئے گی نہ جب وہ ان خیالات کو کہیں نہ کہیں مانتا ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter:/@RadioPakistan

فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر انھیں متعارف کرانے کا سہرا ہدایتکار انور کمال پاشا کو جاتا ہے۔ پیرزادہ سلمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اقبال بانو کلاسیکی موسیقی میں تربیت یافتہ تھیں لیکن ان کا رجحان نیم کلاسیکل گائیکی اور غزل وغیرہ کی طرف زیادہ تھا۔

ہدایتکار خلیل قیصر کی فلم ناگن میں اگرچہ موسیقار صفدر نے اُن کے لیےخاص طور پر نیم کلاسیکی دھنیں تیار کیں اور اُن کا گایا ہوا گیت زبان زدِ خاص و عام ہوگیا۔ ’اب کے ساون تو سجن گھر آجا۔‘

لیکن اقبال بانو نے جلد ہی پلے بیک گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اپنے فن کو محض نیم کلاسیکی محفلوں تک محدود کر لیا۔

سنہ 1974 میں اقبال بانو کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

اپریل 2009 میں اقبال بانو اتقال کر گئیں لیکن ان کی گائی ہوئی غزلیں اور نظمیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ پاکستان بھر سے سوشل میڈیا صارفین سرچ انجن گوگل کو ہوم پیج پر ’ڈوڈل‘ لگا کر خراجِ تحسین پیش کرنے پر شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter:/@Syedtalalahmad2

احسن ندیم اس بات سے خوش ہیں کہ اقبال بانو برصغیر میں ظلم کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت بن گئی ہیں۔ گوگل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’ہمیں امید ہے کہ اقبال بانو دونوں ممالک کے لوگوں کو حق بات کی لڑائی کے لیے متاثر کرتی رہیں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter:/@AhsanNadeem93

اقبال بانو کا گوگل ڈوڈل بنانے والی پاکستانی آرٹسٹ سمیعہ عارف نے اس موقعے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’گوگل کے ساتھ اس پراجیکٹ پر کام کرنا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔‘

پیرزادہ سلمان کہتے ہیں ’اب گوگل ڈوڈل نے اقبال بانو کو آپ کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا تو سوشل میڈیا پر لوگ اقبال بانو کے بارے میں بات کرنے لگ گئے ہیں اس سے امید تو یہی ہے کہ ہمارے نوجوان بھی ماضی کے فنکاروں اور ان کے کام کی طرف دوبارہ رجوع کریں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں