چھپاک: تیزاب حملے کا شکار بننے والی باہمت لڑکی کی کہانی

دیپکا پاڈوکون تیزاب کے حملے کی متاثر لکشمی کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دیپکا پاڈوکون تیزاب کے حملے کی متاثر لکشمی کے ساتھ

’دراصل تیزاب کے حملے کا شکار (افراد) کے لیے (نوکری حاصل کرنے کے فارم میں) کوئی خانہ نہیں ہوتا ہے۔‘

انٹرویو کے لیے آنے والی ایک لڑکی سے جب ایک غیر مطمئن باس پوچھتا ہے کہ فارم میں کیوں نہیں لکھا کہ (آپ کا) چہرہ جھلسا ہوا ہے تو اس لڑکی کا مذکورہ جواب باس کو لاجواب کر دیتا ہے۔

ایسی ہی ایک بہادر لڑکی کی کہانی چھپاک ہے۔ حقیقی زندگی میں تیزاب کے حملے کا نشانہ بننے والی لکشمی اگروال کی جدوجہد کی کہانی کو میگھنا گلزار اور دیپیکا پاڈوکون نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

کوئی چہرہ مٹاکے اور آنکھ سے ہٹاکے

چند چھینٹے اڑا کے جو گیا۔۔۔

چھپاک سے پہچان لے گيا

اریجیت سنگھ کی آواز میں ادا کیا گیا یہ گیت فلم ’چھپاک‘ کی روح کو الفاظ میں ڈھالتا ہے کہ کس طرح تیزاب کی چند چھینٹیں کسی کی شناخت اور زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

خوبصورتی کے معیار سے قطع نظر، ہیروئین کے جلے ہوئے چہرے اور اس کی مجروح روح کو پیش کرنا بہادری تو کہی جا سکتی ہے لیکن یہ عظیم فلم نہیں کہی جا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فلم پدرشاہی سوچ کو بھی ظاہر کرتی ہے

تیزاب کے حملے میں اپنا چہرہ، کان، ناک سب کچھ گنوا دینے والی مالتی کی مایوسی، اداسی، چھٹپٹاہٹ کو دیپکا نے ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی ہے۔

مثال کے طور پر حملے کے بعد نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکی مالتی (دیپیکا) اپنی تمام پرانی چیزیں، بھڑکیلے کپڑے، جھمکے، بالیاں سب پھینک دینا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پدماوتی‘ کے بارے میں دیپکا کے بیان پر تنازع

آصف غفور کا دیپیکا کے حق میں پہلے ٹویٹ، پھر ڈیلیٹ

دپیکا پاڈوکون تیزاب حملے کی شکار لڑکی کے روپ میں

جب ماں روکتی ہے تو مالتی غصے میں کہتی ہے کہ ’ناک ہے نہ کان پھر جھمکے کہاں پہنوں گی۔‘

اگرچہ وہ خود پر طنز کرتی ہے لیکن اس کا بوجھ آپ اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہیں۔ آپریشن کے بعد دیپیکا کے کان میں لٹکنے والا معمولی سا جھمکا بہت کچھ کہتا ہے۔

فلم میں وکرانت میسی نے بہت اچھا کام کیا ہے جو ان کے کولیگ ہوتے ہیں جو پہلے دوست بنتے ہیں اور پھر ہمسفر بن جاتے ہیں۔

وکرانت دونوں کے مابین تلخ و شیریں رشتے کو بہت خوبصورتی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

اس فلم میں نہ صرف تیزاب کے حملہ بلکہ معاشرے کی پدر شاہی ناروا سوچ، ناقص قانون نظام اور بے حسی کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ایک منظر میں جب پولیس حملے کے بعد دیپیکا کے فون کی جانچ کرتی ہے تو فون میں بہت سارے میسجز لڑکوں کے ہوتے ہیں۔

تیزاب کے حملے کے بعد بے چینی کا شکار دیپیکا سے ہمدردی کے بجائے پولیس اہلکار پوچھتے ہیں کہ جب وہ لڑکیوں کے سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہے تو اتنے لڑکوں سے دوستی کیوں کر ہوئی۔ معاشرے کی یہ وہی سوچ ہے جو لڑکیوں کو کسی بھی جرم کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

فلم ’راضی‘ ہو، ’فی الحال‘ ہو یا پھر ’تلوار‘ ہو ہدایتکار میگھنا گلزار کی فلموں میں نسوانی کردار کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ چھپاک میں بھی یہی دیکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تیزاب کے حملے کا شکار لڑکی کا درد

’چھپاک‘ کی خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں تیزاب کے حملے سے متاثرہ لڑکی کے درد اور تڑپ کو بہ بخوبی دکھایا گیا ہے۔ لیکن اس لڑکی کو مجبور نہیں دکھایا گيا ہے۔

محبت میں پہل بھی وہی کرتی ہے، سخت مزاج وکرنت میسی جس سے سب ڈرتے ہیں اس سے وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ وہ کوئی حکومت نہیں جو وہ اس سے ڈرے۔

وہ جانتی ہے کہ زندگی نے اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے لیکن یہ ہمیشہ احساس بےبسی اور اس کے بوجھ تلے رہنا اسے قبول نہیں ہے۔

اپنی این جی او میں چھوٹی سی کامیابی پر پارٹی کرنے والی دیپکا کو جب وکرانت میسی نے دیپیکا کو ڈانٹتا ہے اور پارٹی بند کرا دیتا ہے تو وہ اسے بیباکی سے کہتی ہے کہ ’آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ حادثہ آپ کے ساتھ ہوا، لیکن تیزاب کا حملہ مجھ پر ہوا ہے۔ میں آج خوش ہوں اور مجھے پارٹی کرنا ہے۔‘

لیکن مخلصانہ کوششوں کے باوجود یہ فلم آپ کے دل میں وہ جگہ نہیں بنا سکتی ہے جتنا کہ اس میں مادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Film poster

دیپیکا نے محنت کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مالتی کے کردار کی باریکیاں اور کچھ گہرائی اب بھی اچھوتی رہ گئی ہیں۔

اس فلم کے ساتھ ہی انڈین فلموں میں دیپکا کا نام بھی خواتین پروڈیوسرز کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ دیپیا پاڈوکون نے اس فلم کو فاکس سٹوڈیو کے اشتراک سے پروڈیوس کیا ہے۔

سنہ 2019 میں ملیالم زبان میں فلم ’اویارے‘ بنی تھی جو کہ ایک نوجوان خاتون پائلٹ کی تیزاب کے حملے کا شکار ہونے کی کہانی تھی۔

گذشتہ چند برسوں میں کام کے دوران ایسی بہت سی لڑکیوں سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جو اس قسم کے حملے کا نشانہ بنی تھیں۔ بعضوں کے جسم جھلس گئے ہیں تو کسی کی آنکھوں سے روشنی چلی گئی ہے۔

ایسے بہت سارے لوگوں سے بات کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ’اویارے‘ اور چھپاک جیسی فلموں سے ان لوگوں میں کچھ امید جاگتی ہے جو اس کا شکار ہوئے ہیں۔ انھیں احساس ہوتا ہے کہ کہیں کوئی ہے جو ان کی بات کر رہا ہے۔

تاہم فلم چھپاک میں یہ احساس چھوڑا جاتی ہے یہ کہانی مزید تہہ دار، نازک اور گہری ہو سکتی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ بات شروع تو ہوئی لیکن کچھ چیزیں ان کہی رہ گئیں۔

کچھ اسی طرح جیسے اصل زندگی میں دیپیا پاڈوکون جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملنے آئیں لیکن وہ کچھ کہے بغیر چلی گئیں۔

اسی بارے میں