سابق انڈین اداکارہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے شخص کو قید

خواتین کے ستاھ جنسی زیادتی کے خلاف خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک سابق بالی وڈ اداکارہ کو 2017 میں ایک پرواز کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ایک 41 سالہ کاروباری شخص وکاس سچدیو کو تین برس جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

وکاس سچدیو پر الزام تھا کہ پرواز کے دوران جب متاثرہ اداکارہ نیند میں تھیں تو انھوں نے ان کے گردن اور پیٹھ پر اپنا پاؤں پھیرا۔

اس واقعے کے وقت متاثرہ اداکارہ سترہ برس کی تھیں اس لیے وکاس سچدیو کو چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سزا دی گئی ہے۔

انڈین قانون کے تحت جنسی تشدد کے متاثرہ افراد کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین شہری پر فلائیٹ کے دوران جنسی ہراساں کرنے کا الزام

دفتروں میں جنسی ہراس کیا ہے؟

یونیورسٹیوں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ

اداکارہ کے ساتھ یہ واقعہ 2017 میں دلی سے ممبئی جانے والی پرواز کے دوران پیش آیا۔

اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ ’وہ میرے کندھے کو چھیڑتا رہا اور پھر میری پیٹھ اور گردن پر اوپر نیچے پاؤں پھیرتا رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ پہلے انھوں نے خراب موسم کی وجہ سے پرواز کو لگنے والے جھٹکوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن بعد میں جب پاؤں ان کی گردن چھونے لگا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔

پرواز کے بعد انھوں نے اپنی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ سخت ناراض نظر آ رہی تھیں۔ انھوں نے اسے ’ہولناک‘ تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’جب تک ہم خود اپنی مدد کرنے کا فیصلہ نہیں کریں گے، کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔‘

انھوں نے وکاس سچدیو کی ویڈیو بنانے کی بھی کوشش کی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے ان کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔ تاہم ایئر لائن کی مدد سے وکاس کی شناخت ہونے کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

متاثرہ اداکارہ نے ایئر لائن پر بھی الزام لگایا تھا کہ انھوں نے شکایت کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ لیکن انھوں نے ایئر لائن کے خلاف باضابطہ طور پر شکایت درج نہیں کرائی۔

ایئر لائن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے یہاں ایسے معاملات میں ’زیرو ٹالرینس‘ پالیسی ہے۔

اسی بارے میں