وی لاگر عرفان جونیجو: ’ایک لڑکا جو زندگی سے بھرپور تھا، زندگی کے مقصد پر سوال اٹھانے لگا‘

عرفان جونیجو تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/IrfanJunejo

’میں نے وی لاگنگ کے ذریعے اپنی ہر خواہش پوری کی۔ آج کل انٹرنیٹ پر مشہور ہونا بہت آسان ہے لیکن پہچان بنانا مشکل ہے۔ مجھے یہ سب کچھ ملا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں نے خود اعتمادی کھو دی۔‘

یہ پاکستان کے مشہور یوٹیوب وی لاگر عرفان جونیجو ہیں جنھوں نے تین روز قبل ’آئی کوئٹ‘ کے عنوان سے ویڈیو جاری کر کے اپنے مداحوں کو حیران کر دیا۔

اس ویڈیو میں انھوں نے اعلان کیا کہ اب سے ان کی وی لاگز بنانے کی تعداد میں کمی آئے گی کیونکہ وہ کافی عرصے سے خود اعتمادی کی کمی، اضطراب اور غیر یقینی جیسے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ججوں کی ذہنی صحت پر سوال؟

’ذہنی صحت بھی جسمانی صحت جتنی اہم ہے‘

موٹاپا بچوں کی ذہنی صحت متاثر کر سکتا ہے

انھوں نے کہا کہ ’ایک زمانے میں ایک لڑکا جو زندگی سے بھرپور تھا اب وہ اپنے زندگی کے مقصد پر سوال اٹھانے لگا ہے۔‘

عرفان جونیجو نے کہا کہ وہ ہمیشہ کے لیے یوٹیوب کو خیر باد نہیں کہہ رہے اگر کبھی ان کا دل کیا کہ وہ ویڈیو بنائیں تو وہ ضرور بنائیں گے لیکن اپنی مرضی سے، نہ کہ لوگوں کے اصرار اور فرمائش پر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/IrfanJunejo
Image caption 'ایک زمانے میں ایک لڑکا جو زندگی سے بھرپور تھا اب وہ اپنے زندگی کے مقصد پر سوال اٹھانے لگا ہے'

عرفان نے اپنی ویڈیو کا اختتام مشہور آرٹسٹ وین گوخ کے اس قول سے کیا کہ ’میں نے اپنے کام میں اپنا دل اور روح لگا دیے لیکن اس عمل میں اپنا ذہنی سکون گنوا دیا۔‘

اس حوالے سے جب بی بی سی نے عرفان جونیجو سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی ذہنی صحت سے متعلق مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

تو کیا یہ سچ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور اور لائکس، فولوورز اور سبزکرائبرز کی دوڑ میں شہرت کے بدلے اپنا ذہنی سکون گنواں رہے ہیں؟

ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر کے تھیرپی لینی پڑی

ٹوئٹر سے شہرت پانے والی مہوش بھٹی جنھیں ٹوئٹر صارفین ’ماہو بلی‘ یا ’ریاست کی موت‘ کے نام سے جانتے ہیں کا کہنا کہ یہ درست ہے کہ لوگوں کی آپ سے توقعات آپ پر ایسا دباؤ ڈالتی ہیں کہ آپ ان پر پورا اترنے کے لیے ہر حد تک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مہوش طنز و مزاح سے بھرپور ٹویٹس کے لیے پسند کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عرفان جونیجو سے متفق ہیں کیونکہ ان پر بھی ایک ایسا وقت آیا تھا جب سوشل میڈیا پر ان پر بہت تنقید کی گئی۔

’میں ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہو گئی اور مجھے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر کے تھیرپی لینی پڑی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mahwish Bhatti
Image caption ’میں ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہو گئی اور مجھے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر کے تھیرپی لینی پڑی‘

انھوں نے کہا کہ اب بھی لوگ مجھ سے توقع کرتے ہیں کہ میں جو بھی تبصرہ کروں گی اس میں کچھ نہ کچھ مزاحیہ ہو گا کیونکہ میں اس کے لیے جانی جاتی ہوں۔

’جب ایسا نہیں ہوتا تو مجھے بہت مایوسی ہوتی ہے اور اکثر غصہ بھی آتا ہے۔‘

مہوش بھٹی نے ٹوئٹر پر زیادہ سے زیادہ فالوو رز بڑھانے کی ریس سے تو اب اپنے آپ کو دور کر لیا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ اب بھی وہ اکثر غصے اور انزائٹی کا شکار ہوتی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر رہنا ان کے کام کی ضرورت اور ان کی مـجبوری ہے۔

’نو فلٹرز‘ کے نام سے یوٹیوب چینل چلانے والی ڈاکٹر تمکنت بھی مہوش بھٹی سے اتفاق کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا آپ کے ذہنی دباؤ کی وجہ بنتا ہے۔

’میں جس دن کوئی نئی ویڈیو اپ لوڈ کرتی ہوں میں سارا دن مستقل یہی دیکھتی رہتی ہوں کہ اس ہر اب کتنے لائکس آگئے اور لوگ اس پر کیا رائے دے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے میں زیادہ وقت فون پر جبکہ فیملی کے ساتھ کم گزارتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram/Tamkenat
Image caption ڈاکٹر تمکنت کہتی ہیں کہ یوٹیوب کے ذریعے پیسے کمانا بھی اس بڑھتے ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہے

ڈاکٹر تمکنت کہتی ہیں کہ یوٹیوب کے ذریعے پیسے کمانا بھی اس بڑھتے ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ دیکھتے ہیں کہ دوسرے وی لاگرز ایسے ویڈیوز بنا رہے ہیں جن کو بہت لوگ دیکھ رہے ہیں تو آپ کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ آپ ویسی ویڈیوز بنائیں اور اکثر لوگ بھی آپ کو اس پر مجبور کرتے ہیں چاہے آپ اس طرح کی ویڈیوز نہ بنانا چاہتے ہوں۔‘

’جس کی وجہ سے آپ عدم اطمینان کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔‘

تمکنت پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ جہاں سوشل میڈیا بہت سے صارفین میں ذہنی امراض کی وجہ بن رہا ہے وہیں اس کہ کچھ مثبت پہلو بھی ہیں۔

’میں نے حال ہی میں اپنی امی کو سوشل میڈیا سے متعارف کروایا جو اکثر اپنے اولاد کی مصروفیت کی وجہ سے تنہائی کی شکایت کرتی تھیں لیکن اب سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر تمکنت کا ماننا ہے کے منفی اثرات سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ نے کب ’بریک لگانی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube/DuckyBhai
Image caption ’عرفان جونیجو نے یوٹیوب کو خیرباد نفسیاتی مسائل کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اپنی ذاتی مصروفیات اور مسائل کے باعث کیا‘

عرفان جونیجو کسی ذہنی مرض کا شکار نہیں

لیکن ڈکی بھائی کے نام سے یوٹیوب پر مشہور سعد الرحمان سمجھتے ہیں کہ عرفان جونیجو نے یوٹیوب کو خیرباد نفسیاتی مسائل کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اپنی ذاتی مصروفیات اور مسائل کے باعث کیا۔ جن کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے وی لاگز نہیں بنا پا رہے۔

تاہم اس حوالے سے جب بی بی سی نے عرفان جونیجو کی رائے جانی تو انھوں نے کہا کہ ’سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی ان کے دوست نہیں ہیں بلکہ ان کی صرف جان پہچان ہے۔‘

سعد الرحمان عرف ’ڈکی بھائی‘ یہ مانتے ہیں کہ لائکس اور فالوورز کی ریس میں آگے نکلنے کے لیے اکثر لوگ کچھ چیزیں ایسی بھی کہتے اور کرتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتیں۔

’وہ یہ سب اس لیے کہتے ہیں تاکہ لوگ ان کے بارے میں بات کریں اور آرٹیکل لکھیں۔‘

سعد کہتے ہیں کہ انھوں نے سوشل میڈیا کی وجہ سے کبھی کسی بڑے ذہنی دباؤ کا سامنا نہیں کیا۔

’اگر مجھے ایسا کبھی کوئی مسئلہ ہوا بھی تو میں اسے ساری دنیا کو نہیں بتاؤں گا کیونکہ لوگ یوٹیوب پر اس قسم کی مایوس کن باتیں سننے نہیں آتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/IrfanJunejo
Image caption صدف عرفانہ کے مطابق سوشل میڈیا صافین کے سکرین ٹائم میں اضافے کی وجہ سے ان کی سونے کی اوقات خراب ہوتے ہیں اور نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے لوگ ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں

سوشل میڈیا: کبھی خود اعتمادی میں کمی تو کبھی خود پسندگی کی وجہ

ماہر نفسیات صدف عرفانہ کے مطابق ان کے پاس آنے والے ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کے نفسیاتی مسائل کی جڑ سوشل میڈیا ہے۔

صدف عرفانہ کے مطابق سوشل میڈیا صافین کے سکرین ٹائم میں اضافے کی وجہ سے ان کی سونے کی اوقات خراب ہوتے ہیں اور نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے لوگ ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کہ علاوہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی تصاویر دیکھ کر اکثر لوگ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگیوں سے کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے ان میں اپنی زندگی اور اپنی صلاحیتوں کو لے کر نہ امیدی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جہاں سوشل میڈیا اکثر صارفین میں خود اعتمادی میں کمی کی وجہ بن رہا وہیں اکثر افراد ایسے بھی ہیں جن میں یہ خود پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔‘

صارفین سوشل میڈیا پر لائکس اور مثبت کمنٹس کے عادی ہوجاتے ہیں اور جب انھیں حقیقی زندگی میں تنقید کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پاتے۔

سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے تفسیاتی مسائل کا نوٹس اب سوشل میڈیا کمپنیوں جیسا کہ فیس بک ، یوٹیوب، سنیپ چیٹ اور انسٹاگرام نے بھی لینا شروع کر دیا

ہے اور اس کے حل کے لیے چند نئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں بھی ذہنی مسائل کو کم کرنے میں کوشاں

حال ہی میں یوٹیوب اور فیس بک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود مواد کی نگرانی کرنے والوں سے کہا ہے کہ ایک فارم پر دستخط کریں جس میں وہ بتائیں گے کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر، پی ٹی ایس ڈی کے بارے میں آگاہ ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود مواد کی نگرانی کرنے والے افراد دن بھر کے کام کے دوران قابلِ اعتراض مواد اور اکثر سینکڑوں پریشان کن تصاویر دیکھتے ہیں۔

جبکہ سنیپ چیٹ نے بھی نیا فیچر متعارف کروایا جس کے ذریعے صارفین ذہنی مسائل سے متعلق آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ انسٹاگرام میں امریکہ سمیت متعدد ممالک میں تصویر پر کتنے’لائکس‘ آئیں ہیں اس سے واضح نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ صارفین غیر ضروری مقابلے میں نہ پڑیں۔

اسی بارے میں