شوبز ڈائری: ’جب سے کام شروع کیا ہے پدرشاہی کا مطلب سمجھ آ گیا ہے‘

سنی لیونی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنی لیونی بھی اس کیلنڈر کا حصہ ہیں

بالی ووڈ کے تمام ہیرو اور ہیروئنز کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ انڈسٹری کے ہر بڑے فلمساز کے ساتھ کام کریں۔ لیکن انڈسٹری میں کامیابی کی دو اور اہم سیڑھیاں بھی ہیں۔۔۔ ایک بڑے میگزین کے صفحہ اول پر آنا اور دوسرا ڈبو رتنانی کے کیلنڈر کا حصہ بننا۔

ڈبو رتنانی ایک فیشن فوٹو گرافر ہیں اور 1999 سے ہر سال ایک کیلنڈر نکالتے ہیں جو شوبز میں کمال کی مقبولیت رکھتا ہے اور اس سال کے ان کے کیلنڈر میں ایشوریہ رائے سے لے کر سنی لیونی تک شامل ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ دونوں کی تصاویر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میرا سونالی بیندرے کے ساتھ افیئر نہیں ہے‘

نانا پاٹیکر کو جنسی ہراس کے الزام میں ’کلین چٹ‘

’میں کسی سے نفرت نہیں کرتا، ماحول خراب نہ کریں‘

سلمان مودی کے انتخاب پر خوش اور پرینکا کے شکرگزار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھومی نے اپنی تصویر انسٹاگرام پر شائع کی

کیلنڈر میں اور کون کون شامل ہے؟

اس کیلنڈر میں بھومی پدنیکر باتھ ٹب میں بیٹھ کر ایک نئے روپ میں نظر آ رہی ہیں۔ سنی لیونی کی تصویر میں انھوں نے خود کو ایک کتاب سے ڈھانپ رکھا ہے جبکہ کائرا اڈوانی نے خود کو صرف ایک پتے سے ڈھانپا ہے۔

کیلنڈر میں ہیروز بھی شامل ہیں جن میں سیف علی خان، وکی کوشل، رتک روشن، رنویر سنگھ اور ٹائیگر شروف شامل ہیں۔

ادھر ایشوریہ رائے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DABBOO RATNANI
Image caption ٹائیگر شروف بھی اس کیلنڈر کا حصہ ہیں

’مسٹر انڈیا‘ پر ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ

فلم سلطان، ٹائیگر زندہ ہے، اور بھارت جیسی کامیاب فلمیں بنانے والے فلمساز علی عباس ظفر، اب ’مسٹر انڈیا‘ پر ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یعنی اپنے دور کی مثالی فلم ’مسٹر انڈیا‘ بنانے جا رہے ہیں۔ تاہم ظفر کا کہنا ہے کہ یہ مسٹر انڈیا کا ری میک نہیں بلکہ یہ ایک نیا خیال ہوگا۔

ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں ظفر لکھتے ہیں کہ اپنے زمانے کے مشہور کردار کو آگے بڑھانا ایک مشکل چیلنج اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس فلم کی سکرپٹ پر کام شروع ہو چکا ہے ایک بار خاکہ تیار ہو جائے، اس کے بعد فلم کی کاسٹ پر غور کیا جائے گا۔ ظفر نے کہا کہ فلم پر اگلے سال کام شروع ہو جائے گا۔

لیکن پہلی ’مسٹر انڈیا‘ بنانے والے فلمساز شیکھر کپور کچھ ناراض نظر آ رہے ہیں۔ اپنی ایک ٹوئیٹ میں انھوں نے لکھا کہ ابھی تک کسی نے مجھ سے ’مسٹر انڈیا ٹو‘ کے بارے میں نہ تو کوئی بات کی ہے اور نہ ہی کوئی ذکر کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption علی عباس ظفر نے سلمان کے ساتھ کئی ہٹ فلمیں بنائی ہیں

شیکھر کپور کا مزید کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ مشہوری کے لیے میری فلم کے نام کا استعمال کیا جا رہے ہے کیونکہ کوئی فلم کے اصلی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی کہانی یا کرداروں کو استعمال نہیں کر سکتا۔‘

علی عباس ظفر کے اس اعلان کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس فلم کے بارے میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ایسے مشہور کردار کو دوبارہ زندہ کرنا آسان ہوگا یا پھر یہ نیا کردار پرانے کردار کی کسٹوٹی پر کھرا اتر بھی پائے گا۔

لیکن ساتھ ہی کچھ لوگ علی عباس ظفر کی قابلیت کا لوہا مانتے ہوئے، امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ماضی کا ’مسٹر انڈیا‘ ایک بار پھر سنہرے پردے پر ایک نئے انداز میں ان سے رو برو ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاپسی پنوں اپنے مختلف کرداروں کے لیے مشہور ہیں

جب سے کام شروع کیا ہے پدرشاہی کا مطلب سمجھ آ گیا ہے

جب سے تاپسی پنوں کی فلم تھپڑ کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے، انھوں نے جیسے تحریکِ نسواں شروع کر دی ہے۔ ہر روز ایسے بیان دیتی نظر آ رہی ہیں جس سے عورتوں کے حقوق اور مردوں کی مبینہ زیادتیوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔

اس ہفتے تاپسی نے ایک نیا بیان دے ڈالا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جب سے انھوں نے کام کرنا شروع کیا ہے، انھیں پدرشاہی معاشرے کا مطلب سمجھ آنے لگا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں انھیں سوال کرنے کا حق تھا لیکن جیسے ہی انھوں نے کام کرنا شروع کیا انھیں سمجھ میں آیا کہ آپ کے والد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ باہر جا سکتی ہیں یا نہیں، آپ کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں، آپ کی ماں آپ سے متفق ہونے کے باوجود بھی آپ سے متفق نہیں ہوتیں، آپ کو شام ڈھلنے سے پہلے گھر واپس آنا ہے، کیا پہننا ہے اور کیا نہیں پہننا۔

تاپسی کا کہنا ہے کہ کسی بھی تبدیلی کے لیے آپ کو لوگوں میں اس تبدیلی کے لیے احساس پیدا کرنا اہم ہے اور یہ احساس صرف بول کر نہیں بلکہ آپ اپنے کام کے ذریعے بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں