ہاروی وائن سٹائن جنسی جرائم کے مرتکب قرار، الزامات لگانے والوں کا فیصلہ کا خیر مقدم

وائن سٹائن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بالی وڈ کے سابق فلم ساز ہاروی وائن سٹائن پر عصمت دری اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کرنے والے افراد نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انھیں ان الزامات کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو ایک امریکی عدالت نے جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا، ان پر لگنے والے الزامات کے تحت انھیں 25 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

جن جرائم کا انھیں مجرم ٹھہرایا گیا ان میں جنسی دست درازی اور مجرمانہ جنسی فعل کرنا شامل تھا۔ معروف ہالی وڈ اداکاراؤں سمیت 80 سے زیادہ خواتین نے وائن سٹائن پر جنسی طور پر نامناسب رویہ برتنے کے الزامات عائد کیے تھے اور ان جرائم کا سلسلہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔

اداکارہ روز میک گوؤن نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آور‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک شاندار دن ہے۔‘ جبکہ الزامات عائد کرنے والے دیگر افراد کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے متاثرین کی امید بندھائی ہے کہ ان کی آوازوں کو سنا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

کیریئر تباہ کرنے پر ایشلے جوڈ کا وائن سٹائن پر مقدمہ

وائن سٹائن پر ریپ کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد

میک گوؤن نے مزید کہا کہ ’جب مجھے تکلیف پہنچائی گئی اس وقت میں چھوٹی بچی تھی۔۔۔ یہ شاندار دن ہے۔ گند کو صاف کر دیا گیا ہے۔‘

اداکارہ روز گوؤن اُن ابتدائی افراد میں شامل تھیں جنھوں نے وائن سٹائن پر الزامات عائد کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ ہم پرکشش سفید فارم عورتیں ہیں جن کے پاس اپنے بھی کچھ ذرائع بھی ہیں مگر پھر بھی انھیں (وائن سٹائن) ایک روز کے لیے عدالت لانے کے لیے ہمیں اتنا کچھ کرنا پڑا۔ مجھے بتانے دیجیے۔۔۔ ہماری شنوائی ہونا ہے لگ بھگ ناممکن ہے، سزا کی بات کو تو چھوڑ ہی دیجیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس میک گوؤن: 'جب مجھے تکلیف پہنچائی گئی اس وقت میں چھوٹی بچی تھی۔۔۔ یہ شاندار دن ہے۔ گند کو صاف کر دیا گیا ہے'

یاد رہے کہ 67 سالہ وائن سٹائن کو سنگین نوعیت کے جنسی جرائم کے الزامات کا بھی سامنا تھا تاہم انھیں ان الزامات سے بری کر دیا تھا وگرنہ انھیں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی تھی۔

ایک مشترکہ خط میں اداکارہ ایشلے جوڈ، لوسیا ایونز، روسانا ارکیوٹ اور دیگر 19 خواتین نے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ مایوس کن اس لیے ہے کیونکہ اس کے ذریعے اس ’حقیقی اور مکمل انصاف کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی جس کی اتنی خواتین مستحق ہیں۔‘

تاہم اس خط کے ذریعے ان تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جو وائن سٹائن کے خلاف سامنے آئیں اور اپنی آواز بلند کی۔

وائن سٹائن کو 11 مارچ کو ان الزامات کے تحت سزا سنائی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ انھیں امریکی ریاست لاس اینجلس میں بھی ریپ اور جنسی حملوں کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے مطابق اس کے علاوہ بھی ان کے خلاف کئی کیسز زیر تفتیش ہیں۔

وائن سٹائن کے خلاف دائر کی گئی عوامی شکایات کا متعلقہ فورمز پر شنوائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دسمبر 2019 میں وائن سٹائن کے وکلا نے آگاہ کیا تھا کہ وہ چند الزامات عائد کرنے والوں سے 25 ملین ڈالر کی ڈیل کے نزدیک پہنچ چکے ہیں۔

وائن سٹائن کے خلاف فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق پروڈکشن اسٹنٹ میمی ہالیئی

پیر کے روز سات مردوں اور پانچ خواتین پر مشتمل جیوری مقدمے کے تمام نکات پر غور کرنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچی تھی۔

وائن سٹائن نے سابق پروڈکشن اسٹنٹ میمی ہالیئی پر جنسی حملے اور اداکارہ بننے کی خواہشمند جیسیکا مان کے ریپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں خود کو بے قصور ٹھہرایا تھا۔

یہ مقدمہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف چلائی جانے والی 'می ٹو' مہم کا محور رہا ہے۔ اس درمیان دنیا بھر سے خواتین نے بااثر مردوں کے خلاف آواز بلند کی جنہوں نے اپنے احتیار یا عہدے کی وجہ سے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جنسی سکینڈل کی زد میں آئے ہوئے ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن پر متعدد خواتین نے جنسی حملوں اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیسیکا مان (بائیں) اور انابیلا سیئورا (دائیں) نے وائن سٹائن پر ریپ کے الزامات عائد کیے تھے

مشہور اداکارائیں جیسے کیٹ بیکنسیل، لائسیٹ انتھونی اور گوائنتھ پالٹرو ان معروف ناموں میں شامل ہیں جنھوں نے پروڈیوسر پر الزامات لگائے۔

اس کے علاوہ اداکارہ ایشلی جڈ نے کہا کہ پرڈیوسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ان کے کیرئیر کو نقصان پہنچا۔

ہاروی وائن سٹائن پر جاری مقدمات میں سے ایک میں اطالوی ماڈل ایمبرا باٹیلانا نے ہاروی وائن سٹائن پر ان کو دبوچنے کا الزام لگایا تھا۔

تفتیش کاروں نے اس الزام پر کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ ان کے پاس آڈیو ریکارڈنگ موجود تھی جس میں ہاروی وائن سٹائن یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے ماڈل کی چھاتی کو چھوا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ دوبارہ نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں