فلم ’گون ود دا ونڈ‘ میں نسلی تعصب، نمائش روک دی گئی

Vivien Leigh and Hattie McDaniel in Gone with the Wind

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ویون لیھ اور ہیٹی ڈینیئل دونوں اداکاروں کو اس فلم میں اداکاری پر آسکر ایوارڈ دیا گیا

امریکہ میں انٹر نیٹ پر فلمیں 'سٹریم' یا جاری کرنے والی کمپنی 'ایچ بی او' نے شہرہ آفاق فلم 'گون ود دی ویڈ' کی سٹریمنگ نسل پرستی کے الزامات کی وجہ سے روک دی ہے۔

ایچ بی او نے کہا ہے کہ 1939 میں بنائی گئی فلم اس دور کے لسانی اور نسلی تعصبات کی عکاسی کرتی ہے جو اس وقت بھی برے تھے اور آج بھی برے ہیں۔

اس کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فلم تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ دوبارہ دستیاب کر دی جائے گی لیکن اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

امریکہ میں ہونے والی خانہ جنگی کے تناظر میں بنائی گئی اور معاشرے میں پائے جانے والے غلامانہ نظام کی عکاسی پر اس فلم پر تنقید کی جا رہی تھی۔

یہ فلم ناول نگار مارگریٹ میچل کے ناول پر بنائی گئی ہے جس میں سیاہ فام غلاموں کے ایسے کردار بھی ہیں جو اپنی حالت سے بالکل مطمئن ہیں اور غلامی کے خاتمے کے بعد بھی اپنے سیفد فام آقاؤں سے وفادار رہے۔

'گون ود دا ونڈ' نامی اس فلم نے دس آسکر ایوارڈ حاصل کیے اور اب تک سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم کا اعزاز رکھتی ہے۔

ہیٹی میکڈینئل وہ پہلی سیاہ فام اداکارہ ہیں جنہیں اس فلم میں گھر میں کام کرنے والی ایک غلام عورت 'میمی' کا کردار ادا کرنے پر ایوارڈ دیا گیا تھا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

فلمی مصنف جان ریڈلی نے لاس ایجنلس ٹائمز میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ فلم میں جنگ سے پہلے کے جنوب کو عظیم دکھایا گیا اور سیاہ فام لوگوں کے بارے میں عام اذیت ناک تصورات کو آگے بڑھایا۔

آسکر انعام یافتہ فلم 'ٹویلو ایئرز آ سلیو' کے مصنف نے مزید لکھا کہ 'اس فلم کو اس وقت ہالی وڈ میں کام کرنے والے بہترین صلاحیت کے مالک اداکاروں کی خدمات حاصل ہوئیں اور انھوں نے ایک غیر حقیقی کہانی میں جذباتی رنگ بھرا۔

ایچ بی او میکس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فلم کو بغیر کسی وضاحت اور نسل پرستی کی مذمت کے اس پلیٹ فام پر دستیاب رکھنا غیر ذمہ دارانہ کام ہو گا۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فلم جس طرح بنائی گئی تھی اسی طرح دستیاب کر دی جائے گی بصورت دیگر یہ دعوی کرنے کے مترادف ہو گا کہ یہ نفرتیں اور تعصبات کبھی تھے ہی نہیں۔

اس بیان کے الفاظ بالکل اسی طرح کے ہیں جو ٹام اینڈ جیری کارٹون کے ہدایت نامے کے تھے اور جو دوسری سٹریمنگ سروسز نے بھی جاری کیے۔

ڈزنی پلس نے بھی اپنے صارفین سے کہا ہے کہ اس کی کچھ پرانی فلموں میں جن میں سنہ 1941 کی فل ڈمبو بھی شامل ہے میں ہو سکتا ہے کہ کچھ فرسودہ طرز کے معاشرے کی عکاسی کی گئی ہو۔

ایچ بی او کی طرف سے یہ اقدام نسلی پرستی کے خلاف پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے پس منظر میں اٹھایا گیا ہے۔ اس نئی صورت حال میں بہت سے ٹی وی چینلوں کو اپنے پروگراموں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس سے قبل لٹل برٹن نامی فلم کو نیٹ فلکس، برٹ باکس اور بی بی سی آئی نے ہٹا لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گون ود دی ونڈ 1939 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی