مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے کا الزام: اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید بری

بلال

،تصویر کا ذریعہInstagram/bilalsaeed_music

صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے تاریخی مسجد وزیر خان کے تقدس کو مبینہ طور پر پامال کرنے کے مقدمے میں اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کو بری کر دیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کی جانب سے بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انھیں الزامات سے بری کیا ہے۔

یاد رہے کہ اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے خلاف تاریخی مسجد وزیر خان میں ایک گانے کی ویڈیو کی عکس بندی کرنے کا مقدمہ اگست 2020 میں لاہور کے اکبری گیٹ تھانے میں وکیل فرحت منظور کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے ’مسجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے مسجد کے اندر ڈانس/گانا عکس بند کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔‘

اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید نے بریت کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ مسجد وزیر خان میں رقص کا کوئی بھی سین عکس بند نہیں کروایا اور گانا ’قبول ہے‘ کی عکسبندی کی اجازت محکمہ اوقاف سے باقاعدہ طور پر لی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اگست 2020 کو ریلیز ہونے والے اس گانے میں وزیر خان مسجد میں فلمائے گئے مناظر موجود نہیں تھے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ انھیں بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کروایا گیا۔ مسجد وزیر خان میں گانے کی عکسبندی کے موقع کے کسی گواہ نے شکایت نہیں کی تھی اور مدعی مقدمہ موقع کے گواہ بھی نہیں ہیں۔

صبا قمر اور بلال سعید نے درخواست میں مقدمے بریت کی استدعا کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post

لاہور کی مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں توہین مذہب کا عنصر موجود نہیں اور نہ ہی موقع سے آلات موسیقی قبضے میں لیے گیے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں دیے گیے گواہان میں سے کوئی بھی موقع پر موجود نہیں تھا اور تمام گواہان نے یہ کلپ سوشل میڈیا پر ہی دیکھا تھا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں کہ درخواست گزاروں نے مسجد میں گانا چلایا لہذا ملزمان کے خلاف الزام بے بنیاد ہے اس لیے ٹرائل کی ضرورت نہیں۔ لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے بریت کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔

مقدمے کا پس منظر

'قبول ہے' نامی اس گانے کو بلال سعید نے گایا ہے جبکہ صبا قمر اس میں بطور اداکارہ اور ڈائریکٹر کام کر رہی تھیں۔ اس گانے کے ریلیز ہونے سے قبل دونوں کو سوشل میڈیا پر مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم بہت سے لوگوں نے ان کی حمایت بھی کی تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں صبا قمر کو لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد میں گلوکار بلال سعید کے ساتھ رقص کا ایک سٹیپ لیتے دیکھا جا سکتا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین کے شدید ردِعمل کے نتیجے میں صبا قمر اور بلال سعید نے معافی بھی مانگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/sabaqamarzaman

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

معافی میں کہا گیا تھا کہ ’پردے کے پیچھے عکس بندی کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی وہ صرف 'قبول ہے' کے پوسٹر بنانے کے لیے محض ایک کلک تھا جس کا مقصد نکاح کے بعد شادی شدہ جوڑے کی خوشی دکھانا تھا۔ کسی کو تکلیف دینا یا ناراض کرنا یا کسی مقدس مقام کی بے حرمتی کرنا میرے لیے اتنا ہی ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے جتنا کسی بھی اچھے انسان کے لیے۔ لیکن اس کے باوجود اگر ہم نے انجانے میں کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو ہم تہہِ دل سے آپ سے معافی مانگتے ہیں۔'

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 'قبول ہے' گانے کا ٹیزر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ صبا قمر کا کہنا تھا کہ یہ وہ واحد حصہ ہے جو تاریخی وزیر خان مسجد میں فلمایا گیا تھا۔ یہ میوزک ویڈیو کا تعارفی حصہ ہے جس میں نکاح کا منظر پیش کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسے نہ تو کسی طرح کے پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا تھا اور اور نہ ہی بعد میں اس منظر پر کوئی موسیقی شامل کی گئی ہے۔ اس حوالے سے گلوگار بلال سعید نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا تھا کہ فلم بندی کے وقت مسجد کی انتظامیہ بھی موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

اس تنازع کے بعد سوشل میڈیا پر صوبائی محکمہ اوقاف و مذہبی امور کا ایک اجازت نامہ گردش کرتا رہا جس کے مطابق مورخہ 28 جولائی 2020 کو محکمے کے اسسٹنسٹ ڈائریکٹر برائے تبلیغ و تربیت نے 30 ہزار فیس کی ادائیگی کے بعد کچھ شرائط کے ساتھ مسجد وزیر خان میں ’ریکارڈنگ‘ کی اجازت دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGovt. of Punjab

اس بارے میں اس وقت کے پنجاب کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور سید پیر سعید الحسن نے بی بی سی کو اس اجازت نامے کی تصدیق کی تھی۔