امیتابھ بچن: ہزاروں فلموں کو ہمیشہ کے لیے ضائع ہونے سے بچانے پر بولی وڈ سٹار کے لیے بین الاقوامی ایوارڈ

  • سوتک بسواس
  • بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
امیتابھ بچن، راجیش کھنہ

،تصویر کا ذریعہFilm Heritage Foundation

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1971 میں ریلیز ہونے والی ہٹ فلم آنند کا ایک منظر جس میں امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ نے کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم محفوظ کر لی گئی ہے۔

کئی دہائیوں تک امیتابھ بچن نے اپنی 60 فلمیں ممبئی میں اپنے فلیٹ کے ایک ایئر کنڈیشن کمرے میں سنبھال کر رکھی تھیں۔

پانچ سال قبل انھوں نے ان فلموں کے پرنٹ شہر کی ایک فلاحی تنظیم کے حوالے کیے جس کے پاس درجہِ حرارت کو کنٹرول میں رکھنے والی سہولیات موجود تھیں اور جو انڈین فلموں کو محفوظ کرنے کے لیے آرکائیو بنا رہی تھی۔

سوندرا سنگھ دنگارپور نامی ایوارڈ یافتہ فلمساز کی سربراہی میں فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نامی اس تنظیم کی کوشش ہے کہ انڈین فلموں کے اصل پرنٹس کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ معروف ہدایتکار کرسٹوفر نولن کے مطابق تنظیم بین الاقوامی سطح بہترین معیار کے لیے جانی جاتی ہے۔ امیتابھ بچن اس کے برانڈ امبیسڈر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کئی سالوں سے امیتابھ اس کوشش میں ہیں کہ انڈیا کے تیزی سے تباہ ہو رہے فلمی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے۔

اور جمعے کے روز امیتابھ بچن کو ان کی ان قدرے غیر معروف کاوشوں کے لیے ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اٹھتر سالہ اداکار کو یہ ایوارڈ انٹرنیشنل فیڈریشن آف فلم آرکائیوز (ایف آئی اے ایف) کی جانب سے دیا گیا۔ ماضی میں یہ ایوارڈ کئی نامور ہدایتکاروں کو دیا جا چکا ہے۔

سوندرا سنگھ دنگارپور کا کہنا ہے کہ امیتابھ فلموں اور سینما کو محفوظ کرنے کے لیے بہت لگن سے کام کرتے رہے ہیں۔ ایک بار امیتابھ کو اس بات پر غصہ اور غم تھا کہ وہ دلیپ کمار کی ابتدائی فلمیں اس لیے نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ وہ بس ضائع ہو گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFilm Heritage Foundation

،تصویر کا کیپشن

دونگارپور کو ممبئی کے ایک گودام میں 200 فلمیں پڑی ہوئی ملی تھیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انڈیا میں 10 بڑی فلمی صنعتیں ہیں جن میں سے ایک بالی وڈ ہے۔ ملک میں ہر سال 36 زبانوں 2000 کے قریب فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

مگر ملک میں صرف دو فلمی آرکائیو ہیں۔ ایک پونے شہر میں سرکاری آرکائیو ہے اور دوسرا سوندرا سنگھ دنگارپور کا بنایا ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ ہماری شاندار فلمی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی فلمی تاریخ کا ایک بڑا حصہ غیر معیاری انداز میں رکھے جانے کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔

مثلاً انڈیا میں آواز کے ساتھ پہلی فلم عالم آرا (1931) اور مقامی طور پر بنائی گئی پہلی فلم کسان کنیا (1937) دونوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ مگر نئی فلموں کا حال بھی کچھ بہتر نہیں۔ جنگِ آزادی کی ہیروئن لکشمی ساگل پر 1977 میں بنی دستاویزی فلم اور شام بینیگل کی ‘ایک بھارت کی کھوج‘ (1988) اب موجود نہیں۔ یہاں تک کہ 2009 کی فلم ماگادھیرا کے نیگیٹیو چھ سال میں ہی ضائع ہو گئے۔

سوندرا کے مطابق انڈیا میں بننے والی 1138 خاموش فلموں میں سے صرف 29 ہی آج موجود ہیں۔ سنہ 1931 سے 1950 کے درمیان ممبئی (بمبئی) میں بننے والی تقریباً 2000 فلموں میں سے 80 فیصد آج دیکھی نہیں جا سکتیں۔

گذشتہ سال سوندرا اور ان کی ٹیم کو ایک ممبئی میں ایک کباڑ خانے میں بوریوں میں پڑی تقریباً 200 فلمیں اتفاقاً مل گئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘ان میں نیگیٹیو اور پرنٹ موجود تھے اور کسی نے بس انھیں پھینک دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہFilm Heritage Foundation

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1958 میں بنائی گئی فلم نائٹ کلب کا ایک منظر۔ یہ فلم اب آرکائیو میں محفوظ کر لی گئی ہے۔

اور کہانی یہی نہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ریاستی آرکائیو کے پاس موجود 31 ہزار فلموں کی ریلیں تباہ یا گم ہوگئی ہیں۔

سنہ 2003 میں اس ریاستی آرکائیو میں آگ لگنے سے تقریباً 600 فلموں کو نقصان پہنچا تھا۔ ان میں ملک کی پہلی خاموش فلم 1913 کی کلاسک راجہ ہریش چندر کے آخری اصل پرنٹ تھے۔ ہدایتکار گوتم گھوش کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے ماضی کی عزت کرنی ہوگی۔ اپنے ماضی کی عزت کرنے میں آپ کو اپنی ماضی کی فلموں کو محفوظ کرنا ہوگا۔‘

ڈیجیٹل فلموں کی امد سے پہلے فلموں کو عموماً اصل نیگیٹیوز کی مدد سے محفوظ کیا جاتا تھا اور اس کے ڈوپلیکیٹ پرنٹ نمائش کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ سوندرا کہتے ہیں کہ 2014 میں جب زیادہ تر فلمسازوں نے فلم پر شوٹنگ کرنا چھوڑ دی تو فلم لیبز نے پرانے پرنٹس کو ڈیجیٹل کر کے اصلی نیگیٹیو پھینک دیے۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اصلی پرنٹ کی ڈیجیٹل فلم کے مقابلے میں ریزولوشن بہت زیادہ تھی۔

مگر اب محفوظ کرنے والے زیادہ اصلی پرنٹس پر کام کرتے ہیں۔ سوندرا کہتے ہیں کہ وہ بالکل تباہی تھی اور انھیں فلم پرنٹس کے بارے میں آگاہی کے لیے پوری مہم چلانی پڑی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFilm Heritage Foundation

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1954 کی محفوظ کر لی گئی فلم شیر دل کا ایک منظر

گذشتہ چھ سالوں میں سوندرا اور دنیا بھر کے بہترین فلم آرکائیو ماہرین نے انڈیا بھر میں اس حوالے سے ورک شاپس اور تربیتی کیمپ منعقد کیے ہیں اور 300 سے زیادہ افراد کو یہ ہنر سکھایا ہے۔

تنظیم اب تک 500 کے قریب فلمیں محفوظ کر چکی ہے، آزادی کے دنوں کے کچھ عکس بچا چکی ہے۔ ان کی نایاب کلیکشن دو 16 ایم ایم کی ایسی ریلز بھی ہیں جن میں آسکر انعام یافتہ ہدایتکار ستیاجیت رائے معروف اطالوی امریکی ہدایتکار فرینک کپرا سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے پاس ہزاروں پرانی تصاویر اور فلمی پوسٹر بھی موجود ہیں۔

امیتابھ بچن ہمیشہ سے انڈیا کی فلمی صنعت کی اس کمزوری پر بات کرتے رہے ہیں۔ کلکتہ میں دو سال قبل انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری نسل کو انڈین سینما کے لیجنڈز کی کوششوں کا احساس ہے مگر بدقسمتی سے ان کی فلمیں یا تو جل گئی ہیں، گم ہوگئی ہیں یا خراب ہوگئی ہیں۔‘

’ہمارے فلمی ورثے کا بہت تھوڑا یا حصہ بچا ہے اور اگر ہم نے اس کو بچانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو ہم سے پہلے جو آئے تھے 100 سال بعد ان کا کوئی نام و نشان نہیں بچے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہShivendra Singh Dungarpur

،تصویر کا کیپشن

فلم کو محفوظ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے