شوکت علی: پاکستان کے مشہور لوک گلوکار لاہور میں انتقال کر گئے

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
شوکت علی

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ShaukatAliKhanFanClub

پاکستانی موسیقی کا ایک بڑا نام اور کئی مشہور لوک گیتوں کو زندگی دینے والے غزل اور لوک گلوگار شوکت علی جمعے کو لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔ شوکت علی لاہور کے کمبائنڈ ملٹری (سی ایم ایچ) ہسپتال میں گزشتہ چند روز سے زیرِ علاج تھے۔

شوکت علی کے بیٹے امیر شوکت علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد گزشتہ کچھ عرصہ سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور ’یہی ان کی موت کی وجہ بنی۔ ان کا جگر کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔‘

امیر شوکت نے حال ہی میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انھوں نے اپنے والد کے مداحوں اور عوام سے ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔

ان کے مطابق شوکت علی کی تدفین بھی لاہور میں ہی کی گئی ہے۔ امیر شوکت نے اپنے والد کے علاج پر پاکستانی افواج کے سربراہ سمیت ان افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے والد کی جان بچانے کی کوشش میں ان کی مدد کی تھی۔

'ان کا بہت اچھا علاج ہوا اور فوج سمیت میں ان تمام شخصیات کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس مشکل وقت میں ہماری مدد کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ShaukatAliKhanFanClub

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شوکت علی کا کیریئر

امیر شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد سنہ 1944 میں لاہور میں اندرون بھاٹی گیٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ پانچ سے زائد دہائیوں پر محیط اپنے موسیقی کے سفر کے دوران انھوں نے کئی پاکستانی فلموں کے لیے گانے گائے۔

تاہم شوکت علی پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں پاکستانی فلموں میں گائیکی کے منظر نامے پر اس وقت ابھرے تھے جب انھوں نے اس وقت کی مشہور فلم ’تیس مار خان‘ کے لیے اپنی آواز پیش کی تھی۔

سنہ 1965 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران انھوں نے ملی تغمے بھی گائے جو تاحال مشہور ہیں۔

ان میں ایک ملی نغمہ ’جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘ آج بھی ان کی پہچان ہے اور کئی گلوکاروں نے کئی مرتبہ اسے گایا ہے۔ شوکت علی نے موسیقی کی تقریباً تمام تر اصناف میں اپنی آواز کو کامیابی سے آزمایا جس میں غزل گائیکی بھی شامل تھی۔ تاہم ان کی وجہ شہرت لوک موسیقی رہی۔

میوزک کمپوزر اور پاکستانی ثقافت اور موسیقی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی نمایاں شخصیت یوسف صلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شوکت علی نے اردو میں بھی کافی فلموں کے لیے گانے گائے اور غزل وغیرہ بھی گائی لیکن وہ زیادہ مشہور پنجابی کے صوفی کلام گانے کے لیے تھے۔‘

یوسف صلاح الدین پاکستان ٹیلی ویژن پر ’ورثہ‘ کے نام سے ایک موسیقی کے پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے جو ان کی لاہور میں واقع حویلی میں ہی ریکارڈ بھی کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranShaukatAli

،تصویر کا کیپشن

لوک گلوگار شوکت علی کا اپنے بیٹے عمران شوکت علی کے ہمراہ ایک پوز

انھوں نے بتایا کہ شوکت علی اور ان کے بیٹے بھی ان کے پروگرام میں آ کر گا چکے ہیں۔

’انھوں نے صوفی شاعر میاں محمد بخش کا کلام کافی گایا ہے۔ ان کی وفات پاکستان میں خصوصاً لوک موسیقی کے مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔‘

شوکت علی کو اپنی زندگی میں کئی اعزازات سے نوازا گیا تاہم پاکستان میں موسیقی کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں سنہ 1990 میں پرائڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا تھا۔

شوکت علی گزشتہ کچھ عرصے سے بیمار تھے اور دل کے عارضے کے باعث ان کا بائی پاس آپریشن بھی ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ جگر کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے اور صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میں واقع ہسپتال میں ان کا علاج کیا گیا تھا۔

تاہم ایک مرتبہ پھر حال ہی میں انھیں دوبارہ جگر کی بیماری نے ہسپتال تک پہنچا دیا تھا۔ شدید علیل حالت میں انھیں لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں گزشتہ چند روز سے ان کی حالت بہت زیادہ خراب بتائی جا رہی تھی۔

شوکت علی کے تین بیٹے امیر شوکت علی، عمران شوکت علی اور محسن شوکت علی بھی گلوکار ہیں۔