مس یونیورس: تیسرے نمبر پر آنے والی انڈیا کی ایڈلن کیسٹیلینو نے کن مشکلات کا سامنا کیا؟

  • مدھو پال
  • بی بی سی ہندی کے لیے
ایڈلن کیسٹیلینو

،تصویر کا ذریعہADLINE CASTELINO

،تصویر کا کیپشن

ایڈلن کیسٹیلینو بنیادی طور پر جنوبی ریاست کرناٹک کی رہنے والی ہیں

مس یونیورس یعنی ملکہ کائنات کے 69 ویں بین الاقوامی مقابلے کی فاتح کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

مس یونیورس 2020 کا ٹائٹل میکسیکو کی اینڈریو میزا نے جیتا جبکہ مس انڈیا ایڈلن کیسٹیلینو ٹاپ فائیو میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔

اس مقابلے میں انڈیا کی ایڈلن کیسٹیلینو کو تیسری رنر اپ کا اعزاز ملا۔

ایڈلن کا کہنا ہے کہ مس یونیورس کا تاج حاصل کرنے کا ان کا خواب ادھورا رہ گیا لیکن وہ کہتی ہیں: ’میں بہت خوش ہوں اور مطمئن بھی ہوں کہ اتنی مشکلات کے بعد ہم 20 سال بعد کوئی مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایڈلن کیسٹیلینو نے بی بی سی ہندی سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا: 'مجھے بہت خوشی ہے کہ لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا اور عزت افزائی کی۔ مقابلہ حسن کے اس سفر میں مجھے لوگوں کا بہت تعاون حاصل رہا۔

’بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بہت سارے لوگ جو مجھ سے رابطے میں تھے وہ بذات خود بہت سی تکالیف کا سامنا کررہے تھے۔ کسی کو کورونا ہوا تھا تو کسی نے اپنے اقارب کو کھو دیا تھا۔ یہ میرے لیے بہت جذباتی سفر تھا اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنے دوستوں کی زندگی میں کچھ خوشی اور امید لا سکی۔‘

،تصویر کا ذریعہMISSDIVAORG

،تصویر کا کیپشن

ایڈلن کیسٹیلینو کا کہنا ہے کہ ان کا سفر بہت جذباتی رہا

مقابلہ حسن سے پہلے کورونا انفیکشن

مس یونیورس کا 69 واں بین الاقوامی مقابلہ فلوریڈا (امریکہ) میں ہوا اور پوری دنیا کے 74 ممالک کی فاتح خواتین نے اس میں حصہ لیا۔

ایڈلن نے بتایا کہ مجھے یہاں پہنچنے کے لیے بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ میں ذہنی طور پر بہت پریشان رہی کیونکہ مجھے مقابلے سے قبل کورونا ہو گیا تھا۔

’اس وجہ سے میں افسردہ تھی اور میں صرف دعا کر رہی تھی کہ میں جلد سے جلد صحت یاب ہو جاؤں۔ جیسے ہی میں صحت یاب ہوئی میں امریکہ کے لیے روانہ ہوگئی لیکن مجھے آرام کرنے کا وقت نہیں مل سکا اور اب بھی مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں مجھے وقت لگے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہMISSDIVAORG

بکینی راؤنڈ کی وجہ سے والد سے بات چھپائی

ایڈلن کیسٹیلینو نے مس ڈیوا یونیورس 2020 کا خطاب جیتا تھا لیکن مقابلہ حسن میں شرکت کی بات انھوں نے اپنے والد سے چھپائی تھی۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ایڈلن نے کہا کہ ’میرے والد کپڑوں کے بارے میں بہت سخت تھے۔ انھیں شاید یہ پسند نہیں آتا کہ مقابلہ حسن میں بکینی کا ایک مقابلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا مجھے یہ بات اپنے والد سے چھپانی پڑی۔ میں نے انھیں بتائے بغیر اس میں حصہ لیا۔ لیکن جب جیت گئیں تو انھیں بہت فخر محسوس ہوا تھا۔

’اب جب میں بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کر رہی ہوں تو وہ کبھی مجھے پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لیے نہیں کہتے۔ اب جب میں مایوس ہوتی ہوں تو وہ مجھے حوصلہ دیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہADLINE CASTELINO

کویت میں بہت کچھ دیکھا اور برداشت کیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی ایڈلن کویت میں پلی پڑھیں۔ وہ 15 سال کی عمر میں انڈیا واپس آگئیں۔

وہاں سے واپسی کے بارے میں ایڈلن نے بتایا: 'مجھے بہت سارے مواقع چاہیے تھے جو مجھے ممبئی میں نظر آرہے تھے۔ میں خود کفیل ہونا چاہتی تھی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی۔ میں اپنی ایک شناخت بنانا چاہتی تھی۔

'میں نے کویت میں بہت کچھ دیکھا۔ ہم نے وہاں بہت کچھ برداشت کیا۔ جب میں وہاں تھی تو میں نے دیکھا کہ خواتین کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ خواتین کو ایک طرح کے تشدد سے گزرنا پڑتا تھا۔ خواتین کی زندگی کا بھی مقصد ہونا چاہیے، میں نے یہ وہیں کے تجربے سے سیکھا۔'

بولنے میں پریشانی ہوتی تھی

ایڈلن کہتی ہیں کہ'میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں فیشن کی دنیا میں جاؤں گی۔ میں ممبئی ڈانس سیکھنے آئی تھی اور میری والدہ مجھے ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔ مجھے اپنے روم میٹ سے مقابلہ حسن کے بارے میں پتہ چلا تو مجھے احساس ہوا کہ میرا شوق و جنون کیا ہے۔

'میں تتلاہٹ کا شکار تھی جس کی وجہ سے مجھے بولنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے میں نے سخت محنت کی اور دوسروں سے بات کرتے ہوئے جذبات کا اظہار کرنا سیکھا۔ آج میں پر اعتماد ہوں۔'

،تصویر کا ذریعہADLINE CASTELINO

کسانوں کی جدوجہد سے واقف ہوں

ایڈلن کیسٹیلینو کسانوں کی روزی روٹی کے لیے کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم 'وکاس سہیوگ پرتشٹھان' کے ساتھ کام کرتی ہیں اور پی سی او ایس فری انڈیا مہم کا چہرہ بھی ہیں۔

ایڈلن کا کہنا ہے کہ وہ ایک کسان خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ 'میں نے کسانوں کی جدوجہد دیکھی ہے۔ میں نے اپنے لوگوں کو جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب میں نے پچھلے سال کے آغاز میں کسانوں کے بارے میں بات کی تھی تو مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ یہ معاملہ اتنا بڑھ جائے گا اور اتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

'اب کسانوں کے بارے میں لوگوں میں بہت زیادہ آگہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج وہ اپنے حق کے لیے کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ آواز اٹھانا سب سے اہم چیز ہے۔'

بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں

20 سال پہلے انڈیا سے مس یونیورس کے مقابلے میں تیسری رنر اپ سیلینا جیٹلی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMISSDIVAORG

سیلینا کی طرح بہت سی ماڈلز جنہوں نے مقابلہ حسن میں حصہ لیا سب نے بالی وڈ کا رخ کیا تو کیا ایڈلن بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہیں؟

اس کے جواب میں ایڈلن کا کہنا ہے کہ 'میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ میں انٹرٹینمنٹ سے لے کر بزنس انڈسٹری تک بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ میری پسندیدہ اداکارہ مادھوری دیکشت ہیں اور میں انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں اچھا کام کرنا چاہتی ہوں۔'

اس بار برازیل کی جولیا گاما مس کائنات کے مقابلے کی پہلی رنر اپ تھیں۔ جبکہ پیرو کی جنک میٹیٹا دوسرے نمبر پر رہی۔