مغل اعظم: اگر بات بن جاتی تو مدھو بالا انارکلی نہیں، شہناز ہوتیں

  • وندنا
  • بی بی سی ہندی
انارکلی کے کردار کے لیے اوڈیشن دیتیں شہناز

،تصویر کا ذریعہSophia Naz/K Asif

،تصویر کا کیپشن

انارکلی کے کردار کے لیے شہناز نے آڈیشن دیا تھا

پانچ اگست سنہ 1960 میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ کی سب سے کامیاب فلموں میں سے ایک 'مغل اعظم' میں انار کلی کا کردار مدھوبالا نے ادا کیا ہے لیکن اس کردار کے لیے فلم کے ہدایت کار کے آصف نے متعدد اداکاراؤں کا آڈیشن کیا تھا۔

ہندی فلموں میں عشق و محبت کے خوبصورت احساس کی بہترین عکاسی تلاش کرنی ہو تو فلم 'مغل اعظم' کا وہ منظر سامنے آتا ہے جب دنیا سے بے خبر سلیم اور انار کلی ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے ہیں۔ سلیم بہت ہی نزاکت سے ایک پنکھ سے انار کلی کے چہرے اور ہوٹنوں کو سہلاتے ہیں۔

یہ کلاسک رومانوی منظر آج بھی بہت سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔

بہر حال اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ انارکلی کے کردار کے لیے مدھوبالا سے پہلے کے آصف نے شہناز نام کی ایک خاتون کا انتخاب کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSophia Naz/K Asif

،تصویر کا کیپشن

شہناز خوبصورت تھیں اور ممبئی کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں

شہناز کی قسمت اگر ساتھ دیتی تو آج وہ مغل اعظم کی انارکلی ہوتیں۔ یہ کہانی اسی شہناز کی ہے جو بھوپال کے نواب خاندان میں پیدا ہوئیں اور کم عمری میں ایک نامور سیاسی خاندان میں شادی کے بعد ممبئی آ گئیں جہاں ان کی دوہری زندگی کا سفر شروع ہوا۔

شہناز کی دوہری زندگی

باہر کی دنیا کے لیے ان کی جو زندگی تھی اس میں گلیمر تھا اور جواہر لال نہرو اور دلیپ کمار جیسی مشہور ہستیوں کے ساتھ پارٹیاں عام بات تھی لیکن ان کی نجی زندگی ان کی بیٹی کے بقول ذلت سے بھری تھی اور شوہر کے ہاتھوں جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا شکار تھی۔

شہناز اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی بیٹی صوفیہ ناز نے اپنی کتاب 'شہناز اے ٹریجک ٹرو سٹوری آف رائلٹی، گلیمر اینڈ ہارٹ بریک' میں 'مغل اعظم' کے آڈیشن سے لے کر ان کی ذاتی زندگی کی کہانی بیان کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSophia Naz/K Asif

کے آصف کے سامنے آڈیشن

ممبئی آ کر شہناز نے شوقیہ طور پر تھیٹر میں کام کیا اور انھیں ایک ڈرامے میں انارکلی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

شہناز کی بیٹی صوفیہ بتاتی ہیں کہ ’کے آصف وہ ڈرامہ دیکھنے گئے تھے۔ کے آصف کو احساس ہوا کہ انھیں اپنی وہ انارکلی مل گئی ہے جس کی ان کو تلاش تھی یعنی خوبصورت چہرہ، سریلی آواز، دلنشین لب و لہجہ، اردو پر مہارات اور وہی سادگی اور غرور۔ کے آصف ماں کو فلم کے سیٹ پر لے گئے۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ 'ماں کے پاس ان کا ایک بھوپالی جوڑا تھا، خوبصورت زیورات بھی تھے۔ انھوں نے وہی سب پہن کر آڈیشن دیا۔ سکرین ٹیسٹ کے دوران کم ازکم 200 تصاویر اتاری گئیں، دلیپ کمار بھی سیٹ پر موجود تھے۔‘

لیکن یہ خوبصورت خواب یہیں ختم ہوگیا۔ شہناز کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ جب ان کے بھائی کو معلوم ہوا کہ وہ فلموں میں کام کرنے جا رہی ہیں تو انھوں نے کے آصف سے تصاویر لیں اور پھاڑ ڈالیں۔

،تصویر کا ذریعہSophia Naz/K Asif

،تصویر کا کیپشن

کے آصف نے دلیپ کمار کے ساتھ بھی شہناز کا آڈیشن لیا تھا

مغل اعظم کے لیے انارکلی کی تلاش

صوفیہ مزید بتاتی ہیں کہ ’ماں کے بھائی نے کہا کہ ہمارے پورے خاندان میں کسی نے آج تک ایسا کام نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہاں نوابوں کی دنیا اور کہاں فلمی دنیا۔ یہ کہہ کر انھوں نے کے آصف کو بھگا دیا۔‘

شہناز مغل اعظم میں ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کرنے جا رہی تھیں جو شہنشاہ اکبر کو چلینج کرتی تھی لیکن اصل زندگی میں وہ اپنے گھر کے مردوں کے فرمانوں اور ظلموں کو سہتے سہتے مر گئیں۔

خیر انارکلی کی تلاش یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کے آصف نے سنیما کی دنیا کے عظیم شاہکار 'مغل اعظم' کے لیے انارکلی کی تلاش میں برسوں لگا دیے۔

کے آصف کو مغل اعظم فلم بنانے کا خیال سنہ 1944 میں ڈرامہ نویس امتیاز علی تاج کا ڈرامہ انارکلی پڑھنے کے بعد آیا تھا۔ اور یہ خیال کب جنون میں بدل گیا خود کے آصف کو بھی اس کا اندازہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter@NFAIOfficial

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1935 میں انارکلی نام کی فلم بنی تھی جس میں اداکارہ سلوچنا نے انارکلی کا کردار ادا کیا تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تقسیم ہند اور مغل اعظم تاخیر کا شکار

12 اگست 1945 کو بامبے ٹاکیز میں فلم کا مہورت ہوا جس میں اس وقت کی ابھرتی ہوئی اداکارہ نرگس انارکلی کا کردار ادا کر رہی تھی۔ اس دن کی متعدد تصاویر اب بھی موجود ہیں۔

فلم کی شوٹنگ اپنی رفتار سے چلی لیکن پھر ملک کا بٹوراہ ہوگیا۔ حالات بہت نازک تھے اور فلم کے پرڈوسر نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ان کے اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہوا کہ کے آصف کو فلم روکنی پڑی۔ تقسیم ہند کے بعد بہت کچھ بدل گیا لیکن اس سے کے آصف کے انارکلی کی کہانی بتانے اور اسے بڑے پردے پر اتارنے کے جنون میں کوئی فرق نہیں آیا۔

سنہ 1951 میں دوبارہ فلم کی شوٹنگ شروع ہوئی۔ اس وقت تک فلم کی کہانی کافی تبدیل ہو چکی تھی۔ اس سے متعلق متعدد قصے اور کہانیاں سننے کو ملتی ہیں لیکن ایک بڑی تبدیلی یہ تھی کہ نرگس اب انارکلی نہیں بننا چاہتی تھیں۔

نرگس کے بعد متعدد اداکاراؤں کے آڈیشن کیے گئے لیکن کسی میں بھی کے آصف کو اپنی انارکلی نظر نہیں آئی۔ پھر انھوں نے ساری اداکاراؤں میں سے نوتن کو انارکلی کے لیے متنخب کیا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter@NFAIOfficial

،تصویر کا کیپشن

مغلم اعظم میں انارکلی کا کردار ادار کرنے میں مدھو بالا کو نہ صرف ان کی خوبصورتی بلکہ ان کی اداکاری کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے

اخبارات میں اشہتارات

فلم کریٹک راج کمار کیسوانی اپنی کتاب 'داستان مغل اعظم' میں لکھتے ہیں کہ ’نوتن کے ساتھ ساری بات چیت طے ہو گئی تھی لیکن اچانک نوتن نے منع کر دیا۔ ہرممکن کوشش کے بعد بھی نوتن نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ’حالات یہ ہوگئے کہ کے آصف نے انارکلی کی تلاش میں ملک بھر کے اخباروں میں اشہارات شائع کروائے اور نئی اداکاراؤں کو انارکلی کے کردار کے لیے آڈیشن دینے کے لیے مدعو کیا۔‘

راجکمار کیسوانی نے اپنی کتاب کے لیے ایک طویل مدتی تحقیق کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’نوتن اپنے فیصلے پر قائم رہیں اور انھوں صلاح دی کی کہ نرگس سے بہتر انارکلی کا کردار مدھو بالا ادا کریں گی۔'

کے آصف کے ذہن میں انارکلی کا بس ایک خیالی چہرہ تھا جو مدھو بالا سے مشابہت رکھتا تھا۔ مدھو بالا میں انھیں انارکلی کا عکس دکھائی دیتا تھا لیکن ایک اور فلم میں کام کرتے ہوئے ان کے مدھو بالا کے والد کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ خاموش رہے۔

انارکلی کی داستان

بہت عرصے پہلے کے آصف نے مادھوری نامی میگزین کو دیے ایک انٹریو میں کہا تھا کہ ’مدھوبالا مجھ سے ملنے آئیں اور کہنے لگیں کہ مجھے مغل اعلظم میں کام کرنا ہے۔ والد صاحب کی جو شرائط ہیں وہ قبول کر لیجیے۔ اس فلم میں کام تو مجھے کرنا ہے۔ وہ شرائط آپ پر لاگو نہیں ہوں گی۔‘

اس طرح شہناز، نرگس اور نوتن کے بعد مدھوبالا انارکلی بنیں اور اس کے بعد ان کا کردار امر ہوگیا۔

بےحد بیمار ہونے کے باوجود جس خوبصورتی سے مدھو بالا نے خود کو انارکلی کے کردار میں ڈھالا اس کے قصے آج بھی مشہور ہیں۔ ویسے مدھو بالا فلمی پردے کی پہلی انارکلی نہیں تھیں۔

سنہ 1922 میں پیش کیے جانے والے ایک سٹیج ڈرامے کے بعد 1928 میں 'دا لورز آف اے مغل پرنس' نامی ایک فلم ریلیز ہوئی تھی جس میں انار کلی کا کردار اداکارہ سیتا دیوی نے ادا کیا تھا۔ یہ ایک خاموش فلم تھی اور بڑے پردے پر انارکلی کے سفر کی شروعات تھی۔

،تصویر کا ذریعہMadhur bhushan

،تصویر کا کیپشن

مدھو بالا بہت کم عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں

کے آصف کی بے پناہ محبت

1928 میں ہدایت کار آردشیر ایرانی نے انارکلی نام کی فلم بنائی تھی جس میں ادارکاہ سلوچنا نے انارکلی کا کردار ادا کیا تھا۔ سلوچنا روبی مئیرز کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔

سلوچنا کا تعلق بغداد کے یہودی خاندان سے تھا اور اس دور کی نمبر ون اداکارہ تھیں جنھیں بعد میں دادا صاحب پھالکے اعزاز سے نوازہ گیا۔

مسٹر ایرانی نے اپنی اس خاموش فلم کو 1935 میں گویا یعنی ٹاکی فلم کے طور پر ریلیز کیا۔ لیکن 40 کی دہائی میں کے آصف کو انارکلی کے کردار سے جو محبت ہوئی اس نے جنون کی شکل اختیار کر لی۔

کے آصف کو اپنی انار کلی میں حسن، ہمت، غرور، نفاست، آداب و انداز، بہترین لب وہ لہجہ اور ادائیں چاہيے تھیں جو انھیں آخر کار مدھوبالا میں ملیں۔

شہناز اور ان کی کہانی گمنام ہی رہی

ایک وقت تھا جب کے آصف شہناز کو اپنی انارکلی بنانا چاہتے تھے لیکن شہناز کی اصل زندگی اور ان کی کہانی گمنام رہی۔ ان کی کہانی اس وقت منظر عام پر آئی جب ان کی بیٹی نے اسے کتاب کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔

شہناز کی بیٹی کہتی ہیں ’میں اپنی ماں سے کہنا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کی اس گھٹن کو دور کر دیا ہے جسے آپ نے پوری زندگی برداشت کیا۔ میں نے آپ کی ادھوری کہانی دنیا کو بتا دی ہے۔‘