کشمیر سے بالی وڈ کا رومانس، جس نے کئی فلموں اور گیتوں کو امر کر دیا

  • وندنا
  • ٹی وی ایڈیٹر، بی بی سی انڈیا
کشمیر، بالی وڈ

،تصویر کا ذریعہSHAKTI FILMS

کشمیر کی خوبصورت وادیوں کے بیچ گلمرگ میں ایک ہوٹل کا کمرہ ہے جسے دیکھنے آج بھی لوگ آتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو وہاں رات بھی گزارتے ہیں۔

یہ کمرہ ’بوبی ہٹ‘ کے نام سے مشہور ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ کی پہلی فلم ’بوبی‘ کے کچھ حصے اسی کمرے میں سنہ 1973 میں شوٹ کیے گئے تھے، خاص طور پر گانا ’ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے۔‘

اپنی موت سے قبل رشی کپور پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے دوبارہ یہاں آئے اور تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

یہ کشمیر اور بالی وڈ کے باہمی تعلقات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، ایک ایسا رشتہ جو کم از کم 1949 سے چلا آ رہا ہے، جب راج کپور نے اپنی فلم ’برسات‘ کے کچھ حصے کشمیر میں شوٹ کیے تھے۔

کشمیر اور بالی وڈ کے تعلقات نے فلمی پردے پر بہت سی محبت کی کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ ان گانوں کے خوبصورت بول اور رومانس کے جادوئی مناظر بھی لوگ دیکھ چکے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

رشی کپور

رشی کپور نے بتایا تھا کہ ان کے والد راج کپور کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ پورے یونٹ کو لے کر کشمیر میں شوٹنگ کر سکیں۔

’برسات‘ بطور ہدایت کار ان کی دوسری فلم تھی۔ پھر وہ صرف اپنے کیمرا مین کو ساتھ لے گئے اور کشمیر میں کچھ آؤٹ ڈور سین شوٹ کیا۔ فلم برسات 1949 میں ریلیز ہوئی تھی۔

شمی کپور، راجیش کھنہ، امیتابھ بچن اور سنی دیول سے لے کر آج کے نوجوان اداکار رنبیر، عالیہ اور ریتک روشن سبھی نے وہاں شوٹنگ کی ہے۔

شمی کپور نے کشمیر میں اتنی فلمیں شوٹ کی ہیں کہ انھیں ایک طرح سے کشمیر کا سفیر سمجھا جاتا تھا اور 60 کی دہائی میں وہ کشمیر میں بہت مشہور تھے اور ان کی فلمیں ہاؤس فُل ہوا کرتی تھیں۔

آج بھی کشمیر جانے پر آپ کو ان کی نسل کے لوگ ملیں گے جو کہتے ہیں کہ شمی کپور شکارہ پر رہتے تھے۔

ڈل جھیل، شکارہ، کشمیر کے برفیلے میدان، شمی کپور اور محمد رفیع نے شمیر سے لوگوں کو بہت سے دل چھو لینے والے گانوں جیسے ’دیوانہ ہوا بادل' یا ’تعریف کروں کیا اس کی‘ سے آشنا کرایا۔

کشمیر کے ساتھ ان کے تعلقات کو یوں سمجھ لیں کہ شمی کپور کی موت کے بعد ان کے خاندان نے ان کی راکھ کو ڈل جھیل میں بہایا۔

’دیکھا ایک خواب‘ جیسے معروف گانے

60 کی دہائی کی کئی ہٹ فلمیں جیسے جنگلی، جانور، کشمیر کی کلی، جب جب پھول کھلے اور آرزو کشمیر میں شوٹ ہوئیں۔

یہ رجحان 70 اور 80 کی دہائی میں بھی نہیں رکا۔ آپ کو ’سلسلہ‘ کا وہ گانا یاد ہوگا کہ ’دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے، دور تک نگاہ میں ہیں گُل کھلے ہوئے۔۔۔‘ یہ گانا امیتابھ اور ریکھا پر فلمایا گیا تھا۔

فلم ’آپ کی قسم‘ کا گانا ’جے جے شیو شنکر‘ بھی گلمرگ کے شیو مندر کے قریب شوٹ کیا گیا تھا جہاں سپر سٹار راجیش کھنہ اور ممتاز محبت میں گرفتار نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشن

گلمرگ شیو مندر

کشمیر میں تشدد کے دور نے اس مندر کی حالت خراب کر دی۔ پچھلے سال ہی مقامی لوگوں، کشمیر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور فوج کی مدد سے اسے صحیح حال میں بحال کیا گیا۔ اب سیاح بھی یہاں عبادت کے لیے آتے ہیں۔ یہ مندر سنہ 1915 میں مہاراج ہری سنگھ کی بیوی مہارانی موہنی بائی سسودیا نے بنوایا تھا۔

سوئٹزرلینڈ جیسے خوبصورت غیر ملکی مقام پر منتقل ہونے سے پہلے کشمیر یش چوپڑا کے لیے پسندیدہ مقام تھا۔ ’سلسلہ‘ سے پہلے یہاں یش چوپڑا کی فلم ’کبھی کبھی‘ کی شوٹنگ بھی ہوئی تھی۔

کرن جوہر کے ساتھ ایک انٹرویو میں یش چوپڑا نے بتایا تھا کہ ’کبھی کبھی کی شوٹنگ ایک پکنک کی طرح ہوتی تھی۔ ہر طرف محبت کے رنگ تھے۔ رشی کپور اور نیتو سنگھ ایک ساتھ شوٹنگ کر رہے تھے اور دونوں محبت میں تھے۔‘

’تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوا تو نہیں‘

فلم ’آندھی‘ کے گانوں میں بھی کشمیر کی جھلک ملتی ہے۔ جب سنجیو کمار اور سچترا سین 12 سال کی طویل علیحدگی کے بعد ملے، زندگی اور اپنے آپ سے شکایت کرتے ہوئے، وہ گاتے ہیں کہ ’تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوا تو نہیں۔‘

گانا ’تم آ گئے‘ سرینگر کے پری محل کے قریب شوٹ کیا گیا تھا۔ ’اس موڈ سے جاتے ہیں‘ میں نظر آنے والے ’سست قدم رستے‘ پہلگام کا راستہ ہے۔

آنند بخشی نے بھی کشمیر کی تعریف میں یہ گانا لکھا تھا۔ سونمرگ میں فلم ’بے مثال‘ کے لیے امیتابھ بچن، راکھی اور ونود مہرا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس گانے کے بول کشمیر کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں: ’کتنی خوبصورت یہ تصویر ہے، موسم بے مثال، بے نظیر ہے۔ یہ کشمیر ہے، یہ کشمیر ہے۔‘

فلم بیتاب کے نام پر بیتاب ویلی

کشمیر کے کچھ مقام شوٹنگ کے بعد اتنے مشہور ہوئے کہ وہ اس فلم سے ہی پہچانے جانے لگے۔ ’بوبی ہٹ‘ کی طرح ’بیتاب ویلی‘ اس کی ایک مثال ہے جو پہلگام اور چندن واڑی کے درمیان آتی ہے۔

سنی دیول اور امریتا سنگھ کی فلم ’بیتاب‘ کی شوٹنگ کشمیر میں ہوئی تھی اور تب سے اس جگہ کا نام بدل کر ’بیتاب ویلی‘ رکھ دیا گیا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بعد میں رنبیر کپور اور امتیاز علی نے بھی یہاں فلم ’راک سٹار‘ کے کچھ حصوں کی شوٹنگ کی۔

کشمیر انڈین فلموں کے لیے بہت خوش قسمت تھا، حالانکہ کشمیری فلم انڈسٹری کبھی ترقی نہ کر پائی۔ پھر بھی کشمیر کے مقامی لوگ ان فلموں کی شوٹنگ کو بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔

محمد امین اننت ناگ میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں پہلگام میں تھا، میں نے بالی وڈ کی بہت سی فلموں کی شوٹنگ دیکھی۔ مجھے یاد ہے ریکھا اور جیتندر آئے تھے۔ ہم نے بہت مزہ کیا تھا۔‘

’وہ یادیں ابھی بھی تازہ ہیں۔ کتنا خوشگوار موسم تھا۔ برفباری ہو رہی تھی۔ لوگ فلم کی شوٹنگ دیکھنے سری نگر سے اننت ناگ آتے تھے اور خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔ سیاحت بھی اچھی ہوا کرتی تھی۔ اب بس یادیں رہ گئی ہیں۔‘

ان دنوں فلموں کے ذریعے کشمیر کی ایک بہت ہی رومانوی تصویر لوگوں کے ذہنوں میں بنائی گئی تھی۔

اپنے بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہوئے اداکارہ دیپتی نیول نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فلموں اور کشمیر کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کشمیر میں ہی رہیں گی۔

12-13 سال کی عمر میں، وہ اکیلی ٹرین لے کر کشمیر گئیں اور گھر سے فرار ہو گئیں لیکن پٹھان کوٹ کے قریب پکڑی گئیں اور انھیں گھر لوٹنا پڑا۔

1985 میں ودھو ونود چوپڑا کی ’خاموش‘ کشمیر میں شوٹنگ کی جانے والی آخری فلموں میں سے ایک تھی۔ یہ ایک سسپنس تھریلر تھی۔

لیکن تشدد کا جو دور 90 کی دہائی میں شروع ہوا، ایک طویل عرصے تک کشمیر میں ویرانی چھائی رہی۔ کبھی عام لوگوں کی، کبھی سیاحوں اور کبھی فوجیوں کی موت کی خبریں سرخیوں میں آتی رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUTV MOTION PICTURES

،تصویر کا کیپشن

فلم حیدر میں شاہد کپور نے مرکزی کردار ادا کیا

جب کشمیر خود فلموں کا کردار بن گیا

یہاں سال 2000 کے بعد کچھ فلموں کی شوٹنگ ہوئی جیسے ’مشن کشمیر‘، ’حیدر‘ اور ’کشمیر فائلز‘۔

لیکن کشمیر جو کبھی رومانس اور خوبصورتی کا مظاہرہ کرتا تھا، فلموں میں ایسا کردار بن گیا جہاں درد، لاشیں اور مشکلات ہیں۔

سنہ 2000 میں ’مشن کشمیر‘ میں ایک ایسے بچے کے سانحات کو دکھایا گیا جس کا خاندان پولیس فائرنگ میں مارا جاتا ہے۔

2010 میں سامنے آنے والی ’انشا اللہ، فٹبال‘ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جسے حکومت کی جانب سے ویزا نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ ایک سابق شدت پسند کا بیٹا ہے۔

2014 میں فلم ’حیدر‘ میں وشال بھردواج نے کشمیر کی سیاسی صورتحال اور باہمی تعلقات کی کئی پیچیدہ تہوں کو دکھایا جس نے گہرے نقوش چھوڑے۔ اس میں کشمیری لڑکے حیدر (شاہد کپور) کی تڑپ بھی نظر آتی ہے۔

1975 میں مارٹنڈ سورج مندر کے باہر جہاں فلم ’آندھی‘ کے دو محبت کرنے والے اپنے ماضی کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور برسوں بعد بھی ان کی محبت زندہ ہے، اسی مندر کے باہر کا ماحول اتنا بدل گیا کہ تقریباً 40 سال بعد فلم حیدر میں اسی مندر کے باہر جب شاہد ’بسمل‘ گاتے ہیں تو فضا میں خوف اور اداسی چھا جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہUTV MOTION PICTURE

کشمیر بتا کر منالی اور پولینڈ میں شوٹنگ

اس دوران سکرین پر ’کشمیر‘ دکھایا گیا لیکن وہ کشمیر نہیں تھا۔ کیونکہ حالات کی وجہ سے شوٹنگ کہیں اور ہوئی تھی۔

جیسے فلم ’حنا‘ میں کشمیر ضرور نظر آتا ہے لیکن اصل شوٹ منالی میں ہوئی کیونکہ اس وقت کشمیر میں شوٹنگ ممکن نہیں تھی۔ فلم ’فنا‘ میں نظر آنے والی برف دراصل پولینڈ کی ہے جبکہ اس جگہ کو کشمیر بتایا گیا ہے۔ فلم ’روجا‘ میں کشمیری وادیاں دراصل منالی ہیں۔

لیکن پچھلے کچھ برسوں میں بالی وڈ نے کشمیر میں واپسی شروع کر دی ہے۔

فلم ’سٹوڈنٹ آف دی ایئر کے گانے ’عشق والا لو‘ میں کشمیر کی خوبصورتی کو دکھایا گیا ہے۔ فلم ہائی وے میں نظر آنے والی بہت ہی خوبصورت وادی آرو ہے۔

رومانس کے بادشاہ یعنی شاہ رخ خان کو ’جب تک ہے جان‘ میں پہلی بار یش چوپڑا کشمیر لائے تھے جہاں اس گانے کی شوٹنگ ڈل جھیل پر کی گئی۔

ایک اہم سین نشاط گارڈن میں فلمایا گیا۔ یہ ایک چھت والا باغ ہے جو ڈل جھیل کے مشرقی جانب بنایا گیا جسے کشمیر کا دوسرا بڑا باغ سمجھا جاتا ہے۔

سلمان خان بھی ’بجرنگی بھائی جان‘ کے ذریعے کشمیر پہنچے اور سونمرگ میں شوٹنگ کی۔ 2018 میں 35 سال بعد ایسا ہوا کہ سرینگر کے ہوائی اڈے پر شوٹنگ ہوئی جب ویب سیریز ’دی فیملی مین‘ کی ٹیم نے وہاں شوٹنگ کی۔

،تصویر کا ذریعہMASROOR ASHRAF

کشمیر کے سنیما ہال ویران

1999 میں تقریباً دس سال بعد ریگل سنیما ہال میں ’پیار کوئی کھیل نہیں‘ نامی فلم دکھا کر اسے دوبارہ کھولنے کی کوشش کی گئی لیکن ایک دستی بم حملہ ہوا اور ایک شخص ہلاک اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔

کشمیر اسی زخم کے ساتھ چل رہا ہے۔ سری نگر کے سنیما یا تو ٹوٹے ہوئے ہیں یا مکمل منہدم ہوگئے ہیں۔

نہ جانے کتنے سنیما گھر کشمیر میں تباہی دیکھ چکے ہیں۔ کچھ تھیٹرز کو سکیورٹی فورسز نے عارضی کیمپوں اور بنکروں کے لیے استعمال کیا ہے لیکن ان تھیٹروں نے وہ سنہرا دور بھی دیکھا ہے جب لوگ سنیما کا شوق رکھتے تھے اور فلموں کی تعریف کرتے تھے۔ کشمیر کے سیاحتی مقامات پر اداکار ناچتے نظر آتے تھے۔

کشمیر پر بننے والی اور کشمیر میں ہی شوٹ ہونے والی فلم ’حیدر‘ آئی تو کشمیر میں ہی ریلیز نہ ہو سکی۔ بہت سے لوگوں نے دوسرے شہروں میں جا کر یہ فلم دیکھی۔

کشمیر کی ایک پوری نسل ہے جس نے کبھی سنیما ہال میں قدم بھی نہیں رکھا۔ یہ وہی کشمیر ہے جو سنیما کے لیے جنت رہا ہے۔