’الکیمسٹ‘ کا پشتو ترجمہ منظرِعام پر

Image caption ناول کا ترجمہ خالص افغانی لہجے میں کیا گیا ہے

پشتو زبان کا شمار دنیا کے قدیم ترین زبانوں میں ہوتا ہے۔ تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی اس زبان کے پہلے شاعر امیر کروڑ پہلوان کو سمجھاجاتا ہے جنہوں نے ساتویں صدی میں پشتو کی پہلی تحریری نظم لکھی۔ تاہم بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ امیر کروڑ کی شاعری میں پختگی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان سے پہلے بھی پشتو کے شعراء موجود تھے۔

پشتو ادب میں دوسری زبانوں کی کتابوں کے ترجمے کرنے کی روایت مشہور شاعر اور سپہ سالار خوشحال خٹک کے دور میں شروع ہوئی۔ سب سے پہلے خوشحال خان خٹک ہی نے فارسی کے شاعر شیرازی کے شعری مجموعوں کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا۔

اگرچہ پشتو شعر و ادب پر مذہبی رحجان ہمیشہ سے غالب رہا ہے تاہم بیسویں صدی میں پہلی بار پشتو اکیڈیمی کابل یونیورسٹی نے مختلف زبانوں سے انقلابی ادب کا پشتو زبان میں ترجمے کا سلسلہ شروع کیا جس سے پشتو ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔ ساٹھ اور ستر کے دہائیوں میں بھی کئی روسی اور اٹالین ترقی پسند اور انقلابی مصنفین کی کتابوں کے ترجمے کئے گئے جو آج بھی پشتو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

اسّی کے دہائی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو ایک بار پھر پشتو ادب نے مذہبی اور جہادی رنگ اختیار کیا تاہم اس دوران انگریری ادب سے پشتو زبان میں مشہور ناولوں کی ترجموں کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا جس کا کریڈیٹ نوجوان نسل کے شعراء اور ترقی پسند لکھاریوں کو جاتا ہے۔

انہی افراد می نوجوان شاعر اور صحافی راشد خٹک کا نام بھی آتا ہے جنہوں نے حال ہی میں مشہور ناول ’الکیمسٹ‘ کا پشتو زبان میں ’ کیمیا گر‘ کے نام سے ترجمہ کر کے شائع کیا ہے۔ ’الکیمسٹ‘ برازیلی ناول نگار پاولو کویلہو نے سن انیس سو اٹھاسی میں تحریر کیا تھا اور اب تک سڑسٹھ زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ تقریباً ایک سو پچاس ممالک میں پڑھی جانے والی اس کتاب کی اب تک ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔

ناول کا ترجمہ خالص افغانی لہجے میں بڑے آسان اور سہل انداز سے کیا گیا ہے تاکہ اس سے افغانستان میں رہنے والے پشتون بھی مستفید ہو سکیں۔ اس ناول میں سنٹیاگو نامی ایک غریب نوجوان لڑکے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنے ایک خواب کی تعبیر کےلیے مصمم ارادہ کرتا ہے اور کئی قسم کے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہارتا اور بالاآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

راشد خٹک کے مطابق انہوں نے اس ناول کا ترجمہ پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے پشتونوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے ایک خاص مقصد کے تحت کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کہانی میں سنٹیاگو کئی قسم کے مشکلات سے دوچار ہوتا ہے عین اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے پشتون بھی خانہ جنگی کی صورتحال سےگزر رہے ہیں اور شدت پسندی اور دہشتگردی نے ان کے تمام ادارے تباہ کر دیے ہیں۔

ان کے بقول اگر پشتون بھی موجود حالات سے نکلنے کے لیے پختہ ارادہ کر لیں تو جس طرح کہانی میں تمام قوتوں نے سنٹیاگو کا ساتھ دیا اس طرح وہ بھی ان مشکلات سے نکل سکتے ہیں تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی حالت بدلنے کےلیے سنجیدہ ہوں۔

اس سے پہلے راشد خٹک افغان ناول نگار سعدالدین شپون کے پشتو ناول کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’ٹیلز آف اٹلی‘ کے نام سے میکسم گورکی اور افغان مصنف عبدلوکیل سلولمل شنواری کے مختصر کہانیوں کے ترجمے پشتو، اردو اور انگریزی میں کیے ہیں۔