نصیبو لال کے گانوں پر پابندی

نصیبو لال
Image caption نصیبو لال پنجابی فلموں میں گانوں کی وجہ سے مشہور ہوئیں

لاہور ہائی کورٹ نے پنجابی کی معروف گلو کارہ نصیبو لال اور ان کی بہن نورو لال کے اکتالیس گائے ہوئے گانوں کےرکیسٹ بازار میں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ایڈوکیٹ آصف محمود خان نے لاہور ہائی کورٹ میں نصیبو لال کے اکتالیس گانوں کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے درخواست دی کہ نصیبو لال کے گانے فحش ہیں اور ان کے گانوں سے نوجوان نسل کا اخلاق متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ایڈوکیٹ آصف محمود خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جسٹس اعجاز چوہدری نے ایڈوکیٹ آصف محمود کی اس درخواست پر پیر کے روز نصیبو لال اور ان کی بہن نورو لال کے گائے ہوئے گانوں کو مقدمے کا فیصلہ آنے تک نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت کا فیصلہ آنے تک یہ دونوں بہنیں گانوں کی نئی کیسٹ بازار میں نہیں لا سکتیں۔

عدالت نے 25 مئی کو اٹارنی جرنل پاکستان، چئرمین سنسر بورڈ اور دونوں گلوکاراؤں نصیبو لال اور نورو لال کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ نصیبو لال ایک عشرے سے زیادہ وقت سے پاکستانی فلموں میں گانے گا رہی ہیں اور وہ عوامی سطح پر کافی مقبول ہیں اور ان کے گانے پسند بھی کیے جاتے ہیں لیکن دوسری جانب معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کی جانب سے ان کے گانوں پر اعتراض بھی کیا جاتا ہے۔

میڈم نور جہان نے جب بیماری کے دور میں جب وہ گا نہیں سکتی تھیں نصیبو لال کا گانا سرور نامی ایک پروڈیوسر نےسنا اور وہ انہیں موسیقار الطاف عرف طافو کے پاس لے گئے جنہوں نے انہیں فلم انڈسٹری میں روشناس کرایا۔

نصیبو لال کے جن گانوں کو مبینہ طور پر فحش قرار دیا جاتا ہے ان میں زیادہ تر نغمہ نگار الطاف باجوہ کے لکھے ہوئے گانے ہیں اور ان کی موسیقی موسیقار طافو دیتے ہیں۔ نصیبو لال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گڑوی بجا کر گلیوں محلوں میں گانے گایا کرتیں تھیں۔

اسی بارے میں