تیرا کیا ہوگا ریڈیو پاکستان؟

Image caption ریڈیو ایک پبلک سروس کا ادارہ ہے، اسکا بنیادی کام کاروباری نہیں بلکہ فلاحی نوعیت کا ہے

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور کی نشریات میڈیم ویو کی630 کلو ہرٹز والی فریکوئنسی پر جاری رکھنے کےلیے کچھ عارضی انتظامات ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے اُن کے متعدد بیانات اور میڈیا انٹرویوز میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ میڈیم ویو پر ریڈیو پاکستان کی نشریات کو جاری رکھنا اب ناممکن ہو تا جا رہا ہے، چنانچہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان نے اپنی نشریات ایف ایم 93 پر منتقل کر دی ہیں۔ یہ وضاحت ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جِسے کسی طرح بھی جھُٹلانا ممکن نہیں ہے کیونکہ شارٹ ویو اور میڈیم ویو کی نشریات اب ساری دنیا میں قصّہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں اور بی بی سی جیسا جیّد ادارہ جو ستر برس سے جنوبی ایشیا کے لیے شارٹ ویو اور میڈیم ویو پر اپنے صوتی سِگنل بھیج رہا تھا، اب اپنی نشریات کو بتدریج ایف ایم پر منتقل کر رہا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کےلیے یہ بتا دینا بے جا نہ ہوگا کہ شارٹ ویو لہریں ٹرانسمٹر سے نکلنے کے بعد سیدھی اپنے نشانے کی طرف روانہ نہیں ہوتیں بلکہ اِن کا رخ آسمان کی طرف ہوتا ہے جہاں آئنوسفِئر سے ٹکرا کر یہ اُسی زاویے پر زمین کی طرف لوٹتی ہیں اور اسطرح ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتی ہیں، جبکہ میڈیم ویو کی لہریں سیدھی اپنے نشانے کی طرف جاتی ہیں لیکن یہ ہزاروں میل کا فاصلہ طے نہیں کر سکتیں، بلکہ اِن کی مار صرف سینکڑوں میل تک ہوتی ہے۔ تاہم شارٹ ویو لہروں میں بہت اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، ان میں کائناتی شور بھی شامل ہوتا ہے اور سورج کی تمازت کا بھی اِن پر منفی اثر پڑتا ہے جبکہ میڈیم ویو کی لہریں آواز کو نسبتاً صاف ستھرے طریقے سے منزلِ مقصود تک لے جاتی ہیں۔

لیکن ایف ایم لہریں اِن دونوں کی نسبتاً بہت زیادہ "صاف ستھری" ہوتی ہیں۔ اسی لیے شارٹ ویو کو موسیقی کے لیے زہرِ قاتل سمجھا جاتا ہے جبکہ ایف ایم نشریات میوزک کےلیے آئیڈیل سمجھی جاتی ہیں کیونکہ اِن لہروں کے ذریعے آواز کا باریک سے باریک اتار چڑھاؤ بھی واضح طور پر منتقل ہوجاتا ہے۔

پشاور اور لاہور کے ریڈیو سٹیشن قیامِ پاکستان سے دس برس پہلے کام شروع کر چُکے تھے۔ برطانوی ھند میں افغان سرحد کے قریب واقع پشاور کا شہر انگریزوں کےلیے بڑی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس راستے روسی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا خوف انگریز حکومت کےلیے سوہانِ روح بنا رہتا تھا۔

شہر کراچی کی اہمیت البتہ قیامِ پاکستان کے بعد بڑھی کیونکہ یہ ساحلی شہر اب نئی مملکت کا دارالحکومت بن چُکا تھا۔ تاہم 1948 میں جو میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کراچی میں نصب کیا گیا وہ اب باسٹھ برس پرانا ہوگیا ہے اور اُس میں نصب پُرزے اب صرف سائنس میوزیم ہی میں دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ دنیا کی کوئی کمپنی اب وہ آلات تیار نہیں کرتی جن پرگذشتہ صدی کے نصف اول میں اِن نشریات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

پاکستان میں اس وقت 29 میڈیم ویو ٹرانسمیٹر نصب ہیں اور اِن سفید ہاتھیوں کو پالنے پر حکومت کو زرِ کثیر صرف کرنا پڑتا ہے جبکہ اِن کی کارکردگی تیزی سے صفر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایک میڈیم ویو ٹرانسمیٹر، ایف ایم ٹرانسمیٹر کی نسبت دس گنا مہنگا ہوتا ہے اور بدلتی ہوئی ٹکنالوجی کے زمانے میں میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کی عیاشی حکومت کے مالی ذرائع پر ایک ناروا بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اِن کے حق میں صرف ایک دلیل دی جاتی ہے کہ یہ سینکڑوں میل دور تک آواز پہنچا سکتے ہیں جبکہ ایف ایم ٹرانسمیٹر کی مار پچیس میل سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ملکوں میں ایف ایم ٹکنالوجی سے کام لیا جا رہا ہے وہاں ایف ایم سٹیشنوں کا ایک ایسا جال پھیلا دیا گیا ہے کہ کوئی علاقہ بھی نشریاتی لہروں کی حدود سے باہر نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی جب ایف ایم ٹکنالوجی کو پورے طور پر اپنا لیا جائے گا تو کوئی علاقہ بھی نشریات سے محروم نہیں رہے گا۔

حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ گذشتہ برس پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت مظفرآباد، ملتان اور حیدر آباد کے ٹرانسمیٹر تبدیل کرنے نیز چمن، پارا چنار اور گوادر میں نئے میڈیم ویو ریڈیو سٹیشن شروع کرنے کے لیے فنڈ مختص کئے گئے لیکن یہ احکامات کاغذی کاروائی تک ہی محدود رہے اور ریڈیو پاکستان کو ایک پیسہ بھی جاری نہ ہو سکا۔

Image caption ریڈیو پاکستان ملتان کی نئی عمارت پُر شکوہ ہے لیکن میڈیم ویو ٹرانسمیٹر دم توڑ چُکا ہے

کچھ عرصہ پہلے تک ریڈیو پاکستان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ لائسنس فیس تھی جو کہ پوسٹ آفس کے ذریعے اکٹھی ہوتی تھی، لیکن نوازشریف کی دوسری حکومت کے زمانے میں لائسنس فیس ختم کردی گئی۔ صورتِ حال کا موازنہ اگر پاکستان ٹیلی ویژن سے کیا جائے تو وہاں لائسنس فیس کے ذریعے سالانہ ڈھائی ارب روپے کی خطیر رقم جمع ہوتی ہے جبکہ ریڈیو پاکستان ایک غریب کزن کی طرح منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ وہی ریڈیو پاکستان جو گلگت سے کراچی تک عوام کو ہر طرح کی معلومات اور تفریح بہم پہنچانے کےلیے باسٹھ برس سے سرگرمِ عمل ہے، جسکا سِگنل وہاں بھی پہنچتا رہا ہے جہاں ٹی وی کی رسائی نہیں اور جو ٹرانسسٹر ریڈیو کے ذریعے اُن دُور دراز دیہات میں بھی سنا جاتا ہے جہاں بجلی تک نہیں ہے۔

ریڈیو پاکستان ادب اور فن کی عظیم روایات کا امین ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل آل انڈیا ریڈیو سے جو لوگ وابستہ تھے، اور جن کی اکثریت بعد میں پاکستان منتقل ہوگئی اُن میں پطرس بخاری، ذوالفقار علی بخاری، سعادت حسن منٹو، ن م راشد، شوکت تھانوی، رفیع پیر زادہ، امتیاز علی تاج، غلام عباس اور میرزا ادیب جیسے مشاہیر شامل تھے۔

اسی طرح موسیقی اورگلوکاری میں نام پیدا کرنے والی ہر معروف شحصیت کسی نہ کسی حیثیت میں ریڈیو سے منسلک رہی تھی کیونکہ عوام تک آواز پہنچانے کا واحد ادارہ اُس وقت ریڈیو ہی تھا۔

کمرشل نشریاتی اداروں کے مقابل ریڈیو پاکستان کا کردار ایک پبلک سروس ادارے کا رہا ہے۔ یعنی ایسا ادارہ جو پیسہ کمانے کےلیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کےلیے کام کرتا ہے۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے نشریاتی منطر میں ریڈیو پاکستان کو زندہ رہنے کےلیے ہر طرف سے کمرشل نشریاتی اداروں کے حملوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ایف ایم کمرشل ریڈیو پاکستان کے شہروں کی زندگی کا ایک جزو لاینفک بن چکے ہیں جہاں مغربی انداز کے ’ڈی۔جے‘ اور ’آر۔جے‘ چوبیس گھنٹے رنگا رنگ تماشوں میں سامعین کو مشغول رکھتے ہیں۔ یہ میڈیا میں مسابقے کا ایک بے رحم دور ہے جس میں یا تو آپ آگے بڑھیں گے یا کُچلے جائیں گے۔ ریڈیو پاکستان کے پاس بھی کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔ اُسے اب شارٹ ویو اور میڈیم ویو کی دقیانوسی ٹکنالوجی کو خیر باد کہہ کر ایف ایم کی نئی دنیا میں کُود جانا پڑےگا، کہ اب بقاء کی واحد صورت یہی رہ گئی ہے۔

اسی بارے میں