قطرینہ کی تربیت اور تبو بنیں سیکس ورکر

پیس میکر کرن

کرن جوہر
Image caption کرن جوہر نے شاہد اور کرینہ کی دوستی کروا دی

دل کا عارضہ ہو تو ڈاکٹر پیس میکر لگا دیتے ہیں لیکن اگر بالی وڈ میں دل ٹوٹیں تو کرن جوہر ' پیس میکر ' کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اسی طرح کئی ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے لیکن ابھی حال ہی میں انہوں نے وہ کر دکھایا جو شاید کوئی نہیں کر پاتا چلیے اتنی لمبی چوڑی تمہید سے آپ یقیناَ بور ہو گئے ہوں گے تو بتا ہی دیتے ہیں کہ اس مرتبہ انہوں نے کرینہ کپور اور شاہد کپور میں دوستی کرا دی ہے نا دھماکہ دار خبر۔

کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے بنگلہ منت پر فلم ’مائی نیم از خان‘ کی کامیابی کو خوشی میں پارٹی کا انعقاد کیا جس میں ماضی کے گہرے دوست کرینہ اور شاہد بھی موجود تھے دونوں کا سامنا ہوا اور اس سے قبل کہ ایک بار پھر وہ دونوں منہ موڑ کر چلے جاتے کرن نے مداخلت کی اور دونوں کے درمیان دوستی کرادی۔ اسی پارٹی میں سیف بھی تھے۔ اوہو۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہو گا؟ اس سے پہلے کہ آپ چٹپٹی قیاس آرائیاں کریں ہم بتا دیں کہ وہ بھی کچھ دیر بعد وہاں پہنچے اور پھر تینوں نے بڑی دیر تک گپ شپ کی۔۔۔۔۔

روشن کی دو رخی پالیسی

Image caption رتیک روشن کی فلم سے متنازعہ سین نکال دیے گئے ہیں

پاپا راکیش اور بیٹے رتیک روشن کی فلم ’ کائٹس‘ ہندی اور انگریزی دو زبانوں میں بنی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فلم کےمناظر بھی ایک جیسے ہی ہوتے لیکن نہیں دونوں فلموں میں ’چند مناظر‘ علیحدہ ہیں بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ ہندی فلم میں رتیک اور باربرا موری کے بوس و کنار والے وہ مناظر ہالی وڈ ایڈیٹر بریٹ رٹنر کے کہنے پر نکال دیے گئے جس کے بالی وڈ میں بڑے چرچے تھے۔ ارے بھئی اسی منظر کے بعد تو رتیک اور باربرا کے عشق کی داستانیں گلیاروں میں سنی جا رہی تھیں۔ خیر اب راکیش کہتے ہیں کہ وہ سین اس لیے کاٹ دیا گیا کہ وہ فلمیں ہمیشہ فیملی کو مدنظر رکھ کر بناتے ہیں۔۔۔۔ بھئی خوب اگر ایسا ہی تھا تو آپ نے وہ سین فلمایا ہی کیوں اور پھر اس کی اتنی پبلسٹی کیوں کرائی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

امتیاز کا انکار

Image caption امتیاز علی کو بالی وڈ کے نوجوان ہدایتکاروں میں اہم مقام حاصل ہے

ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’جب وی میٹ‘ اور ’لو آج کل‘ سپر ہٹ فلمیں تھیں یہ دونوں فلمیں رومانٹک فلمیں تھیں یہ تو آپ مانتے ہیں نا تو پھر آپ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے نا کہ جو ہدایت کار ایسی فلمیں بنا سکتا ہے تو پھر وہ کتنا رومانٹک ہو گا! آپ کہیں گے جی ہاں ہو گا ہی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہیں۔ کیونکہ وشال بھردواج نے جب امیتاز علی کو اپنی فلم ’ایک بٹا سات‘ میں اداکاری کے لیے لیا تو پہلے وہ تیار ہو گئے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ پرینکا چوپڑہ کے سامنے شاعر بن کر انہیں رِجھانا ہے تو شرمیلے امتیاز نے انکار کر دیا۔

مائی نیم از خان اب جرمن میں

Image caption مائی نیم از خان ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی ہے

شاہ رخ اور کاجول کی فلم ’مائی نیم از خان‘ کی انڈیا اور بیرونِ ملک کامیابی کے بعد اب فوکس سرچ لائٹ کمپنی اس فلم کو جرمنی اور ترکی زبان میں ڈب کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ڈسٹری بیوٹر کمپنی فوکس کے سی ای او سنجے سنگھ کے مطابق فلمساز کرن جوہر کے ذریعہ دیے گئے امن کے پیغام اور شاہ رخ کاجول کی اداکاری کی وجہ سے فلم نے پینتالیس ممالک میں تعریف بٹوری اس لیے اب وہ اسے جرمنی اور ترکی جیسے ممالک میں ریلیز کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان دو زبانوں میں ڈبنگ جاری ہے۔

قطرینہ کی تربیت

Image caption قطرینہ کیف گزشتہ برس کی مقبول ترین اداکاراؤں میں سے ایک ہیں

قطرینہ کو شاید کسی نے کبھی اداکاری کی تربیت دی ہو لیکن انہیں ہندی سکھانے کے لیے فلم ’راج نیتی‘ کے تمام اداکار ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اب چونکہ فلم مکمل ہو چکی اور ڈبنگ کا کام جاری ہے اس لیے فلم کے اداکار اجے دیوگن اور نانا پاٹیکر اور بے شک رنبیر کپور انہیں خالص ہندی بولنے میں مدد کرتے ہیں۔ کیٹ بے بی صبح سے ہی سٹوڈیو آجاتی ہیں اور دیر رات تک کام کرتی ہیں۔ مزہ تو شمالی ہند کی ریاست بہار میں آیا تھا جب ہدایت کار پرکاش جھا نے ان سے کہا تھا کہ وہ یہاں لوگوں سے کہہ دیں کہ ’ کا حال با‘ (کیا حال ہے؟) اور کیٹ بے بی حال با کو ملا کر ’حلبا‘ یعنی حلوہ کہتی رہیں۔ بڑی مشکل سے انہیں سمجھ میں آیا اور آخر انہوں نے کہہ دیا اور بہار کے لوگ ان کے اس طرح کہنے پر لوٹ پوٹ ہو گئے۔

تبو سیکس ورکر

Image caption تبو اس سے قبل بار گرل کا کردار نبھا چکی ہیں

باصلاحیت اداکارہ تبو اب کولکتہ کے سونا گھاچی علاقہ کی ’جسم فروش‘خاتون کا رول کریں گی۔ سونا گھاچی علاقہ کولکتہ کا بدنام علاقہ ہے۔ حالانکہ تبو نے اس سے قبل مدھر کی فلم ’چاندنی بار‘میں بیئر بار گرل کی اداکاری کی تھی لیکن جسم فروش خاتون کا یہ کردار ان کے لیے ایک چیلنج ہو گا۔

عامر کی جیت

اداکار عامر خان اور نغمہ نگار جاوید اختر کے درمیان کاپی رائٹس حقوق کی ایک میٹنگ میں گرما گرم بحث کے بعد عامر نے اس پینل سے استعفے دے دیا۔ عامر بضد تھے کہ کسی بھی نغمے کی مقبولیت کےلیے اس میں کام کرنے والے اداکار کا حصہ زیادہ ہوتا ہے لیکن جاوید اختر اس نغمہ کے بول کو اس کی کامیابی مانتے ہیں۔ خیر بحث ختم ہوئی کیونکہ استعفے کے بعد انسانی وسائل کے مرکزی وزیر نے بذات خود عامر سے اس پینل میں واپسی کی اپیل کی جسے عامر نے مان لیا۔

اسی بارے میں