پائریسی کے خلاف امریکہ، بھارت اتحاد

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ نے بھارت میں پائریسی یا فلموں کی جعلی کاپیاں بنانے کے خلاف مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بالی ووڈ کی فلمیں
Image caption کئی فلمیں ابھی مارکیٹ میں بھی نہیں آتیں لیکن ان کی غیر قانونی کاپیاں پہلے ہی بن جاتی ہیں

اس سلسلے میں بھارت کی سات فلم ساز کمپنیوں نے امریکی فلم ساز کمپنیوں کی تنظیم موشن پکچرز ایسوسی ایشن آف امریکہ (ایم پی اے اے) کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے جو سنیما مالکان کے تعاون سے ان پائریٹس یا فلم کی نقل بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے کام کرے گی جو فلم دیکھنے کے بہانے چھوٹے ویڈیو کیمروں کی مدد سے فلم کی کاپی بناتے ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں بی بی سی کی علاقائی ایڈیٹر ایلیٹرا نے سمتھ کے مطابق بھارت میں فلموں کی غیرقانونی کاپیوں کی ستر کروڑ ڈی وی ڈیز ہر سال فروخت ہوتی ہیں جن میں نوے فیصد ڈی وی ڈیز میں وہ فلمیں ہوتی ہیں جو سنیما میں جانے والے فلم بین ویڈیو کیمروں کی مدد سے بناتے ہیں۔

اس پائریسی کے نتیجے میں بالی ووڈ کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

Image caption پائریسی کے خلاف بھارت کی سات فلمساز کمپنیوں نے امریکی فلمساز کمپنیوں کی تنظیم کے ساتھ مل کر اتحاد بنایا ہے

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق امریکی فلم سازوں نے پائریسی کے خلاف پہلے سے ہی یورپ اور ہانگ کانگ کے فلم سازوں کے ساتھ اس طرح کے اتحاد بنائے ہوئے ہیں لیکن اب بھارتی فلم انڈسٹری نے بھی اپنے بڑھتے ہوئے حجم کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہے۔

ایم پی اے اے کے چیئرمین ڈین گلکمین کہتے ہیں کہ بعض اوقات تو سنیما گھروں تک فلم پہنچنے سے پہلے ہی اسکی ڈی وی ڈیز بازار میں فروخت ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

’اس کو روکنا ہو گا۔‘

بالی ووڈ کے فلم میکر یش چوپڑہ کے مطابق ہر سال بھارتی فلمی صنعت کو پائریسی کی وجہ سے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب اس جرم کی بات ہوتی ہے تو انڈیا ایسا کرنے والے دنیا کے پہلے دس ممالک میں اول نمبر پر آتا ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق بھارتی صارفین ہر سال سات سو ملین غیر قانونی ڈی وی ڈیز خریدتے ہیں اور اس طرح فلمی صنعت کو ہر سال 959 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

اسی بارے میں