’شدت پسندی پر لکھنا فیشن بن گیا ہے‘

برطانیہ میں مقیم پاکستانی افسانہ نگار اور عالمی ادب کے پروفیسر عامر حسین کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام مصنفین کے لیے عشق، محبت اور زندگی کے تمام موضوعات ایک جیسے ہوتے ہیں مگر نائن الیون کے بعد پاکستانیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف شدت پسندی، دہشتگردی اور بنیاد پرستی جیسے موضوعات پر لکھیں۔

مصنف عامر حسین
Image caption عامر حسین کراچی ادبی فیسٹیول میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے

ان کے مطابق باہر کے لوگ کی توقع کی وجہ سے پاکستانی مصنفوں میں دہشت گردی اور بیناد پرستی پر لکھنا فیشن سا بن گیا ہے۔

عامر حسین کے مطابق جب شدت پسندی پر لکھنے کا فیشن ختم ہوجائے گا تو پھر دیکھا جائِے گا کہ ہم لوگ کیا لکھ رہے ہیں اورہماری اہمیت کیا ہے۔

عامر حسین انیس سو پچپن میں کراچی میں پیدا ہوئے اور انیس سو ستر میں برطانیہ ہجرت کرگئے اور لندن میں مستقل سکونت اختیار کرلی ہے۔ عامر نے انگریزی میں افسانوں کی پانچ کتابیں لکھی ہیں جن میں ’مرر ٹو دی سن‘ ’دِس ادر سالٹ‘ اور ’انسومنیا‘ شامل ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک ناولٹ ’این ادر گل موہر ٹری‘ لکھا ہے جو برطانیہ کے ساتھ بھارت میں بھی شائع ہوچکا ہے۔

عامر حسین نے اپنے تازہ ناولٹ کے بارے میں بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس چھوٹے ناول میں ایک پاکستانی صحافی ادیب اور اس کی انگریز بیوی کی زندگی کی کہانی بتائی گئی ہے۔ عامر حسین کے مطابق ناول میں پاکستانی صحافی اور ادیب انگریز مصورہ سے شادی کرتا ہے۔ انگریز مصورہ پاکستان میں آتی ہے تو مقامی ماحول میں اس کی دلچسپی ہو جاتی ہے۔ وہ بچوں کی تصاویر بناتی ہے اور مقبول ہوجاتی ہے۔ مگر دوسری جانب اس کے شوہر کی تحریروں کو کم پڑھا جاتا ہے۔ انگریز بیوی کی مقبولیت سے پاکستانی لکھاری کو جلن ہوجاتی ہے مگر ناول میں یہ بتایا گیا کہ بعد میں کیسے ان کے درمیاں سمجھوتا ہوتا ہے۔

عامر حسین حالیہ دنوں کراچی ادبی فیسٹیول میں شرکت کے لیے خصوصی طور پاکستان پر پہچنے تھے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ تیرہ سال کی عمر میں پاکستان سےبرطانیہ چلے گئے تھے اور بعد میں صرف دو مرتبہ پاکستان آسکے ہیں۔

عامر حسین لندن کی ایک یونیورسٹی میں عالمی ادب اور خصوصی طور پر افسانہ نگاری پڑھاتے ہیں جبکہ انڈیپینڈنٹ اخبار کے لیے کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے ہیں۔

عامر حسین کا کہنا ہے کہ وہ اردو ادب شوق سے پڑھتے ہیں مگر گزشتہ پانچ چھ برسوں سے انہوں نے کم پڑھا ہے۔ جبکہ ان کے پسندیدہ اردو ادیبوں میں قرت العین حیدر، غلام عباس، شفیق الرحمان، فہمیدہ ریاض اور دیگر شامل ہیں۔