’ہر جگہ ماحول مذہبی ہوتا جا رہا ہے‘

معروف ناول نگار بیپسی سدھوا نے کہا ہے کہ’ آج کل صرف پاکستان ہی نہیں ہر جگہ ماحول کچھ مذہبی ہوتا جا رہا ہے۔ انڈیا، امریکا اور اسرائیل میں بھی جہاں آپ دیکھیں کچھ مذہبی جوڑ ضرور نظر آتا ہے۔ سب کو اپنے مذہب کا خیال آتا ہے، حالانکہ وہ سارے مذاہب ایک جیسے ہیں، خاص طور ابراہیمی مذاہب ایک طرح کے ہوتے ہیں۔‘

بیپسی سدھوا
Image caption بیپسی سدھوا انیس سو اڑتیس میں کراچی کے ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوئیں

بیپسی سدھوا حالیہ دنوں پاکستان کے پہلے ادبی میلے کے سلسلے میں کراچی پہنچی تھیں۔ بیپسی سدھوا کا شمار پاکستان کے ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے انگریزی زبان میں کتاب لکھنے کے ابتداء کی تھی۔

بیپسی سدھوا، جو بچپن میں پولیو کی وجہ سے بیمار تھیں اور کتابیں پڑھ کر اپنا وقت گزارتی تھیں، انہوں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کتابیں پڑھنے سے ایک سکون سا آجاتا ہے، غصہ اتر جاتا ہے، جذبات بھی کچھ ٹھیک ہوجاتے ہیں، تو پڑھنا لازمی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو انسان پڑھتا لکھتا ہے وہ ہنگاموں کی طرف نہیں جاتا، وہ صرف مذہب، مذہب اور مذہب نہیں سوچتا اور اس کی سوچ بڑھ جاتی ہے۔‘

بیپسی سدھوا انیس سو اڑتیس میں کراچی کے ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔بعد میں ان کاخاندان لاہور منتقل ہوگیا اور انہوں نے لاہور میں عورتوں کے لیے مخصوص کنیرڈ کالج سے بیچلر ڈگری حاصل کی۔وہ شادی کے بعد ممبئی منتقل ہوگئیں مگر پانچ سال بعد دوبارہ لاہور واپس آگئیں۔وہ حالیہ دنوں امریکی شہر ہیوسٹن میں رہتی ہیں مگر اپنے آپ کو پنجابی پارسی انڈین پاکستانی کہتی ہیں۔

بیپسی نے بتایا ہے کہ وہ جب بھی لاہور جاتی ہیں تو بانو قدسیہ ان کے لیے بڑی دعوت کا اہتمام کرتی ہیں اور معروف اردو ادیبوں کو بھی مدعو کرتی ہیں۔اشفاق احمد ان کے عزیز دوست تھے اور وہ ان دونوں کے توسط سے کئی اردو ادیبوں سے ملاقات کرچکی ہیں۔

بیپسی سدھوا نے ’ کرو ایٹرز‘ سے لیکر ’آئس کینڈی مین‘ تک کئی کتابیں لکھیں ہیں اور جب ان سے اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکرا کر کہا ’آپ کا یہ سوال تو ایسے ہوگیا کہ آپ والدین سے پوچھیں کہ تمام بچوں میں سے ان کا سب سے پیارا بچہ کون سا ہے۔ کیونکہ والدین کو مختلف اسباب کے لیے سارے بچے پیارے ہوتے ہیں، تو کتابوں کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے، مجھے اپنی ساری کتابیں الگ الگ اسباب کی وجہ سے بہت پسند ہیں۔‘

بیپسی سدھوا نے بتایا ہے کہ’ کرو ایٹرز‘ پارسی قوم پر پہلی کتاب لکھی گئی ہے جو بڑی مزاحیہ ہے اور انہوں نے چھ مہینوں میں مکمل کر لی تھی۔ بیپسی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی کرو ایٹرز پڑھتی ہیں تو بہت ہنستی ہیں اور ان کا موڈ اچھا ہوجاتا ہے۔

بیپسی سدھوا نے اپنی حالیہ مصرفیات کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ افسانوں کی کتاب پر کام کر رہی ہیں۔ بیپسی کا کہنا ہے کہ اب ناول لکھنے کی طاقت نہیں رہی ہے اور افسانے آسان میڈیم ہے اس لیے وہ تھوڑے بہت افسانے لکھنے میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں